تحریر :حجاب رندھاوا
پاکستانی سیاست کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی قومی مسئلے پر تمام سیاستدانوں کا اتفاق رائے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ پاکستان کے قیام کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد اور علیحدہ وطن کے مقصد کو حاصل کرنے میں بھی مسلمانانِ ہند کبھی یک زبان نہ ہوئے۔ ایک طرف تو قائداعظم محمد علی جناحؒ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں مصروفِ عمل تھے اور دوسری جانب بہت سے مسلم سیاستدان مسلم لیگ کی بجائے یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو رہے تھے۔

یہ لوگ آزادی حاصل کرنے کی بجائے اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک ہونے کے لیے بیتاب تھے۔ سیاستدانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے آزادی کے 9 سال بعد 1956ء تک ملک کا آئین نہ بنایا جا سکا۔
اس بندر بانٹ کے نتیجے میں ہی مشرقی پاکستان الگ ہوا
سندھ طاس منصوبے پر بھی سیاستدانوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ 1960ء میں بھارت سے ہونیوالے اس معاہدے کو بھی سیاستدانوں نے تنقید کا نشانہ بنایا لیکن کوئی یہ نہ بتا سکا کہ اس معاہدے کے بغیر پاکستان بھارت کو دریاؤں کا رُخ موڑنے سے کس طرح روک سکتا ہے؟
پاکستان میں جتنی بھی ترقی ہوئی فوجی حکومتوں میں ہوئی
ایوب خان نے ملک کا دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا اور نیا شہر بسایا۔ ملک کے دو بڑے ڈیم منگلہ اور تربیلہ تعمیرکروائے۔ ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی اور پاکستان کو ایک با وقار اور طاقتور ملک کی صورت میں دنیا کو پیش کیا۔ چین کے ساتھ دوستی کا آغاز کیا اور روس کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ملک کی معاشیات استحکام کی طرف گامزن ہوئی ۔
جنرل ضیاء جس نے گیارہ برس تک حکمرانی کی اور اپنے کسی اولاد کو سیاست میں نہیں لایا۔ خاندانی سیاست نہیں کی اورگیارہ برس تک ملک کا سفید و سیاہ مالک ہونے کے باوجود ایک پیسہ کی کرپشن نہیں کی۔ ضیاء کے بعد آنے والی بے نظیر کی حکومت نے ساری حکومتی مشنری کے استعمال کے باجود ضیاء الحق اور ان کے خاندان پرکرپشن کا کوئی الزام تک نہیں لگا سکی۔

کچھ عرصہ قبل بے شمار پہلوئوں سے عالمی شہرت رکھنے والی امریکی شخصیت بروس ریڈل کی ایک کتاب منظر عام پر آئی ۔ کتاب ”وٹ وی وون” ہم نے کیا جیتا؟ “What we won” کا موضوع روس کے خلاف افغان جہاد ہے، جس کے بارے میں آج بھی ہمارے ہاں بیشتر اسلام اور جہاد بیزار لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ امریکہ کی جنگ تھی، جس میں پاکستان کو بہت نقصان ہوا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بروس ریڈل نے اپنی اسی کتاب میں ایسے تمام نظریات ایسا رد کیا ہے کہ ان کے خیالات کا اب کسی کو جواب دینے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ بروس ریڈل لکھتے ہیں کہ سابق سویت یونین کے خلاف افغان جنگ سی آئی اے نہیں بلکہ ضیاء الحق کی جنگ تھی جس کیلئے آئی ایس آئی نے مجاہدین کو جنگی حکمت عملی اور قیادت فراہم کی
