قسمت کی خوبی دیکھئے۔

0
410

ذرا اس مضمون کو مزہ لیجیے 

قسمت کی خوبی دیکھئے۔
فوج میں یوں تو ہر کام کے لئے مہینوں پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی جاتی ہے، اہل ترین اور تجربہ کار افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے، ان کو خوب تیاری کروائی جاتی ہے،بار بار ریہرسلز کی جاتی ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ انتظامات کو ہر لحاظ سے’’فول پروف‘‘شکل دی جائے۔لیکن کیا کریں کہ اس سب کے باوجود قسمت کی خرابی پیچھا نہیں چھوڑتی اور کہیں نہ کہیں سے آن’دخیل‘ ہوتی ہے۔آج ہم آپ کا تعارف قسمت کی چند ایسی ہی’ خرابیوں‘ سے کروائیں گے ۔ فوج میں اکثر فنکشن آؤٹ ڈور یا کھلی فضا میں منعقد کئے جاتے ہیں۔سٹیج کو خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور اس پر دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لئے ایک عدد سائبان (جسے فوجی زبان میں فلائی کہا جاتا ہے)ضرور ایستادہ کیا جاتا ہے۔
یہ کمبخت فلائی ہی اکثر صورتوں میں تمام خرابیوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوتی ہے۔ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ فنکشن شروع ہونے سے پہلے تمام چیزیں درست حالت میں ہوتی ہیں لیکن جوں جوں فنکشن کے آغاز کا وقت قریب آتا جاتا ہے‘ ہوا تیزی سے چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ بادل اکٹھے ہونے لگتے ہیں اور اچھا خاصا بارش کا سماں بندھ جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب وی آئی پی کی آمد ہوتی ہے تو فلائی ایک مست ہاتھی کی مانند ہوا کی لہروں کے ساتھ جھول رہی ہوتی ہے۔یہ منظر دیکھ کر انتظامات پر مامور یونٹ کے سی او ،اور ایس ایم کے دلوں پر لگاتار چھریاں چل رہی ہوتی ہیں اور وہ صدق دل سے دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا آج یہ کم بخت فلائی کسی طرح ٹک جائے تو ساری زندگی سجدے سے سر نہ اٹھائیں۔ لیکن ہم نے ان دعاؤں کو شاذ ہی قبولیت کا درجہ حاصل ہوتے دیکھا ہے۔ ہمارا تجربہ ہے کہ چاہے جتنے جتن کر لئے جائیں‘ فلائی ضرور گر کے رہتی ہے اور اس کی لپیٹ میں اکثر سینیئر افسران ہی آتے ہیں۔اس کے بعد انتظامات پر مامور یونٹ کی جو حالت ہوتی ہے‘ وہ بیان سے باہر ہے۔ جیسے ہی مہمان خصوصی اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہیں تو مائیک سے ایک آواز کے بجائے لمبی سی چووووں۔۔۔ اووووں ۔۔۔ کی سیٹی نماآواز برآمد ہوتی ہے۔حالانکہ اس آڈیو سسٹم کو فنکشن سے قبل بارہا ٹیسٹ کیا جا چکا ہوتا ہے لیکن نہ جانے کیوں ایسا ہونا ایک ضروری امر ہے۔
