قرآن مجید میں “رحمن” کا ذکر (57) بار اور “رحیم” کا ذکر (123) بار آیا ہے۔

0
1314

🌷اللہ تعالی کے نام اور ان کے معانی🌷 

Next Name –      –  Previous Name

4-3: { الرحمن الرحيم }

#معنی:
 نہایت مہربان، بے انتہا فضل ورحمت والا، بڑے لطف واحسان والا، بہت زیادہ مہربانی اور نرمی برتنے والا، بے حد اور بے حساب رحم وکرم کرنے والا۔۔۔
نوٹ:
 یہ دونوں اللہ تعالی کے انتہائ جلیل القدر، عالی شان اور بابرکت نام ہیں۔
 اللہ عز وجل کے یہ دونوں عظیم الشان نام اس کی ذات، صفت رحمت اور اس کے آثار پر دلالت کرتے ہیں۔
 رحمت اللہ سبحانہ وتعالی کی حقیقی صفت اور صفت کمال ہے جو اس کے شایان شان ہے اور مخلوق کے مشابہ نہیں ہے، اور اس کا معنی معلوم ہے لیکن کیفیت کا علم وادراک اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے-
 رحمت اللہ تبارک وتعالی کی صفت بھی ہے اور فعل بھی ہے۔
 سارے جہاں میں جو بھی اور جتنی بھی نعمتیں، برکتیں، الطاف وعنایات، رحمتیں، نوازشیں اور مہربانیاں ہیں وہ سب اللہ عز وجل کی صفت رحمت کی وجہ سے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہیں اور اس کے آثار میں سے ہیں۔
 اللہ تبارک وتعالی کی رحمت کل کائنات میں ظاہر، تمام مخلوقات میں عیاں، سب کو شامل اور ساری چیزوں پر محیط ہے۔
 اللہ عز وجل کی رحمت اس کے دین وشریعت اور حدود واحکام میں بھی ظاہر ہے۔
 اللہ تبارک وتعالی کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت اور غلبہ حاصل ہے۔(دیکھئے:صحیح بخاری:7453)
 ایک ماں اپنے بچے پر جس قدر مہربان ہوتی ہے اللہ سبحانہ وتعالی اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔(دیکھئے:صحیح مسلم:2754)
 اللہ تعالی کی رحمت کے سو (100) حصے ہیں؛ دنیا میں اس کا صرف ایک (1) حصہ نازل کیا گیا ہے جس سے مخلوقات باہم ایک دوسرے پر رحم کرتی ہیں؛ اور باقی ننانوے (99) حصے اللہ نے اپنے پاس رکھے ہیں جن سے وہ اپنے بندوں پر قیامت کے دن رحم فرمائےگا۔(دیکھئے:صحیح مسلم:2752)
 دنیا میں اللہ عز وجل کی رحمت سب کے لئے عام ہے لیکن آخرت میں مومنوں کے لئے خاص ہوگی۔
 “رحمن” اور “رحیم” میں فرق:
 یہ دونوں نام لفظ “رحمت” سے مشتق ہیں اور دونوں میں مبالغہ کا معنی پایا جاتا ہے، لیکن “رحمن” میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہم معنی نام ہیں البتہ “رحیم” کے بنسبت “رحمان” کے معنی میں زیادہ وسعت اور عظمت پائی جاتی ہے۔
 “رحمن” وہ ہے جس کی رحمتیں سب کے لئے عام ہیں، اور “رحیم” وہ ہے جس کی رحمتیں مومن بندوں کے لئے خاص ہیں-
 رحمن” میں جو صفت رحمت پائی جاتی ہے وہ ذاتی صفت ہے اور”رحیم” میں جو صفت رحمت پائی جاتی ہے وہ فعلی صفت ہے۔
 “رحمن” نام اللہ تعالی کے لئے خاص ہے، کسی اور کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں ہے، بر خلاف “رحیم” کے کہ بعض مخلوق پر اس کا اطلاق جائز ہے۔
 لفظ “رحیم” کے برعکس لفظ “رحمن” کی نہ تثنیہ ہے اور نہ ہی جمع ہے۔
 قرآن مجید میں “رحمن” کا ذکر (57) بار اور “رحیم” کا ذکر (123) بار آیا ہے۔
#مثال:
{ الرحمن . علم القرآن } [سورة الرحمن:1-2]  “رحمن نے قرآن سکھایا”
{ إن الله غفور رحيم } [سورة المزمل:20]   “بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔”

تحریر پاکستانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here