فیس بک پر عام مشاہدے کی بات ہے جہاں کسی خاتون تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہو وہاں لفظ باجی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

0
786

لفظ باجی کا غلط استعمال

ہمارے بادشاہوں کے ایک فرمان کا مفہوم ہے “جگہوں کی تبدیلی سے الفاظ کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں”. جیسے لفظ گولی کا معنی اسلحہ کی دکان پہ مختلف اور میڈیکل سٹور پہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ یہی لفظ گولی سائیکل کی دکان پر بولا جائے تو یکسر مختلف معنی ادا کرے گا. کبھی کبھی وقت کا بدلاؤ بھی الفاظ کے معانی بدل ڈالتا ہے.

لفظ موبائل، موبائل فون کی ایجاد سے پہلے صرف متحرک کے معنوں استعمال ہوتا تھا آج کل اس کا معنی
بالکل بدل چکا ہے. لفظ سکرین کبھی صرف پردے کےلیے استعمال ہوتا تھا اب دیگر معنی بھی رکھتا ہے. یہ تو تھا الفاظ اور ان کے مفاہیم کا قصہ اب موجودہ مسئلے کی طرف آتے ہیں. وہ معاشرہ جو معتبر الفاظ کے معنی نیچ قسم کے متعین کر دیتا ہے دراصل اخلاقی اور فکری اعتبار سے زوال پزیری کا شکار ہوتا ہے. اور یہ بہت بڑا لمحہ ء فکریہ ہوتا ہے.

لفظ استاد اپنے معنی اور مرتبے کے حساب سے کتنا معزز اور معتبر ہوا کرتا تھا. آج کے دور میں ہم لوگ استاد اس آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے اندر استرے جیسی صفات رکھتا ہو۔ یعنی جرم پیشہ یا مکار آدمی کےلیے ہم لفظ استاد استعمال کر کر کے اس کے معنی نیچ کر چکے ہیں.

 

لفظ بچی کتنا معصوم اور پاکیزہ سا لفظ ہوا کرتا تھا جس کے معنی سوچ کر ہی دماغ میں ایک تقدس کا احساس جاگتا تھا. آج جس لڑکی کو اوباشوں نے تاڑنا ہو مخصوص اسی کےلیے یہ بچی کا لفظ استعمال ہوتا ہے. حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اس لفظ کے معنی اتنے گرا دیں گے کہ بالآخر اپنی بہن بیٹیوں کےلیے یہ لفظ ہی ترک کر دیں گے اور یہ ہماری اخلاقی پستی کی انتہا ہو گی.

اب یہ لفظ باجی ہے جو آہستہ آہستہ تقدس کھو رہا ہے. باجی دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے جو اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی استعمال ہوتا ہے. بھلے وقتوں میں گھروں کی ایک روایت تھی جو اب بھی کہیں کہیں لجپال گھرانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ کہ مرد جس خاتون کے سر پہ ہاتھ رکھ دیتا اسے بیٹی یا بہن کا درجہ مل جاتا تھا اور پھر وہ اس کی عزت کا ضامن ہوتا تھا، سگے بھائی کی طرح۔
غور کریں منہ سے کچھ کہے بغیر کسی کے سر پر ہاتھ رکھ دینے سے بھی مرد عورت کو بہن یا بیٹی کی طرح عزت دیتا تھا اور جسے منہ سے بہن کہہ دیا جاتا اس کےلیے لازم تھا کہ اسے بہن سمجھ کر عزت دی جائے۔ اب سوشل میڈیا یہ لفظ باجی کا تقدس ہم لوگ ختم کر رہے ہیں۔ فیس بک پر عام مشاہدے کی بات ہے جہاں کسی خاتون تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہو وہاں لفظ باجی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ مضحکہ خیز نہیں بلکہ قابلِ شرم بات ہے۔ پہلے باجی یا بہن کہہ کر ان باکس تک رسائی حاصل کرنی اور پھر اپنی اوقات پہ آ جانا۔ بیٹی ماں بہن وغیرہ جیسے لفظ آخری حد ہوتے ہیں۔ جب ایسے الفاظ کا تقدس ہی برقرار نہ رہے تو رشتوں کا تقدس کہاں برقرار رہتا ہے؟ رشتوں کے تقدس کو پامال ہونے سے بچائیں جسے بہن اور بیٹی کہیں اسے بہن اور بیٹی ہی سمجھیں۔ بہ صورتِ دیگر آنے والے کل میں لفظ بہن اور بیٹی کا بھی وہی حال ہو گا جو ہم استاد اور بچی جیسے الفاظ کا دیکھ رہے ہیں۔ لفظ باجی اور بہن حد سے زیادہ احترام کا متقاضی لفظ ہے۔ جسے حد سے زیادہ احترام دے سکتے ہیں اسی کو بہن کہیں۔ اور کبھی بھی رشتوں کے تقدس سے خیانت مت کریں۔
تحریر: سنگین علی زادہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here