تھوڑی دیر کے بعد یہ خرابی خودبخود دور بھی ہو جاتی ہے لیکن اس وقت تک جو نقصان ہونا ہوتا ہے ‘وہ ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک ایسے ہی فنکشن کے دوران جب آڈیو سسٹم نے حسب معمول کام کرنے سے انکار کر دیا تو کرنل سٹاف،متعلقہ یونٹ کمانڈر اور ڈیوآرٹلری کمانڈر تینوں نے جی او سی کی ڈانٹ ڈپٹ کے خوف سے تھر تھر کانپنا شروع کر دیا۔ہم نے کسی واقف حال سے پوچھا کہ پہلے دو افراد تو کسی نہ کسی طرح اس سانحے کے ذمہ دار ہیں، اس لئے ان کا ڈرنا بالکل بجا ہے لیکن یہ کمانڈر آرٹلری کس خوف میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں ۔جواب آیا کہ کمانڈر آرٹلری ’’عادتاً اور احتیاطاً‘‘خوفزدہ ہو رہے ہیں۔
کسی سینئر کمانڈر کادورہ ہو تو یونٹ کو نہایت اہتمام کے ساتھ دلہن کی مانند سجایا جاتا ہے۔ کمانڈر کو سب سے پہلے کوارٹر گارڈ پر لے جایا جاتا ہے جہاں یونٹ کا ایک چاق چوبند دستہ معزز مہمان کو سلامی پیش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے یونٹ کے سمارٹ ترین جوان منتخب کئے جاتے ہیں ۔ ان کے لئے خصوصی طور پر وردیاں تیار کروائی جاتی ہیں جو میڈلز اور اعزازی پٹیوں سے مزین ہوتی ہیں۔اس دستے کو دن رات ڈرل کروائی جاتی ہے تاکہ ان کی حرکات و سکنات میں مطلوبہ ہم آہنگی لائی جاسکے۔ دورے والے دن ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ دستہ پوری گھن گرج کے ساتھ مہمان خصوصی کو سلامی دینے میں مصروف ہوتا ہے کہ دور سے سلو موشن میں ایک خاکروب اپنے لمبے سے جھاڑو کے ہمراہ نمودار ہوتاہے اور مہمان خصوصی کی ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔قسمت کی خوبی دیکھئے کہ وہ قریب پہنچ کر جھاڑو بغل میں دبا کر سیلوٹ بھی کرتا ہے۔اس شاندار کارروائی کے بعد سی او سمیت تمام افسران کی خدا سے یہی دعا ہوتی ہے کہ زمیں پھٹے اور سب کے سب اس میں سما جائیں لیکن شدید خواہش کے باوجودتاریخ میں ایسا واقعہ آج تک وقوع پذیر نہیں ہوا۔ بعد میں مذکورہ خاکروب کو بلا کر پوچھا جائے کہ بھلے آدمی تمہیں عین گارڈ آف آنر کے وقت کوارٹر گارڈ پر نمودار ہونے اور بلند آواز میں سیلوٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی تو وہ جواب دیتا ہے ’’سر جی !کمانڈر میرا وی تے اے
(سر جی !کمانڈر میرا بھی تو ہے۔‘‘)

