مجیب الرحمن شامی، جاوید چودھری، عرفان صدیقی، عطاالحق قاسمی، سہیل وڑائچ اورطلعت حسین جیسے عظیم صحافی اور دانشور اور

0
1402
مجیب الرحمن شامی، جاوید چودھری، عرفان صدیقی، عطاالحق قاسمی، سہیل وڑائچ اورطلعت حسین جیسے عظیم صحافی اور دانشور

اور

مولانا فضل الرحمن جیسے عظیم فلسفی (کیونکہ انکا موقف آج تک کسی کو سمجھ نہیں آیا) اور عالم 

کو بھاڑ کی طرح منہ کھولے یہ سوالات کیوں نظر نہیں آتے کہ ۔۔۔

شریف خاندان کے دنیا کے چار ممالک میں پھیلے دو فیکٹریوں، قطر میں سرمایہ کاری اور لنددن میں تین آفشور کمپنیوں اور انکی ملکیت اربوں روپوں کی جائداد پر مشتمل کاروبار کے تمام تر کاغذات صرف ایک قطری خط پر کیوں مشتمل تھے؟؟

افشورکمپنیوں اور لندن پراپرٹی کی ملکیت عین پانامہ لیکس کے وقت ہی کیوں تسلیم کی گئی جبکہ اس سے پہلے 20 سال تک مسلسل انکار کیا جاتا رہا؟؟

خاندان کے تمام افراد کے بیانات میں تضادات کیوں ہیں؟؟

جن برطانوی اور امریکی اخبارات نے میاں نواز شریف کی دولت کا انکشاف کیا اگر وہ جھوٹے ہیں تو ان پر کیس کیوں نہیں کیا جاتا؟؟

“دولت کہاں سے آئی اور باہر کیسے گئی” کا جواب دے دینے سے کونسی قیامت آجائیگی ؟؟

انکی جگہ یہ مردود صحافی اور یہ حرام خور ملا ۔۔۔ ڈیڑھ سال تک دن رات عوام کو یہ پٹی پڑھاتے رہے کہ درحقیقت یہ سوالات کرنے والوں کے پیچھے کوئی اور قوت ہے جو سازش کر رہی ہے۔

آج مولانا نے یہ بھی فرما دیا کہ ” نیب آمریت کی پیدوار ہے اسکو نہیں مانتا” ۔۔

مولانا اس طرح تو نواز شریف پورا کا پورا آمریت کی پیدوار کہلاتا ہے اس کے تلوے چاٹنے کی کوئی خاص وجہ ؟؟؟؟

لعنت ہو انکی دانشوری پر انکی صحافت پر اور انکی بصیرت پر ۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here