ماسکو کا کریملن، ماسکو کا قدیم ترین حصہ ہے جسے دنیا کے خوبصورت طرز ہائے تعمیر میں شامل کیا جاتا ہے

0
588

ماسکو کا کریملن
ماسکو کا کریملن، ماسکو کا قدیم ترین حصہ ہے جسے دنیا کے خوبصورت طرز ہائے تعمیر میں شامل کیا جاتا ہے۔ کریملن میں ہی روس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔
کریملن تکون کی شکل میں قلعے کی صورت ہے جس کی سرخ اینٹوں سے چنی گئی اونچی دیواریں ہیں۔ یہ دریائے ماسکو کے بائیں کنارے کے ایک ٹیلے پر واقع ہے۔ اس کی جنوبی دیوار کا رخ دریا کی جانب ہے، شمالی “الیکساندروسکی ساد” (اسکندر باغ) سے ملحق ہے اور مشرقی دیوار کے پیچھے سرخ میدان ہے۔ کریملن کے اندر مختلف ادوار کی تاریخی یادگاریں ہیں۔
موجودہ کریملن کے مقام پر پہلا قلعہ بارہویں صدی کے وسط میں لکڑی سے تعمیر کیا گیا تھا۔ ماسکو کا بطور شہر کے تذکرہ پہلی بار 1147 کے ایک مخطوطے میں ملتا ہے۔ 1340 میں نئے اور زیادہ مضبوط قلعے کی تعمیر مکمل ہوئی تھی جس کی دیواریں لکڑی کے بھاری لٹھوں سے بنائی گئی تھیں۔ منگول تاتار غول کے حملوں کے دوران ماسکو کا کریملن کئی بار تباہ ہوا، جلایا گیا مگر پھر سے تعمیر ہوتا رہا۔ 1365 میں کریملن کے اندر “چودوو” راہب کدے کی بنیاد رکھی گئی۔ 1366 اور 1367 میں ماسکو کے کریملن کی دیواریں سفید پتھر سے چنی گئی تھیں۔ اسی وجہ سے “سفید پتھروں والے ماسکو” کی اصطلاح رائج ہوئی تھی۔ پندرہویں صدی کے دوسرے نصف اور سولہویں صدی کے اوائل میں طے ہوا تھا کہ کریملن کو ماسکو والے روس کا زبردست مرکز بنا دیا جائے۔ تب ہی ماسکو کے کریملن کی دیواروں کو سرخ رنگ کی اینٹوں سے چنا گیا تھا۔ 1485 تا 1495 میں اطالوی معماروں نے ماسکو کے کریملن کی دیواروں اور برجیوں کو پھر سے بنایا تھا جس کے بعد غیر ملکی سیاح اسے اکثر “قلعہ” کہہ کر موسوم کرنے لگے تھے۔ برجیاں اور دیواروں کا اوپر والا حصہ اس زمانے کے اطالوی طرز تعمیر کی یاد دلاتا ہے۔ مگر دیگر یورپی قلعوں کی طرح ماسکو کا کریملن صرف مخصوص لوگوں کی بجائے ماسکو کے تمام باسیوں کی حفاظت کرتا تھا۔ اس میں عام زندگی کے تمام ہی انگ تھے۔ اس میں کلیسا تھے، راہب کدہ تھا اور پورے روس کی عیسائی مقدّس ہستیوں کی یادگاریں بھی اس لیے کریملن کو پورے روس میں “خاص ریاستی جائے مقدس” خیال کیا جانے لگا تھا۔
نئے قلعے کو مضبوط بنائے جانے کا کام 1485 میں شروع کیا گیا تھا۔ ایک ایسا برج بنایا گیا تھا جس کے اندر سے ایک خفیہ راستہ دریائے ماسکو پر جا کر کے کھلتا تھا۔ اسی لیے اس برج کو “رازدارانہ” کہا جانے لگا تھا۔ برج بنانے کے لیے اینٹ پہلی بار استعمال کی گئی تھی۔ اس برج کی تعمیر کے بعد اس قلعے کو باقاعدہ “ماسکو کریملن” کا نام دے دیا گیا تھا۔ یہ برج دریا کی جانب سے کریملن کا تحفظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
1490 میں قلعے کے جنوبی حصے کی مکمل تعمیر نو کی گئی تھی۔ 1516 میں سرخ میدان کے جانب والی دیوار کے باہر خندق کھودی گئی تھی۔ خندق کے آخری کناروں اور دریائے ماسکو کی جانب کنگروں والی دیواریں تعمیر کر دی گئی تھیں۔
دیواروں کی کل طوالت دو کلومیٹر سے زیادہ ہے، بلندی پانچ سے انیس میٹر اور موٹائی ساڑھے تین سے ساڑھے چھ میٹر ہے۔ دیواروں کے باہر حرف ایم جیسے کنگرے بنائے گئے ہیں۔ کریملن کے کل برج بیس ہیں۔
