قائداعظم جیسے ہیرے کو پہچاننے والا جوہری بھی اقبال ہی تھا جو قائداعظم کے پیچھے لندن چلا گیا اور بلا آخر اس کو مسلمانوں کی قیادت پر آمادہ کر کے واپس لے آیا

0
255
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال پراسرار تھا ۔۔۔۔ !!!

اقبال کیا تھا ؟ اس سے خود اقبال بھی پوری طرح آگاہ نہیں تھا !!

اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے

پاکستان کا تصور اور اسکا ممکنہ طور پر علام اسلام کا مرکز بننا اقبال کا وژن تھا جو حیرت ناک طور پر آج درست ثابت ہو رہا ہے ۔

قائداعظم جیسے ہیرے کو پہچاننے والا جوہری بھی اقبال ہی تھا جو قائداعظم کے پیچھے لندن چلا گیا اور بلا آخر اس کو مسلمانوں کی قیادت پر آمادہ کر کے واپس لے آیا ۔

بر صغیر کے مسلمانوں پر اقبال کا جو اثر ہے سو ہے لیکن اقبال پورے عالم اسلام کے لیے بشارت بن کر آیا تھا مثلاً افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے روس سے آزاد ہونے میں بھی اقبال کی شاعری نے بڑا کام کیا تھا اور اقبال کا یہ شعر تو وہاں زبان زد عام بن گیا تھا کہ ۔۔۔۔

معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز

مولانا طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں میں انڈونیشیا گیا تو وہاں انہوں نے مجھے بتایا کہ انڈونیشیا کا اسلامی انقلاب بھی اقبال ہی کی بدولت آیا تھا ۔ طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ “وہ تو اردو اور فارسی میں شاعری کرتا تھا ؟ ” ۔۔۔۔ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ “ہم اسکی شاعری کا ترجمہ کر کے پڑھتے تھے !”

ترکی کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے مولانا جلال الدین رومی کی قبر کے پاس ہی علامہ اقبال کی ایک علامتی قبر بنا رکھی ہے ۔ وہ اقبال کو مولانا جلال الدین رومی کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں ۔

اقبال کی بصیرت کا کیا عالم تھا اسکی میں صرف ایک مثال دینا چاہتا ہوں کہ اقبال اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے افغانستان گئے اور وہاں انہوں نے ملا شور بازار سمیت کئی بڑے افغان راہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں بتایا کہ ۔۔۔۔۔ ” یہاں تمھارے پڑوس میں ایک عظیم اسلامی ریاست بنے گی جو عالم اسلام کا مرکز ہوگی خدارا اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچانا یہ فقیر تم سے دوبارہ یہ بات کہنے نہیں آئیگا “

یہ ششدر کردینے والا واقعہ ہے ۔ آپ نوٹ کیجیے اقبال کو نہ صرف پاکستان کے بن جانے پر یقین تھا بلکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اسکو مشکلات کہاں سے پیش آئینگی اور اسی وقت اسکی خارجہ پالیسی تک وضح کرنے کی کوشش کر رہے تھے !!

اقبال آج نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے بھی جو اقبال کو اللہ کا ولی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی قیام پاکستان کی آج بھی مخالفت کرتے ہیں آج بھی قائداعظم کو گالیاں دیتے ہیں اور آج بھی پاکستان کی محافظ پاک فوج کو برا بھلا کہتے ہیں !!!

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here