ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ میں انتہائی حیرت انگیز نکتہ۔

0
541

ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ میں انتہائی حیرت انگیز نکتہ۔ 17 جون 2014 کو جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کےلیے یک رکنی کمیشن کا قیام کیا گیا تھا۔
جب جسٹس باقر نجفی کی تحقیقاتی رپورٹ جمع کروانے کے بعد پنجاب حکومت نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور پھر 13 نومبر 2014 کو ایک نئی تحقیقاتی کمیٹی پنجاب حکومت نے بنائی جس کی سربراہی سی سی پی او کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تحقیقاتی رپورٹ جسٹس باقر نجفی نے 13 نومبر 2014 سے بھی پہلے مکمل کر کے پیش کر دی تھی اس میں 2017-06-16 کو ہونے والی میٹنگ کا حوالہ کیسے اور کہاں سے دیا جا سکتا ہے؟
یہ تو کیلیبری فونٹ سے بھی بڑی جعل سازی لگ رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here