ماڈل ٹاؤں میں پولیس نے 14 لوگوں بشمول حاملہ خواتین، دن دھاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

0
235
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار سالوں میں چار بڑی سازشیں ہوئیں۔

گنتی کا مطالبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران خان نے انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگایا اور چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔

نواز شریف نے انکار کر دیا۔

تاریخی دھرنا ہوا۔ بقول میاں صاحب کے کھربوں کا نقصان، بلاآخر گنتی کروائی تو تین حلقوں میں گڑ بڑ نکل آئی۔

میاں صاحب نے کہا یہ میرے خلاف سازش تھی۔

گنتی کروا لیتے تو سازش سے بچ جاتے۔ کیوں نہیں کروائی؟؟

ایف آئی آر کاٹنے کا مطالبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماڈل ٹاؤں میں پولیس نے 14 لوگوں بشمول حاملہ خواتین، دن دھاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

ایف آئی آر کاٹنے کا مطالبہ ہوا تاکہ تحقیقات ہو سکیں۔

نواز شریف نے انکار کر دیا۔

دھرنا ہوا۔ دھرنے کے خلاف دوبارہ پولیس ایکشن ہوا اور مزید 15 لوگوں کی جانیں گئیں۔ بالاخر ایف آئی آر کاٹ لی گئی۔

نواز شریف نے کہا یہ میرے خلاف سازش ہے۔

ملوث لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ لی جاتی تو سازش نہ ہوتی۔ کیوں نہیں کاٹنے دی؟؟؟

رسیدیں دکھانے کا مطالبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حسین نواز نے ” الحمد اللہ ” کہہ کر اربوں کی پراپرٹی کا اعتراف کیا۔
جنکی ملکیت سے شریف خاندان ہمیشہ انکار کرتا رہا۔
پھر پانامہ لیکس میں بھی وہی فلیٹس سامنے آئے تو سوال کیا گیا کہ ” دولت کے یہ انبار کہاں سے آئے؟”

نواز شریف نے جواب دینے سے انکار کردیا۔

بلاآخر معاملہ عدالت گیا تو نواز شریف کو دو سال تک مسلسل وقت دیا گیا کہ کچھ تو دکھا دیں کہ دولت کہاں آئی اور لندن کیسے گئی ؟ کوئی ایک رسید ؟

نواز شریف نے اس کو اپنے خلاف سازش قرار دیا۔ یہ بھی فرمایا کہ اسکی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

رسید یا کاغذ دکھا دیں تو یہ سازش ایک منٹ میں ختم ہوسکتی ہے۔ کیوں نہیں دکھا رہے؟؟

رپورٹ پبلش کرنے کا مطالبہ ۔۔۔۔۔۔

جے یو آئی اور ن لیگ نے ملکر “نااہل” کو سربراہ بنانے کی ترمیم منظور کی۔
لیکن اس ترمیم میں چار مختلف جگہوں پر ایسی تبدیلیاں کی گئیں جس کے بعد نہ صرف قادیانی بطور مسلمان ووٹ دینے کے قابل ہوگئے بلکہ ختم نبوت والا قانون بھی خطرے میں پڑ گیا۔

پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ترمیم واپس لینے اور ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ ہوا۔

ترمیم واپس لینے کا اعلان ہوا۔

لیکن ذمہ داروں کو سامنے لانے سے انکار کردیا۔

مذہبی جماعتوں نے دھرنا دیا۔

نواز شریف نے کہا یہ میرے خلاف سازش ہے۔

پولیس ایکشن ہوا۔ درجنوں لوگوں کی جانیں گئیں۔

راجا ظفر الحق کی رپورٹ تیس دن میں پبلش کرنے کے وعدے پر دھرنا ختم کیا گیا۔

آج چالیس دن ہونے کو ہیں اور وعدہ پورا نہیں کیا جارہا۔

وہ لوگ دوبارہ نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر نکل آئے تو نواز شریف اسے بھی سازش قرار دے گا۔

راجا ظفرالحق کی رپورٹ پبلش کرکے وہ اس سازش کو ابھی سے روک کیوں نہیں لیتے؟

کے پی کے میں ضم ہونے کا مطالبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سازش ابھی ہونی ہے۔

فاٹا اصلاحات کے تحت فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی۔
پورے فاٹا نے حمایت کی۔
فاٹا کے منتخب اراکین نے حمایت کی۔
فاٹا کے طلباء تنظیموں نے حمایت کی۔
فاٹا کے عمائدین نے حمایت کی۔
پاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعتیں نے حمایت کی۔

لیکن نواز شریف کے اتحادیوں محمود اچکزئی اور فضل الرحمن جنکا فاٹا سے کوئی تعلق نہیں، نے مخالفت کی۔

نواز شریف نے یہ فیصلہ رکوا دیا۔ فاٹا کے منتخب اراکین اور قبائیلی عمائدین کے مطالبات کو نظر انداز کر دیا گیا۔

اب وہ لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ لانگ مارچ اسلام آباد آیا تو نواز شریف اسے بھی اپنے خلاف سازش قرار دیگا۔

فاٹا والوں کا مطالبہ مان کر اس سازش کو ابھی سے ناکام کیوں نہیں بنا لیتا؟

یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ ساری سازشیں نواز شریف خود اپنے خلاف کررہا ہو۔

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here