قائداعظم کی بہن ہونے کے ناطے فاطمہ جناح لائق احترام ہیں پاکستان کے کسی بھی لیڈر سے زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

لیکن اگر وہ آج بھی انتخاب لڑیں تو میں ہرگز انکو ووٹ نہیں دونگا۔

دو وجوہات کی بنا پر۔۔۔۔۔۔۔ 
Image may contain: 1 person, close-up
پہلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری رائے میں عورت حکمرانی نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کو مجلس شوری کا باقاعدہ ممبر بھی نہیں ہونا چاہئے۔ 

دوسری ۔۔۔۔۔۔۔ ضروری نہیں کہ ہر لائق احترام شخص قیادت کا بھی اہل ہو۔ مثلاً عبدلستار ایدھی۔ 

ایوب خان کو فاطمہ جناح کے مقابل الیکشن لڑنے پر جو لوگ گالیاں دیتے ہیں وہی آج بھی بھٹو کے ساتھ کھڑے ہیں جس نے اسی انتخاب میں تقریر کرتے ہوئے فاطمہ جناح پر باقاعدہ تہمت لگائی تھی کہ ” یہ شادی کیوں نہیں کر رہی ” ۔۔۔۔ !

یہ لوگ آج بھی دستگیر فیملی کو ووٹ دیتے ہیں جس کے غلام دستگیر خان نے محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابی نشان لالٹین کو ایک کُتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گوجرانوالہ میں پهرایا

اور ساتھ ساتھ کہتے تهے کہ ” فاطمہ جناح اپنی الیکشن کمپین چلا رہی ہے”

فاطمہ جناح کا احترام ہے تو پہلے بھٹو اور نواز شریف کو ٹڈے مارو۔ یہ دوغلا رویہ کیوں؟؟؟

اوپر میں نے عرض کی کہ مجھے عورت کے مجلس شوری کا ممبر بننے پر بھی اعتراض ہے۔ پاکستان میں تو خواتین کی نشتیں درحقیقت اپنی ” بیگمات” کی بوریت دور کرنے کے لیے فراہم کیے گئے ایک شغل کے سوا کچھ نہیں۔ 

ان خواتین کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کاروائی کا ایجنڈا کیا ہے اور پیش کیے گئے بل کے مندرجات کیا ہیں۔ ساتھی اراکین کو دیکھ کر تالیاں بجاتی ہیں اور انہی کو دیکھ کر شور مچاتی ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here