مارچ تک پاکستان نے عالمی مالیاتی اداروں کو 11.3 ارب ڈالر سود کی مد میں ادائیگی کرنی ہے۔ جسکی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

ایک آپشن تو یہ ہے کہ برازیل کی طرح ڈیفالٹر بن جائیں اور قرضوں کی ادائیگی سے ہی یکسر انکار کر کے ملک میں معاشی ایمر جنسی نافذ کر دیں۔ اگر ایسا نہیں کرنا تو ایک آپشن اور بھی ہے ۔۔۔۔۔۔

0
902

ایک بات آرہی تھی کھوپڑی میں ۔۔۔۔

مارچ تک پاکستان نے عالمی مالیاتی اداروں کو 11.3 ارب ڈالر سود کی مد میں ادائیگی کرنی ہے۔ جسکی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

ایک آپشن تو یہ ہے کہ برازیل کی طرح ڈیفالٹر بن جائیں اور قرضوں کی ادائیگی سے ہی یکسر انکار کر کے ملک میں معاشی ایمر جنسی نافذ کر دیں۔

اگر ایسا نہیں کرنا تو ایک آپشن اور بھی ہے ۔۔۔۔۔۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 14 کروڑ موبائل سبسکرائبرز ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان میں سے کم از کم 10 کروڑ تو پوری طرح ایکٹیو ہیں۔

ان سب کے سمز ڈی ایکٹیویٹ کر کے 1000 روپے ایکٹیویشن چارجز لگا دیں۔
کم از کم ایک ارب ڈالر اس سے مل جائنگے۔ 10 لاکھ روپے سے زائد قیمت رکھنے والی گاڑیوں، کیبل فیس اور گیس کے بل میں عارضی ٹیکس لگا کر مطلوبہ رقم پوری کی جا سکتی ہے جس سے پاکستان کو ایک سال کی مزید مہلت مل جائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

شیر آیا شیر آیا
اگلی باری پھر زرداری
اور فضل الرحمن کی بصیرت کو سلام
جیسے نعرے لگانے والے اب ان کے کرتوتوں کی کچھ تو قیمت ادا کرینگے نا۔

ویسے موبائل کمپنیوں کا معاملہ بھی مجھے کچھ پراسرارسا لگتا ہے۔

سنا ہے پاکستان کی پانچ ٹیلی کام کمپنیوں نے پچھلے پانچ سال میں 34.6 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس ادا کیا ہے۔ یعنی تقریباً 7 ارب روپے سالانہ ۔۔۔۔۔ !

کیا واقعی ؟؟؟؟؟؟؟؟

پاکستان میں اس وقت 14 کروڑ موبائل سبسکرائبرز ہیں۔ ان میں سے اگر 10 کروڑ کو بھی ایکٹیو مان لیا جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھممممم ۔۔۔۔ 

ذرا موٹا موٹا حساب کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

24 روپے یہ 100 کے لوڈ پر کاٹ دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہر قسم کی کال اور ٹیکسٹ پر 2 روپوں پر تقریباً 1 روپے کاٹتے ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر 100 روپے میں سے 60 روپے ٹیکس کاٹ دیتے ہیں۔

10 کروڑ ایکٹیو یوزرز ہر ماہ کم از کم 500 روپے کا لوڈ تو کر ہی لیتے ہیں۔ جن میں سے 300 روپے ٹیکس کٹ جاتا ہے۔

یہ 30 ارب روپے ماہانہ اور 360 ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔
اگر ٹیلی کام کمپنیاں صرف 7 ارب روپے سالانہ قومی خزانے میں جمع کروا رہی ہیں تو یہ باقی 353 ارب کہاں جارہے ہیں ؟؟؟

سنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں نے 3 جی کے جو حقوق خریدے تھے وہ کئی سو ارب روپے بھی تاحال ان سے وصول نہیں کیے جا سکے ہیں۔

میرے خیال میں اگر کوئی اس پر جم کر تحقیق کرے تو کافی بڑے انکشافات ہوسکتے ہیں۔

پتہ چلے کہ ان کمپنیوں کے اصل مالکان بھی پارلیمنٹ میں ہی بیٹھے ہیں۔ آئی پی پیز کی طرح ۔۔۔۔۔۔ 

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔ اسحاق ڈار کے اعداو شمار کا پوسٹ مارٹم کل کرینگے ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here