لگڑ بھگوں کا تازہ پراپیگنڈہ

0
89

لگڑ بھگوں کا تازہ پراپیگنڈہ

پاک فوج کے کل کے شہداء کا تعلق آزاد کشمیر یونٹ سے تھا۔ ان کا اس پوسٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں جس پر پی ٹی ایم نے خڑ کمر میں حملہ کیا تھا۔

وزیرستان میں صرف ایک علاقہ کلئیر ہونے سے رہ گیا تھا جہاں پاک فوج نے جون کا آغاز ہوتے ہی آپریشن سٹارٹ کر دیا ہے تاکہ وزیرستان کو سو فیصد صاف کیا جا سکے۔

کل کا واقعہ اسی آپریشن کا ردعمل ہے۔

بجائے اس کے کہ پاک فوج کی اس قربانی کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور آپریشن کی حمایت کی جائے پی ٹی ایم نے پستی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے پراپیگینڈہ شروع کر دیا کہ ان کو فوج نے خود مارا۔ جواز یہ پیش کیا خڑ کمر واقعے میں ملوث تھے۔

یہ انتہائی شرمناک ہے۔

پی ٹی ایم کے اس طرز عمل سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اس آپریشن پر کس قدر تکلیف ہے۔ شائد ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ۔ غالباً اسی لیے انہوں نے چند دن پہلے فوج کے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

دہشت گردوں کے ساتھ پی ٹی ایم کی کوارڈینیشن حیران کن حد تک واضح ہے۔

خڑ کمر واقعے کے بعد ٹی ٹی پی نے پی ٹی ایم کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی اس کا بدلہ لے گی۔

دوسری جانب پی ٹی ایم کو ہر اس چیز پر تکلیف ہوتی ہے جس سے کسی بھی طرح دہشت گرد کمزور ہوں یا فاٹا میں استحکام آئے۔

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر ان کو تکلیف ہے۔
دہشت گردوں کے پکڑے جانے پر ان کو تکلیف جیسا کہ خڑ کمر میں انہوں نے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔
فاٹا میں ترقیاتی کاموں پر ان کو تکلیف۔
فاٹا میں آنے والے فنڈز پر ان کو تکلیف اور بلاؤل بھٹو کے ذریعے فاٹا کے لیے منظور ہونے والے ہزار ارب روپے بھی یہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فاٹا کو ملنے والے دس لاکھ صحت کارڈز پر ان کو تکلیف۔
فاٹا کو ملنے والی ملازمتوں پر ان کو تکلیف اور ان سرکاری ملازمتوں پر منظور پشتین ہر تقریر میں طنز کرتا ہے اور عوام کو ملازمتیں اختیار نہ کرنے پر اکساتا ہے۔

اگر فاٹا امن اور استحکام کی طرف جاتا ہے تو پی ٹی ایم کے پاس کچھ نہیں بچے گا اپنی سیاست چمکانے کے لیے۔

فاٹا کے امن اور استحکام میں پی ٹی ایم کو اپنی موت نظر آتی ہے۔ اس لیے یہ ہر اس چیز کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کو شبہ ہو کہ اس سے فاٹا کو کسی بھی طرح کا ریلیف مل سکتا ہے۔

ان کا ہر پراپیگینڈہ پکڑا جاتا ہے لیکن مجال ہے جو ان کو ذرا بھی شرم آئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here