قرآنی نام مسلمان یا اپنے فرقوں کا نام ؟؟؟

0
187

 ہم اللہ تعالی کو چھوڑ کر کسی بھی مولوی کو خدا کی حثیت کیوں دیتے ہیں ؟؟؟ ہم کہاں اتنی بڑی غلطی کر جاتے ہیں اور پچتھاوا بھی نہیں ہوتا ذرا غور فرمائیں

اللہ تعالی کا فرمان سورة توبہ

أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ سورۃ التوبہ آیت 31

انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی) حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں

حضرت عدی بن حاتم رضى الله عنہُ قبول اسلام سے پہلے عیسائی تھے ، آپ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی ہم علماء اور بزرگوں کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا ایسا نہیں تھا ؟؟؟ تم اللہ تعالی کی حلال کردہ چیزوں کو انکے کہنے پر حرام اور اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں کو انکے کہنے پر حلال سمجھتے تھے۔ میں نے کہا جی۔ واقعی ایسا ہی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہی انکی عبادت ہے۔ صحیح ترمذی

وَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ۭ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۭ مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ ۭهُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ښ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ ۭ هُوَ مَوْلٰىكُمْ ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ سورۃ الحج آیت 78

اور اللہ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (ا اللہ ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لئے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اللہ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مددگار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مددگار ہے

میری بہنو اور بھائیو اللہ تعالی کا فرمان آپ نے پڑھ لیا، ہمارے لیے اللہ تعالی نے لفظ مسلمان پسند فرمایا ہے۔ کیا ہم اللہ تعالی کے فرمان کی مخالفت کر کے جنت میں چلے جائیں گے ؟؟؟ یقیناً ہم اللہ تعالی کے نافرمان بن کر جنت میں نہیں جا سکتے !!! ذرا سوچیں بلکہ پورا سوچیں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی نے کسی فرقے کی بنیاد رکھی ؟؟؟ جبکہ صحابہ اکرام میں بھی اختلاف تھا اور کئی موقعوں پر تو شدید اختلافات بھی ہوئے لیکن کسی صحابی نے اللہ کے عطاء کیے نام مسلمان کی بجائے اپنا کوئی فرقے کا نام نہیں رکھا بلکے شدید اختلافات کے باوجود بھی مسلمان ہونے پر فخر کیا، پھر آج خود کو مسلمان کہلاوانے والوں کو ایسی کیا آن پڑی کہ مسلمان کا نام پس پشت ڈال دیا اور خود کو مختلف ناموں سے پکارنا شروع کر دیا

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ مسلمان نام کی بجائے وہابی ، اہلدیث ، شیعہ ، سنی دیوبندی، بریلوی نام اُنہوں نے شروع کیے جن کے ناموں سے رکھے گئے ، بلکل بھی نہیں یہ کفار کی سازش ہے ڈیوائیڈ اینڈ رول مطلب توڑو اور حکومت کرو اور وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک وقت تھا جب مسلمانوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا تھا

حضرت خالد بن ولید جنگ یرموک میں جاتے ہیں تو چالیس ہزار کے مقابلے میں پرشیا اور روم کی چار لاکھ فوج کو تباہ کر دیتے ہیں چین کے علاقوں میں اُس زمانے میں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ مسلمانوں شیروں کی طرح ہیں چیر پھاڑ دیتے ہیں ان کو کوئی نہیں شکست دے سکتا آپ کو پتہ ہے یہ دہشت دنیا پر مسلمانوں کی کیوں تھی اس لیے کہ تب اللہ کو ایک ماننے والے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری رسول ماننے والے خود کو صرف مسلمان کہنا پسند کرتے تھے اور اسی پر فخر تھا اُن کو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہم کو کہ اللہ نے ہم کو جو نام عنایت کیا ہے وہ مسلمان ہے یہی وجہ تھی یہی وجہ تھی مسلمانوں کا دنیا پر ایک خوف تھا آپس میں اتحاد تھا وہ سب مسلمان تھے

پھر کیا ہوا مسلمانوں نے مسلمان کی جگہ سنی ، شیعہ نام کا انتہاب کر لیا اُمت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی مسلمانوں نے جو علاقے فتح کیے تھے سنی ، شیعوں سے بھی کفار نے چھین لیے پھر رفتہ رفتہ یہ ٹکٹرے بھرت گئے اور اُمت پارا پارا ہوتی گئی اور آج حال یہ ہے کہ اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہے کہ کفار کو خوف میں مبتلا کرنا تو دور کی بات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفار میں سے کوئی گستاخ گستاخی کر دے تو اُس گستاخ پر بھی اپنے اپنے مسلک کے حساب سے فتوی دیا جاتا ہے کہ گستاخی ہے بھی یا نہیں مطلب وہ مسلمان اپنے نام سے کیا گیا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس کی حفاظت سے ہی نکل گیا کیا ہم ابھی بھی اللہ کے عطا کیے گئے نام مسلمان کی بجائے خود کو وہابی ، اہلدیث ، دیوبندی بریلوی ، شیعہ کہنا ہی پسند کریں گئے یا پھر اُس قوت کے نام پر فخر کریں گئے جس نام سے دنیا ڈرتی تھی اور جس نام کا سن کر کفار یہ اندازہ لگا لیتے تھے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق بہت اچھے ہیں

خدارا اُمت کو متحد کریں اپنی پہچان دوبارہ بنائیں جو کہ ہم کھو چکے ہیں اگر اب بھی کوئی کہے ہمارے فرقے کا معنی بہت اچھا ہے اور ہم مسلمان ہیں یہ نام صرف اس لیے ہے کہ پہچان ہو سکے تو بھائیوں مسلمان نام پہچان کے لیے بہت اچھا ہے اسی کو اپنائیں

آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہُ کا فرمان پیش کرتا ہوں

اگر دین ذرہ برابر بھی عقل کے برابر ہوتا تو وضو کرتے وقت مسح پاؤں کے اوپر کی بجائے پاؤں کے نیچے کرتے۔ ( کیونکہ مٹی پاؤں کے نیچے لگتی ہے اوپر نہیں دین وہی ہے جو اللہ تعالی کا فرمان اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے۔ اللہ تعالی ہماری غلطی معاف فرمائے آمین اللھم آمین

Tahreer. #Pakistani🇵🇰

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here