لیکن ان بڑے بڑے اسلام (ملا) اور انسانیت (ملحد) کے نام نہاد علمبرداروں کا جب موت سے سامنا ہوتا ہے تو انکی زبانوں پر فالج گر جاتا ہے۔

0
4891
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا حال یہ ہے کہ ہماری گھٹیاد سی زندگی کے کسی حقیر سے پہلو پر ضرب پڑ جائے تو ہمیں نہ اپنے نام نہاد نظریات یاد رہتے ہیں نہ بلند بانگ دعوے۔

لیکن اگلا جان دے کر بھی ہمیں مطمئن نہیں کرسکتا۔ 

ارسلان کی شہادت پر ملا و ملحد کو مختلف ” تحفظات” ہیں۔ 

ملا کو یقین ہے کہ ارسلان امریکہ کی جنگ لڑ رہا تھا تو شہید کیسے؟ اور اسکو شہادت کے رتبے پر فائز کرنے سے پہلے وہ اس کے مسلک کے بارے میں بھی جاننا چاہتے ہیں۔

جبکہ ملحد کا خیال ہے کہ ” اپنا گھر صاف ہوتا” تو یہ نہ ہوتا۔ اس لیے غلطی اپنی ہی ہے۔

ان کے ان احمقانہ سوالات پر بات کرنے کے بجائے آج میں وہ سمجھانا چاہتا ہوں جسکا نظارہ یہ دونوں طبقے جلد کرینگے ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں انسان دو موقعوں پر اپنا آپ دکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ایک موت سامنے دیکھ کر
دوسرا خلوت میں

ارسلان نے تو موت کے سامنے اپنا آپ دکھا دیا۔

لیکن ان بڑے بڑے اسلام (ملا) اور انسانیت (ملحد) کے نام نہاد علمبرداروں کا جب موت سے سامنا ہوتا ہے تو انکی زبانوں پر فالج گر جاتا ہے۔ یہ یکلخت عاجزی اختیار کر لیتے ہیں اور گھٹنوں کے بل زمین پر گر جاتے ہیں بلکہ رینگنے لگتے ہیں۔ نفرت انگیز کیڑوں کی طرح۔

قانون سے ماؤراء اندھی اور بہری طاقتوں کے مقابلے میں ان کے عزم اور ایمان کا نظارہ آپ ٹی ٹی پی کے عروج کے دور میں بخوبی کر چکے ہیں۔

یہ دونوں یاد رکھیں کہ جس دن ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی انکی کوششیں کامیاب ہوئیں تو یہاں سے ہر قانون اٹھ جائیگا جس کے فوراً بعد موت انکی آزمائش کے لیے آن موجود ہوگی۔ موت کا امتحان ان پر ضرور ڈالا جائیگا ان شاءاللہ ۔۔۔ اس وقت یہ سوال کرنے والے باقی نہیں رہیں گے کہ کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اور ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔

جہاں تک خلوت کی بات ہے تو ملحدین کو تو چھوڑیں سوشل میڈیا پر جہاد، خلافت اور اسلامی نظام کے دعوے کرنے والوں کے کچھ حیران کن پیغامات کی سکرین شاٹس کبھی کبھی انباکس کر دیتے ہیں کچھ لوگ۔ آپ پڑھ لیں تو آپ کو ان سے گھن آنے لگے ۔۔۔ 

ایک آخری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے سوشل میڈیا پر لکھے گئے حب الوطنی اور سرفروشی پر منبی ہزاروں مضامین اور دن رات کی لفاظیاں محاذ پر کسی سوئے ہوئے سپاہی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ جان دینے والوں کو تو چھوڑیں ۔۔۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

 
 

Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here