سب یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ”چارلی ولسن کی جنگ” تھی لیکن ایسا نہیں ہے، یہ ضیاء الحق کی جنگ تھی۔ سی آئی اے کبھی افغانستان میں نہیں گئی اور مجاہدین کو بھی تربیت نہیں دی۔ اسی لئے ہمارا کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا کیونکہ ہم نے کوئی خطرہ مول لینا ہی نہیں تھا۔ جتنی بھی قربانیاں اور اصولی خطرات لیے وہ سب افغانستان اور پاکستان کے لوگوں نے مول لیے۔ اسی لئے یہ چارلی ولسن نہیں بلکہ ضیاء الحق کی جنگ تھی جو ایک جوشیلے اور پکے مسلمان تھے۔ ضیاء الحق نے مجاہدین کو اس لیے تربیت فراہم کی کیونکہ ان کی سوچ تھی کہ لادین، کمیونسٹ اور ملحدین کے خلاف لڑنا اور انہیں افغانستان سے بھگانا ہے تاکہ وہ پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل نا کر سکیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس لڑائی میں اسلام سے گہرا تعلق رکھنے والا ملک سعودی عرب بھی شامل تھا۔

سعودی عرب نے افغان مجاہدین کیلئے بہت زیادہ فنڈز اکٹھا کیے جو اپنے عروج تک پہنچ کر ایک مرتبہ 20 ملین ڈالر فی مہینہ تک جا پہنچے۔ افغانستان میں سویت یونین کے خلاف لڑائی نے ایک ایسا دانشورانہ ماحول پیدا کیا جس کی وجہ سے پاک سعودی اتحاد ابھر کر سامنے آیا۔

جنرل ضیاء الحق نے بلوچستان میں علیحدگی اور سندھ میں جئے سندھ کی شورش پر قابو پانے کے لئے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دوراقتدار میں بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک آج سے کہیں زیادہ زوروں پر تھی۔بھٹو کی حکومت نے تمام مخالفین کو ”پکڑو اور مارو” کی پالیسی کے تحت اول دن سے زیرعتاب رکھا تھا۔ یہی کچھ بلوچستان میں بھی کیا گیا تو بلوچ سردار باغی ہو گئے تو فوجی آپریشن شروع کروا دیا گیا۔ ساتھ ہی حیدرآباد ٹریبونل قائم کر کے بلوچ سرداروں پر بغاوت اور غداری کے مقدمات شروع کر دیئے گئے۔ یوں ملک بھر میں افراتفری اور انارکی کا دور دورہ تھا۔ ساتھ ہی حکومت نے مخالفین کے خلاف طاقت کا مسلسل بے دریغ استعمال کیا۔ اسی دوران بھٹو نے اپنی زیرنگرانی انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج نکلوائے توپورا ملک فتنہ و فساد میں جلنے لگا۔

تھک ہار کر فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے ملک کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا جس کے چند ہی ماہ بعد ہر طرف مکمل امن و سکون ہو گیا۔ جنرل ضیاء الحق کیونکہ فوجی سربراہ تھے اور بلوچستان آپریشن کی حقیقت سے بخوبی واقف تھے، سو وہ سیدھے بلوچ سرداروں کے پاس جیل میں ان سے ملنے جا پہنچے، ان کے پاس بیٹھ کر دن کا کھانا کھایا اور عطاء اللہ مینگل، سردار مری، ولی خان وغیرہ کو نہ صرف رہا کر کے انہیں محب وطن کہہ کر پکارا بلکہ حیدرآباد ٹریبونل سرے سے ہی ختم کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ساری فوج بلوچستان سے واپس بلا لی۔ وہ دن اور پھر 25 سال، بلوچستان میں مکمل امن و سکون رہا۔ صوبے سے علیحدگی اور بغاوت کا سرے سے نام ہی ختم ہوکر رہ گیا تبھی تو ولی خان اپنی بیگم کے ہمراہ مٹھائیوں کے ٹوکرے لے کر اسلام آباد ایوان صدر پہنچے تھے۔

یہی جنرل ضیاء الحق تھے کہ جنہوں نے اس جئے سندھ تحریک کے بانی سربراہ جی ایم سید سے ان کے آبائی علاقے’ سن’ سندھ میں اس کے گھر جا کر ملاقات کی۔ سینے سے لگایا اور وہاں ایسی گفتگو کی کہ وہ دن اور پھر 25 سال، سندھ میں ”جئے سندھ تحریک” کا صرف نام رہ گیا اور کبھی کہیں کوئی علیحدگی کی بات تک نہ ہوئی۔ یہ جنرل ضیاء ہی تھے جنہوں نے خاموشی سے پاکستان کو ہر قسم کے اسلحے سے مالا مال کر دیا، افغان جہاد کی پشت پناہی کر کے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے دل جیت لئے۔ اقوام متحدہ میں قرآن پاک کی پہلی بار تلاوت کروانے کا شرف حاصل کیا اورساری اسلامی دنیا کی نمائندگی کی۔