پی آر سی کی رینج۔
فوج میں ہر سال کے آخری تین سے چار ماہ کے دوران عموما ًطویل جنگی مشقیں پلان کی جاتی ہیں ۔تمام یونٹیں کینٹ سے باہر نکل کر ایکسرسائز ایریا میں کیمپ لگاتی ہیں جہاں سے وقفے وقفے کے بعد طے شدہ پلان کے مطابق دوسری جگہوں پر جایا جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی طویل ایکسرسائز کا ذکر ہے۔ پورا دن ایکسرسائز ایریا میں گزارنے کے بعد سب آفیسرز شام کو فیلڈ میس میں اکٹھے ہوتے۔ ان دنوں ہمارا پالا ایک نہائت ہی سخت گیر کمانڈنگ آفیسر سے پڑا تھا۔ کرنل صاحب پرانے گنرز کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ فیلڈ میس میں وہ توپخانے کی کتابیں رٹ کر آتے اورفرداًفرداً سب سے سوالات پوچھتے۔ جونہی کوئی سوال پوچھا جاتا، یار لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنا شروع کر دیتے۔ہر کسی کی کوشش ہوتی کہ اس کے بجائے کوئی اور ہی جواب دے۔ بیشتر صورتوں میں جواب غلط ہی ہوتا جو مزید بے عزتی کا موجب بنتا۔ ایسا نہیں تھا کہ فیلڈ میس میں انٹرٹینمنٹ کی کوئی چیز نہیں تھی۔ٹی وی، ڈش، وی سی آر سب کچھ موجود تھا لیکن سی او کو ان میں سے کسی بھی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اس زمانے میں ڈش ریسیور نیا نیا آیا تھا۔ اس کو سیٹ کرنے کے لئے کافی جتن کئے جاتے تھے اور چند لوگ ہی اس کام میں مہارت رکھتے تھے۔ ایک دن کرنل صاحب میس میں تشریف لائے تو بہت خوشگوار موڈ میں تھے۔ آتے ہی بولے کہ یار یہ ڈش ،ٹی وی وغیرہ اتنی قیمتی چیزیں ہیں اور ہم لوگ ان سے بالکل بھی مستفید نہیں ہو رہے۔ آج ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھا جانا چاہئے۔
حیرت سے سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ سی او سے اس بات کی توقع ہرگز بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ ہم تو فائر ڈسپلن کے اسباق اور آیت الکرسی دل ہی دل میں دہرا رہے تھے۔ بہرحال ٹو آئی سی نے فوراً سی او کی ہاں میں ہاں ملائی اورآگے بڑھ کر ٹی وی اور ڈش ریسیور آن کر دیا۔ سب کی جان میں جان آئی کہ آج کم از کم گنری کا ٹیسٹ دینے سے بچ جائیں گے۔ کرنل صاحب بولے کہ یار ہم پرانے زمانے کے فوجی ہیں، ناک کی سیدھ میں چلنے والے۔ زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے، بہت سی نئی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں جن کے بارے میں ہمیں بالکل بھی علم نہیں، جیسے یہ سیٹلائیٹ ریسیور۔آپ میں سے کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہو تو ہماری معلومات میں اضافہ کرے۔اللہ دے اور بندہ لے، اب حالت یہ تھی کہ ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ سب سے پہلے جواب دے۔ ہر کسی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق ڈسکشن میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مختلف پہلوں پر خوب روشنی ڈالی گئی، جیسے سیٹلائٹ ریسیور کو کیسے سیٹ کیا جاتا ہے، کس کس فریکوئینسی پر کون کون سے چینل آتے ہیں اور کس کس رخ اور زاویے پر مزید کون سے چینل پکڑے جا سکتے ہیں۔ ٹو آئی سی بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے بھی بازار میں دستیاب مختلف ماڈلز اور ان کی قیمتوں پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا۔ فائر ڈسپلن کہیں دور پیچھے رہ گیا تھا۔سب لوگ ڈسکشن کو خوب انجوائے کر رہے تھے کہ اچانک سی او نے پینترا بدلا اور پوچھا کہ پی آرسی سیٹ کی فریکوئنسی رینج کیا ہوتی ہے۔بتاتا چلوں کہ پی آرسی سیٹ آرمی میں وائرلیس پیغام رسانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ فیلڈ میس میں یکبار خاموشی چھا گئی۔ کلاک کی ٹک ٹک تیز ہو گئی، دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور دور کھیتوں میں موجود گیدڑوں کی آوازیں قریب آتی سنائی دینے لگیں۔ سی او نے سوال دہرایا لیکن تمام افسر گویا کومے میں جا چکے تھے۔ کوئی بھی جواب دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ ایک ویٹر جو ہمیں پانی سرو کر رہا تھا، اس نے درست جواب دے دیا۔ سی او نے اس ویٹر کو تو شاباش دے کر میس سے جانے کے لئے کہا لیکن اس کے بعد تمام افسروں کی جو کلاس لی گئی وہ بیان سے باہر ہے۔ یقین مانئے کہ پی آر سی سیٹ کی فریکوئنسی رینج تو ہمیں آج بھی ٹھیک طرح سے نہیں معلوم البتہ سیٹلائٹ ریسیور بند آنکھوں سے بھی سیٹ کر سکتے ہیں۔ بقول پطرس ’’موت مجھ کو نظر آتی ہے، طبعیت کو جب دیکھتا ہوں میں۔‘‘

نوٹ ۔۔۔۔۔۔ ان صاحب کی مزید تحریریں پڑھنے کے لیے ایپ انسٹآل کرنی پڑے گی  طریقہ نیچے دیا گیا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here