قندھار میں ہونے والے حملے کی اہم اطلاعات ۔۔

کنفرم ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ قندھار حملوں میں بھارت ملوث ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈیا میں افغانستان کو لے کر تشویش پائی جارہی تھی جس میں امریکہ کی طالبان سے مذاکرات کی خبروں نے اہم کردار ادا کیا. اگر افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو افغان طالبان پاور میں آکر سب سے پہلے انڈین کچرا صاف کریں گے اس طرح ایک تو جہاں انڈیا کی ایشاء کا دادا بننے کی خواہش مٹی میں مل جائے گی وہیں پاکستان کو گھیرنے کا بھی ایک راستہ بند ہوجائے گا

افغانستان میں پہلے ہی انڈین بےجا مداخلت پہ آواز اٹھ چکی ہیں اور کئی اہم شخصیات حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں. بےشک جنرل رزاق ایک پاکستان دشمن خصلت کا حامل شخص تھا. لیکن یہ اس بات سے شاید ہی کوئی واقف ہو کہ انڈین کی ہر جگہ مداخلت پہ انہیں بھی تحفظات تھے. ذرائع کے مطابق افغانستان کے فوجی سربراہاں اور نیٹو فورسز کے درمیان أئے روز ملاقاتوں پہ بھی راء کے کان کھڑے ہوگئے تھے کہ امریکی فوج اپنے اتحادیوں کو واپس لے کے افغانستان سے نکلنے کے لیے پر تول رہے ہیں اور امریکہ اپنی جان بچانے کے چکروں میں اب افغانستان میں لائے انڈیا کو مذاکرات کے عمل سے مکمل طور پر نظرانداز کررہا تھا.انڈین کی خواہش اور کوشش ہے کہ نیٹو فورسز تب تک یہاں رہیں جب انڈیا کا افغانستان پر پوری طرح کنٹرول نہیں ہوجاتا. نیٹو فورسز کے جنرل ملر کو بھی افگاندستان کے مسئلہ کے حل کے لیے ایک سنجیدہ کردار کا حامل سمجھا جاتا ہے جن کہ خواہش کے کہ اب اتحاد فورسز افغانستان سے نکلے اور حقیقی طور پر افگاندستان میں امن قائم ہو.
مارے جانے والا
افغانستان ایجنسی کے چیف کے بارے میں بھی چہ مگوئیاں تھیں کہ جہاں وہ پاکستان مخالف ہے وہاں راء کی کچھ پالیسیز پہ بھی اسے اعتراض تھا جس کے بعد اس کی راء اسٹیشن چیف پرکاش سینا جو جولائی کے مہینے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا گیا تھا سے بھی تلخ کلامی ہوئی تھی جسے بھارتی تلوے چاٹ افگاندی حکومت نے رفع دفع کردیا تھا لیکن اسکے چند دن ہی بعد پرکاش سینا کو رات کے اندھیرے میں قتل کردیا گیا موہوم سی ہی سہی لیکن کچھ آوازیں اٹھی تھیں کہ قندھار کے این ڈی ایس اٹیلیجنس انچارج مومن خان سے تلخ کلامی کے نتیجہ بھگتنا پڑا کچھ ٹوئیٹر اکاؤنٹس پہ بھی اس بات کو ہوا ملی تھی لیکن حیرت انگیز طور پہ 5 روز میں ہی وہ سارے ٹوئیٹر اکاؤنٹس بند کردیے گئے. اس کے بعد راء اور این ڈی ایس میں کچھ گڑ بڑی کی افواہیں بھی گرم تھیں لیکن ایک بار پھر اشرف غنی لابی حرکت میں أئی اور راء اور این ڈی ایس کی دوریاں کم ہوئیں. قندھار کو افغانستان کا سب سے بڑا شہر کہا جاتا ہے اور اگر اہمیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دارلحکومت کابل کے بعد قندھار ہی ایک مرکز کی حیثیت سے سامنے آتا ہے.
افغانی فوج اور حکمران طبقے کے کچھ افراد میں بھارت کے خلاف آواز اٹھنے کی ابتداء تب ہوئی تھی جب انڈین فوجی افسر نے افگان لڑکی کو ہوس کا شکار بنایا اور افگاندی بغیرت حکومت نے بھارت آفیسر کو باعزت گھر بھیج دیا افگاندی آفیسرز کو سپاہی رینک کے کچھ آفیسرز نے اس پہ علمِ بغاوت بلند کیا تو ان میں سے کچھ تو جعلی حملوں میں مارے گئے اور کچھ آج تک دوبارہ منظرِ عام پر نہیں آئےکہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی راء کے پرکاش سینا کا ہی ہاتھ تھا.
بھارت کے خلاف افغانستان میں اصل مخالفت کی ابتداء قندوز حملے کے بعد سے ہی ہوئی تھی جہاں دہشتگرد انڈیا نے عالمی دہشتگرد امریکہ کے ساتھ مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے اپریل کے أخر میں ایک مدرسہ میں حفاظ کرام کی تقریبِ دستار بندی پر حملہ کیا تھا جس میں 150 سے ذیادہ حفاظ کرام شہید ہوئے تھے. اس حملہ کے بعد اندورنی ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ قندوز اور قندھار کے گورنروں نے اس پہ کڑی تنقید کرکے اپنی ہی گورنمنٹ کو شرم دلانے کی کوشش کی تھی لیکن حکومت اپنی بےغیرتی پہ قائم رہی کیونکہ جب بھی ایسی کوئی حرکت ہوتی ہے تو انڈیا افغان حکومت کو ہڈی ڈال دیتی ہے. اس موقع پہ گورنر زلمی ویسال نے انڈیا اور انڈین راء کو آڑے ہاتھوں لیا تھا بلکہ یہاں تک خبر أئی تھی کہ اس نے کہا تھا کہ انڈیا اپنی ایسی حرکتوں پہ غور کرے جس سے ہمیں انڈیا کے ساتھ تعلقات پہ نظرِثانی کرنی پڑے. اس طرز کی آوازیں تب بھی اٹھی تھی جب افغانی اپنی عورتیں انڈین فوجیوں کو دے رہے تھے (ٹریننگ کے لیے). وہ ایسے تمام لوگ راء کی ہٹ لسٹ پہ ہیں جس نے کسی بھی طرح انڈیا کی افغان پالیسیز پہ انگلی اٹھائی