روسی قبضے کے اختتام کے بعد نہ مجاہدین کی ضرورت موجود رہی اورنہ جنرل ضیالحق کی۔ اُن ٹرینڈ افغانی، پاکستانی، چیچن، ازبک وغیرہ
مجاہدین کو بیچ مجدھار چھوڑ کر عالمی طاقتوں نے ضیاالحق کو راستے سے ہٹادیا بعد کی آنے والی حکومتوں نے اس آہم ترین مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں پاکستان دشمن طاقتوں نے ان تربیت یافتہ افراد یعنی مجاہدیں سے تخریب کاری کا کام لینے کا آغاز کیا۔ بعد کا القائدہ آمریکہ، بھارت اور اسرائیل کے بچے کی صورت میں وجود میں آیا۔ البتہ ان جہادی تنظیموں نے پاکستان میں جو تباہی مچائی اس کا سارا ملبہ جنرل ضیا پر ڈالا گیا حالانکہ یہ انصاف نہیں ہے۔ اگر بعد میں انے والی حکومتوں نے اس وقت ان حالات میں اگر سویلین حکومت بھی ہوتی تو وہ بھی ایسی ہی پالیسی اپناتی جو ضیا نے اپنائی تھی کیونکہ روس کا افغانستان میں قبضہ دراصل پاکستان کے گرم. پانیوں تک رسائی کی کوشش تھی جسے پاکستان قبول نہیں کر سکتا تھا
جنرل پرویز مشرف جن پر سویلین حکومت انھی کو انڈیا بھجوانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد انھی پہ غداری کا مقدمہ بنوا چکی ہے اگر اس فوجی حکمران کے آٹھ سالہ دور حکومت کا اگر پاکستان بننے سے لے کر آج تک کی جمہوری اور فوجی حکومتوں سے موازنہ کیا جائے تو فرق روز روشن کی طرح واضح نظر آئیگا۔ تیل اور بجلی کے نرخوں میں استحکام تھا۔ اشیائے خوردونوش کی قمیتیں غریبوں کے لیے قابل خرید تھیں۔ کرپشن کم ہوگئی تھی۔ ترقیاتی کام جاری تھے۔ بھاشا ڈیم کی منظوری اور سی پیک پروجیکٹ پر چین اور پاکستان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوکر گودر پورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوچکا تھا۔ لواری ٹنل جو چترال کے چھ لاکھ باشندوں کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ تھا، اس پر کام شروع ہوا اور بن بھی گیا۔ موبائیل فون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ملک میں آئی۔ سکولوں اور کالجوں میں کمپیوٹر سائینس کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ اس دور کے ترقیاتی منصوبوں کی ایک لمبی فہرست ہےجس کو میں یہاں لکھنے سے قاصر ہوں
اس پس منظر میں یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ پاکستان کی ترقی اور ڈیم ہمیشہ فوجی حکمرانوں کی اولین ترجیح رہی لیکن اگر ہم اس انتظار میں رہیں کہ جب تک ملک کے سیاستدان رہنماؤں میں کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں ہو جاتا اس وقت تک ڈیم تعمیر نہ کیا جائے تو یہ ایک تاریخی بھول ہو گی
پانی کی کمی کے باعث پاکستان کی زراعت تباہ ہو چکی ہے اور بجلی نا ملنے کے باعث کارخانے ٹھپ اور مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں
بجلی کے ذرائع پانی کے علاوہ ہوا،دھوپ،کوئلہ،ڈیزل اور پٹرول بھی ہیں اور یہ منصوبے کسی ملک کا وہی ادارہ لگا سکتا ہے جس کے پاس مہارت اور رقم موجود ہو جسے آئین اور قانون کے مطابق استعمال کیا جاسکے اور وہ پاکستان کا ایک ادارہ واپڈا تھا جس کے بارے میں سویلین حکومت کے حکم پر پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ واپڈا صرف پانی کی بجلی سے معاملات دیکھے گی اور باقی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا جس پر پاکستان مفلوج ہوگیا اور پھر اس نے آئی پی پی کا سہارا لیا جس سے پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے اپنوں اور غیروں نے لوٹا اس ریکٹ کی وجہ سے بینظیر دور میں بڑے بڑے کمیشن/ کک بیک دیکر پاور یونٹ لگائے گئے اور عوام کو مہنگی ترین بجلی مہیا کی جانے لگی جس سے پوری قوم بلبلا اٹھی
