ماسکو پانچ سمندروں کی بندرگاہ ہے

0
773

ماسکو پانچ سمندروں کی بندرگاہ ہے

ماسکو سے پانچ سمندروں تک بہنچنا ممکن ہے- یہ بحیرہ بالٹک، بحیرہ سفید، بحیرہ اسود، بحیرہ آزوف اور بحیرہ کیسپین ہیں- روسی دارالحکومت وسیع وعریض میدان میں واقع ہے جس سے والگا، ڈان اور دنیپر جیسے بڑے دریا گزرتے ہیں- اس کے علاوہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس کا دارالحکومت دریائے ماسکو کے کناروں پر تعمیر کیا گیا- دریائے والگا، ڈان اور دنیپرکے ذریعے مال کو ماسکو کے راستے، شمال سے خنوب اور خنوب سے شمال پہنچائے جانے کا کام پرانے زمانے سے اب تک جاری ہے- قدیم دور میں اس راستے کو “سویڈن سے یونان تک” لے جانے والی راہ کہا جاتا تھا- اس وقت وہاں پر نہریں نہیں تھیں- اس لئے تاجروں کو اپنی لکڑی کی بنی بڑی بادبانی کشتیوں کو خشکی پر ایک ندی سے دوسری ندی تک کھینچنا پڑتا تھا- 1937 میں 128 کلومٹر لمبی “ماسکو نہر” کھو دی گئی تھی، جو دریائے ماسکو کو دریائے والگا سے ملاتی ہے- 2 دیگر نہوں کے راستے، دریائے والگا سے بحیرہ سفید، بحیرہ ابیض، بحیرہ بالٹک اور بحیرہ کیسپین تک پہنچنا ممکن ہے- 1957 میں والگا ڈان نہر کھو دی گئی تھی، جس کی بدولت ماسکو سے مزید دو بحیروں یعنی بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود تک راہ ہموار ہوگئی- جہازرانی کے لئے مناسب حالات پیدا کرنے کے مقصد سے نہروں کے کناروں پر کئی پمپ سٹیشن اور دیگر اہم تکنیکی ٹھکانے تعمیر کئے گئے- وہاں پر چند بجلی گھر بھی موجود ہیں-

ماسکو میں تین بڑی بندرگاہیں، دو ریور سٹیشن، بہت سے گھاٹ اور گودیاں بھی ہیں- ماسکو میں اور اس کے نواحی علاقوں میں تیز رفتار موٹر بوٹوں کے ذریعے مسافروں کی منتقلی کا انتظام کیا گیا ہے- چھٹی کے دنوں ماسکو والے بڑے جہازوں اور موٹر بوٹوں کے ذریعے کسی صحت گاہ یا کسی پڑوسی شہر جا سکتے ہیں- مثال کے طور پر ہمارے ہاں تویر، اوُگلیِچ، کولومنا جیسے قدیم شہروں کی سیر بہت مقبول ہے- دریائے ماسکو پر جہازرانی سالانہ ماہ مئی میں شروع ہو کر اکتوبر یا نومبر میں ختم ہو جاتی ہے جب دریا کا پانی جم جاتا ہے-
موسم گرما میں سیاح آرام دہ اور تمام سہولیات والے جہازوں کے ذریعے لمبا سفر کرنا پسند کرتے ہیں- بہت سے لوگ اسی طرح چھٹی گزارتے ہیں- راستے میں جہاز سبھی بڑے اور چھوٹے شہروں میں رکتے ہیں جس کی بدولت سیاہوں کو ان کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ ان کی تاریخ، یادگاروں اور عجائب گھروں سے متعارف ہونے کا بھی موقع ملتا ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here