ان کو تکلیف اب اس لیے اٹھ رہی ہے کہ افگان حکومت بےبس ہے اور انکے اپنے ہی وزیر مشیر اور فوجی أفیسرز مستعفی ہونے تک آگئے جبکہ دوسری جانب امریکہ بہادر جو اپنی لڑائی انڈیا کے سر ڈالنا چاہ رہا تھا اب انڈیا کو بیچ چوراہے چھوڑے اپنے ہاتھ پاؤں ماررہا ہے کہ کسی طرح مذاکرات ہوں اور امریکہ افگاندستان سے نکل سکے. انڈیا سے نیٹو اور طالبان کی یہ بات کسی صورت قابلِ ہضم نہیں کہ انہیں نظر انداز کرکے طالبان کو کنٹرول دیا جائے اور افغانستان انڈیا کے ہاتھ سے نکل جائے. بے شک مرنے والے پاکستان کے کٹر مخالفین تھے لیکن انڈیا کے نام لیوا ہی سہی لیکن انکے دل میں انڈیا کے لیے ایک چنگاری سے جلنے کے امکانات روشن تھے. حملہ میں مارے جانے والوں کے تانے بانے ضرور ان لوگوں میں سے تھے جو آج نہ سہی لیکن آنے والے چند ماہ میں انڈیا کی پالیسیز کے خلاف آواز اٹھاتے اتے. حملہ ایک افغانی سپاہی نے کیا طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی لیکن مجھے حیرت ہوئی کے راء کی اتنی بڑی منصوبہ بندی پہ طالبان کو اتنی کیا جلدی تھی کہ فوراً بیان دینا پڑا. حالانکہ کنفرم ذرائع کے مطابق حملہ کا پورا رخ راء کی طرف جاتا ہے جو اب اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا اور افغانستان کے امن اور خاص کر طالبان کے امریکہ سے امن معاہدہ اور پاکستان سے بہتر تعلقات کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوگا. انڈیا جس انداز میں اپنے لوگوں کو مروا کر آئی ایس آئی اور پاک فوج پہ الزامات لگاتا ہے أیا ہے اب یہی کھیل افغانستان سے بھی کھیلنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ پاکستان افغانستان میں تعلقات کشیدہ رکھ کر اپنے مفادات حاصل کیے جاسکیں.

تحریر حامد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here