قرآن مجید میں اللہ عز وجل کے اس عظیم الشان نام “البارئ” کا (3) بار ذکر آیا ہے۔

0
1057

🌷اللہ عز وجل کے نام اور ان کے معانی🌷

Next Name –      –  Previous Name

 

9- {البارئ}

معنی
 “موجد یعنی ایجاد کرنے والا، عدم سے وجود میں لانے والا، پیدا کرنے والا، اپنے مقرر کردہ اندازے کی تنفیذ کرنے والا، اپنے بنائے ہوئے ارادے کو عملی طور پر وجود بخشنے والا۔”
 یہ لفظ “البارئ” مشتق ہے “برأ” سے اور اسی سے ایک اور لفظ “البرية” بھی مشتق ہے جو “مخلوق” کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

جیساکہ سورہ بینہ کی آیت نمبر 6 میں کافروں کے بارے میں آیا ہے کہ وہ “{شر البرية} یعنی “سب سے بری مخلوق” ہیں اور آیت نمبر7 میں مومنوں کے بارے میں آیا ہے کہ وہ {خير البرية} یعنی “سب سے اچھی مخلوق” ہیں۔

شاید اس لئے بعض اہل علم نے الخالق اور البارئ دونوں نام کو ہم معنی قرار دیا ہے یعنی “پیدا کرنے والا”۔

 جبکہ بعض اہل علم نے دونوں میں فرق کرتے ہوئے کہا ہے کہ “الخالق” کا معنی ہوتا ہے”ہر پیدا کی جانے والی چیز کے وجود کا ایک اندازہ مقرر کرنے والا” اور “البارئ” کا معنی ہوتا ہے”اس اندازہ کردہ چیز کو عدم سے وجود میں لانے والا۔”
چنانچہ سورہ حشر کی آیت نمبر 24 {هو الله الخالق البارئ المصور له الأسماء الحسنى} میں یہ دونوں لفظ اپنے الگ الگ معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔

 یہ جلیل القدر نام “البارئ” اللہ عز وجل کے لئے مخصوص ہے، کسی اور پر اس کا اطلاق کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، کیونکہ تمام موجودات کو عدم سے وجود میں لانے والا صرف وہی ایک اللہ سبحانہ وتعالی ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔

 قرآن مجید میں اللہ عز وجل کے اس عظیم الشان نام “البارئ” کا (3) بار ذکر آیا ہے۔
#مثال:
{هو الله الخالق البارئ المصور له الأسماء الحسنى} سورة الحشر:24)
“وہی اللہ ہے اندازہ (مقرر) کرنے والا، وجود میں لانے والا اور صورت بنانے والا۔”

تحریر پاکستانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here