قائداعظم اور پاکستان مخالف مسلم جماعتیں

0
101
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قائداعظم اور پاکستان مخالف مسلم جماعتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!

یہ قائداعظم کی ولولہ انگیز اور بے مثال قیادت ہی تھی کہ مسلم لیگ نے تن تنہا غلامی کے سمندر میں پھنسی ہوئی قوم کی کشتی کو آزادی کے ساحل پر لا کھڑا کیا۔ ایک طرف مسلم لیگ نے کانگریس کی چالوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تو دوسری طرف ان چند ضمیر فروش مسلم جماعتوں کی بھی سازشوں کو ناکام بنایا جو صرف پاکستان دشمنی کی وجہ سے کانگریس کی ہمدرد بنی ہوئی تھیں۔ آئیے ذرہ ان مسلم جماعتوں کی پاکستان دشمنی کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں.

۔ 1 جمعیت علما ہند

۔ 1919 کو بننے والی جمعیت علماء ہند پاکستان دشمنی میں اس طرح اندھی تھی کہ نظریہ پاکستان کے جواب میں گاندھی کے نظریہ وطنیت کا پرچار کرتی رہی ۔ جمعیت کے رہنماؤں کی پاکستان دشمنی کی وضع مثال جمعیت کے دو اخباری جریدوں “مدینہ بجنور ” اور “الجمعیت دہلوی ” سے صاف ظاہر ہوتی ہے جنہوں نے متحدہ ہندوستانی نیشنلزم کی کھل کر سپورٹ کی ۔
یاد رہیے یہ جمعیت کے علما ہی تھے کہ جنہوں نے پاکستان کو ناپاکستان اور پلیدستان کے القاب دئیے .

۔ 2 مجلسِ احرار

۔ 29 اکتوبر 1929 کو بننے والی مجلس احرار کا بنیادی مقصد تو اسلامی نظام کا نفاظ تھا ، مگر مجلس احرار بھی کانگریس کے قدموں سے ہی چمٹی رہی ۔ مجلسِ احرار نے نظریہ پاکستان کی اس طرح سے مخالفت کی کہ اس پر جمعیت علماء ہند بھی حیران رہ گئی۔ ویسے ایک سوال تو آپ کے ذہن میں بھی آرہا ہوگا کہ مجلس کا بنیادی مقصد تو اسلامی نظام کا نفاظ تھا مگر یہ کونسا اسلامی نظام تھا جو ہندوؤں کے ساتھ مل کر لایا جانا تھا۔۔؟

اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ حضور یہ کوئی اسلامی نظام کا نفاظ نہیں تھا بلکہ دل میں چھپی ہوئی پاکستان دشمنی ہی تھی جو وقتاً فوقتاً زبان پر آتی رہی ۔ یہ پاکستان دشمنی ہی تھی کہ مجلسِ احرار کے بانی سید عطااللہ شاہ بخاری نے قیام پاکستان کے بعد فرمایا
” پاکستان ایک بازاری رنڈی عورت ہے جسے ہم مجبوراً قبول کر رہے ہیں”
مجلس احرار کے بانی کا بیان سن کر آج بھی محب وطن پاکستانیوں کو دکھ ہوتا ہے۔

۔ 3 خدائی خدمت گار

خدائی خدمتگار کی رہنما خان عبدالغفار خان تھے جن کے بارے میں اتنا ہی بتانا کافی ہے کہ موصوف کے نسلیں بھی اب ملک دشمنی میں کافی مشہور ہو گئی ہیں ۔ خان عبدالغفار گاندھی سے بہت متاثر تھے ، خان عبدالغفار کی پاکستان اور قائداعظم دشمنی کی وجہ سے انہیں سرحدی گاندھی کے نام سے پکارہ جاتا تھا ۔

۔ 4 خاکسار تحریک

علامہ عنایت اللہ مشرقی کی سربراہی میں بنائی گئی خاکسار تحریک کا بھی بنیادی مقصد یہی تھا کہ کسی نہ کسی طرح قائداعظم اور مسلم لیگ کے راستے میں روڑے اٹکائے جائیں ۔ خاکسار تحریک کے جریدے ” الصلاح لاہور” نے تو نظریہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے قائداعظم کو دیوانہ تک کہہ دیا تھا.
خاکسار تحریک والے آخر تک پاکستان کو ایک دیوانے کا خواب قرار دیتے رہے.

حضور یہ ہیں ان مسلم سیاسی جماعتوں کے کرتوت کہ جنہوں نے صرف اپنے ذاتی مقاصد کہ لیے قومی مفاد کو قربان کر دیا ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ مشکلات میں گھڑے ہوئے قائداعظم اور مسلم لیگ کی حمایت کی جاتی مگر یہ نیک کام ان منافق جماعتوں کی قسمت میں کہاں تھا۔
المختصر یہ کہ اگر اس وقت یہ تمام مسلم سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی خاطر مسلم لیگ اور قائداعظم کا ساتھ دیتی تو یقیناً آج پاکستان رقبے کے لحاظ سے بھی بڑا اور طاقت وار تھا،
مگر پھر وہی بات کہ یہ نیک کام ان منافقوں کی قسمت میں کہاب لکھا تھا۔۔
تحریر محبت خان.


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here