اہم ترین برج “سپاسکایا برج” ہے۔ اس کا در سرخ میدان کی جانب کھلتا ہے جو ہمیشہ سے اہم ترین پریڈ کا حصہ رہا ہے۔ سولہویں صدی میں اسے گھڑیال سے مزیّن کر دیا گیا تھا۔
پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کے اوائل میں کریملن کا بڑا میدان بنایا گیا تھا۔ اس میں آج موجود گرجا گھر بھی تبھی تعمیر کیے گئے تھے۔ 1505 سے 1508 تک بڑے میدان میں بڑی گھنٹی نصب کیے جانے کا کام ہوا تھا۔ ایک سو سال کے بعد اس مینار پر ایک اور حصہ تعمیر کیا گیا تھا، اب اس گھنٹی والے مینار کی اونچائی 81 میٹر تک جا پہنچی تھی۔ یہ شہر کی بلند ترین تعمیر تھی۔ 1610 میں کریملن پر پولینڈ کی فوج نے قبضہ کر لیا تھا جسے 1612 میں کوزما مینین اور دمیتری پژارسکی کی سرکردگی میں عوامی دستوں نے آزاد کرایا تھا، جن کی یادگار 1818 میں سرخ میدان میں تعمیر کروائی گئی تھی۔
سترہویں صدی میں کریملن میں تعمیرات جاری رہی تھیں۔ تریمنوئی محل اور ایوان پاتری آرش تعمیر کیے گئے تھے۔ اٹھارویں صدی کے شروع میں کریملن کے اندر سینیٹ کی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ 1812 کی جنگ حب الوطنی کے دوران نپولین کی فوجیں ماسکو میں داخل ہو گئی تھیں۔ کریملن پر قبضے کی خاطر فرانسیسیوں نے دیوار کے کچھ حصے مسمار کر دیے تھے۔
انیسویں صدی میں کریملن میں “بالشوئے کریملیووسکی دووریتس” یعنی “کلاں ایوان کریملن” اور “ایوان اسلحہ” تعمیر کیے گئے تھے۔ گھنٹی والے پرج کے نیچے پتھروں کے چبوترے پر شاہی گھڑیال نصب کیا گیا تھا جو دنیا میں دھات سے ڈھالا گیا سب سے بڑا گھڑیال تھا۔ اس گھنٹے کی اونچائی چھ میٹر اور وزن 200 ٹن سے زیادہ ہے۔ یہیں شاہی توپ کھڑی ہے جو سولہویں صدی میں بنائی گئی تھی اور اس کا وزن چالیس ٹن ہے۔ 1917 کے انقلابی واقعات کے دوران کریملن میں داخلے کے لیے لڑائیاں ہوئی تھیں، جانی نقصان ہوا تھا۔ 1918 سے 1922 تک کریملن کے اندر سینیٹ کی عمارت میں انقلاب کے رہنما ولادیمیر لینن کا دفتر اور گھر واقع تھا۔ ان کے بعد 1953 تک سوویت یونین کے سربراہ ایوسف سٹالن نے اس دفتر اور گھر کو استعمال کیا تھا۔ اس عرصے میں کریملن میں لوگوں کا داخلہ منع رہا تھا۔ 1935 میں کریملن کے برجوں سے بازوں کی چار شبیہیں، جو بادشاہت کی نشانی تھیں، اتار لی گئی تھیں اور ان کی جگہ پانچ کونوں والے ستارے لگا دیے گئے تھے۔ 1937 میں کریملن کے برجوں پر لعل جڑے ہوئے جگمگانے والے ستارے لگا دیے گئے تھے۔ ان کے سائز مختلف ہیں تین سے ساڑھے چار میٹر تک۔
مذہب مخالف پرچار کے دوران 1929 میں کریملن میں موجود قدیم عیسائی راہب کدے کو ڈھا دیا گیا تھا۔ 1961 میں کریملن کے احاطے میں ایوان اجلاس تعمیر کیا گیا تھا، جس میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے بڑے اجلاس، بین الاقوامی کانگریس اور فورم ہوا کرتے تھے۔ 1961 میں ہی کریملن کے گرجا گھر اور ایوانوں کو میوزیموں میں بدل دیا گیا تھا۔ 1990 میں ماسکو کے کریملن کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں درج کر لیا گیا تھا۔ 2014 میں برج سپاسکایا کا در جو اس سے پہلے صرف صدر کے قافلے کے لیے یا سال میں ایک بار دسمبر کے آخر میں کریملن کے اندر نیا “کرسمس ٹری” لے جانے کے لیے ہی کھلا کرتا تھا، سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا تھا چنانچہ اب سرخ میدان سے ہی کریملن میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here