پاکستان میں فراہمی آب کے ذمے دار افسران کو’’واٹر بیوروکریسی‘‘ کہا جاتا ہے واٹر کرائسز میں اس کا بھی خاصا رول ہے یہ واٹر بیوروکریسی نہ صرف بدعنوان ہے بلکہ اسے واٹر مینجمنٹ کا پتہ ہی نہیں۔ اس بیوروکریسی نے واٹرانفراسٹرکچر جن میں نہریں، ڈیم اور بیراج شامل ہیں تعمیر تو کر دیے ہیں لیکن ان کی دیکھ بھال، مرمت اور ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جسکے نتیجے میں پاکستان کا سارا واٹر انفراسٹرکچر انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہے۔
ابھی تک پاکستان میں فراہمیِ آب کے انفراسٹرکچر کو بچانے اور اس کی نگہداشت اور مرمت کے لیے کوئی ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ کہا گیا تھا کہ جب منگلا اور تربیلا ڈیم ہمالیہ کے پہاڑی علاقے سے آنیوالی مٹی سے بھر جائینگے تو اس کے لیے دوسرے ڈیم بنائینگے
انڈیا نے اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنے کے لیے پاکستان کی معیشت کی تباہ کرنے کے لیے دریاؤں پر ڈیم بنا لیے تاکہ جرمنی کی طرز پر دیوار برلن گرائی جا سکے اور اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہو واجپائی نے کہا تھا یہ پانی ہی ہے جو ہمیں پھر ملائے گا
آپ کے ذہن میں دیوارِ برلن کے گرائے جانے کا واقعہ محفوظ ہے؟ بھارت کا خیال ہے کہ مشرقی جرمنی کے لوگ اقتصادی بدحالی کے باعث اگر دیوارِ برلن گرا دیتے ہیں تو پیاسے پاکستانی اپنی سرحدیں کیوں ختم نہیں کر سکتے
انڈءا نے پاکستان میں جن لوگوں کو لسانی حوالے سے کالاباغ اور دیگر ڈیم بننے سے روکنے کے لئے رقوم دی تھیں وہ کوئی عارضی اور سطحی کام نہیں تھا بلکہ ان افراد نے تحریری اور ویڈیو فلموں کے ذریعے اس کی یقین دھانی کرائی تھی کہ پاکستان میں کالا باغ ڈیم ان کی زندگی میں نہیں بننے دیا جائے گا۔ان رقوم سے ان لوگوں نے برطانیہ میں فلیٹ بھی لے رکھے ہیں
جن باتوں کو ہم پاکستان میں سوچ نہیں رہے دشمن ملک انھیں سوچنے کے علاوہ عملی جامہ پہننانے پرتلا ہوا ہے
۔اسفند یار ولی نے گذشتہ دنوں ایک تقریر میں کہا کہ کالا باغ ڈیم ہائی کورٹ تو کیا سپریم کورٹ بھی حکم جاری کرے تو ہم نہیں بننے دیں گے اور یہ بھی فرمایا کہ کسی کا باپ بھی کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتا جبکہ انھوں نے پشاور ایئر پورٹ کا نام اپنے دادا کے نام پر رکھا حالانکہ دادا نے قیام پاکستان کی مخالفت کی، ریفرنڈم میں شکست کھائی اور پاکستان میں دفن ہونا تک گوارا نہیں کیا ،ایک وصیت میں جلال آباد دفن ہونے کا کہا لہٰذا وہیں لے جا کر دفنا دیا گیا یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعد افغانیوں نے اس قبر پر بم مار کر باقیات کو باہر فضا میں بکھیر دیا تھا اور اسفند یار ولی نے افغان حکومت سے احتجاج کرنا بھی گوارا نہیں کیا اس لئے کہ اپنوں سے گلے نہیں کرتے ان سب باتوں کے بعد اسفند یار کی پاکستان کے معاملات میں انٹر فیرنس کی مورل ویلیو نہیں
ہماری سیاست ہمیشہ ریاست کے مخالف ہی چلی ہے
بدقسمتی سے سندھ سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم نے بھی کالاباغ ڈیم منصوبے کو عظیم تر قومی مفاد کے بجائے پنجاب کے خلاف نفرت کے طور پر استعمال کیا۔ اسی طرح پنجاب کے وزیراعظم نے بھاری مینڈیٹ ہوتے ہوئے بھی اس عظیم منصوبے پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اپنی تمام تر قوت عدلیہ اور فوج کو زیرنگیں لانے پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here