فوجی ہسپتال میں اس وقت ہنگامی صورتحال نافذ تھی جگہ جگہ سادہ لباس میں ملبوس اہلکار موجود تھے اور سب کی توجہ کا مرکز وہ ایمرجنسی کا کمرہ تھا جس میں تھوڑی دیر پہلے ایک دہشت گرد کو انتہائی زخمی حالت میں لایا گیا تھا اس کے بچنے کی امید کم تھی کیوں کہ اسکو تین گولیاں لگی تھیں اور خون کافی بہہ چکا تھا لیکن ڈاکٹرز سر توڑ کوششوں میں مصروف تھے کہ کسی طرح اسکو بچالیں
تھوڑی دیر بعد اس دہشت گرد کو ہوش آگیا اور اس نے اللہ کہتے ہوئے سانس کھینچی تو وہاں موجود ایک وارڈ بوائے نے کہا کہ شرم تو آتی نہیں تجھے بے غیرت تجھے گندے منہ سے اللہ کا نام لیتے ہوئے مر گیا تو سیدھا جہنم میں جائے گا تو کمینے
اسکے لہجے میں نفرت کی انتہا تھی لیکن وہ دہشت گرد مسکرا دیا مگر چپ رہا
خیر رات تک اسکی حالت کافی بہتر ہو چکی تھی لیکن وہ کچھ بے چین تھا اسکی نظر بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھی لیکن وہ خاموش ہی تھا
سر آپ دیکھ لیں اسکی حالت ابھی اتنی اچھی نہیں زیادہ سوال جواب سے اسکی حالت بگڑ نہ جائے آپ فکر نہ کریں میں اکیلا ہی کمرے میں جائوں گا اور کوشش کروں گا کم سے کم وقت میں اسکو وعدہ معاف گواہ بنا سکوں تاکہ ہم نے جہاں آپریشن کیا ہے وہاں سے متعلق مزید اطلاعات مل سکیں
جیسا آپ بہتر سمجھیں ڈاکٹر یہ کہہ کر الگ ہوگیا اور وہ صاحب جو کہ انٹیلیجنس کے بڑے آفیسر تھے کمرے کی طرف چل دئیے فجر میں ایک گھنٹہ ہی باقی تھا انھوں نے کمرے کے پاس پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا اور سیدھے کمرے میں داخل ہوگئے
ہاں میرے شیر کیا حال ہیں تمہارے؟ انھوں نے کہا
وہ آنکھیں بند کئے لیٹا تھا آواز سن کر آنکھیں کھول دیں سر کے اشارے سے اسنے اپنے ٹھیک ہونے کا احساس دلایا
اسنے اشارے سے اپنے باس کو قریب آنے کا کہا جب وہ قریب آگئے تو اسنے ان کے کان میں کچھ دیر سرگوشی کے انداز میں کئی باتیں کیں ان کئی باتوں میں یہ بات بھی تھی کہ اسکے پاس اب زیادہ ٹائم نہیں
باس نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ تم نے اپنے دل پر اپنوں کے طعنے سہے اور اپنوں سے ہی گولیاں کھالیں یقین کرو میرے پاس الفاظ نہیں کہ کیسے تمہیں خراج تحسین پیش کروں تم اتنے عظیم ہو کہ مرنے کے بعد کوئی تمہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گا لیکن اللہ کے ہاں تم سرخرو ہوگے باس کی آنکھوں میں آنسو تھے انھوں نے وہ آنسو صاف کئے اور اسکو سیلوٹ کیا وہ بھی رو پڑا اسکے پاس زیادہ وقت نہیں تھا باس جاچکے تھے اب وہ آنکھ بند کرکے اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا
اسکو یاد آیا کہ جب اسکو پہلا مشن ہی یہ ملا کہ دشمن کی صف میں شامل ہونا ہے اور ان کے راز لینے ہیں وہ کافی ذہین تھا اسنے نہ صرف یہ کہ دشمنوں میں شامل ہوا بلکہ ان میں ایک اہم مقام بھی حاصل کرلیا لیکن پھر اسی کی اطلاع پر جب آپریشن ہوا تو وہ خود بھی زد میں آگیا اب میں اس میں اور موت میں تھوڑا ہی فاصلہ رہ گیا تھا اب کسی بھی وقت موت بس آہی جاتی تھی کہ مسجدوں سے اللہ کی بڑائی بیان ہونے لگی اسنے
جیسے تیسے تیمم کیا اور نماز ادا کی فارغ ہوتے ہی اسکو جسم میں کھینچا و سا محسوس ہوا اسنے ایک نورانی صورت کے آدمی کو دیکھا جو اسکے قریب تھا اسنے مسکراتے ہوئے کہا تمہارا وقت آچکا اب کلمہ پڑھ لو اسنے کلمہ پڑھا اسکے بعد اسکی روح پرواز کرگئی
آخری وقت میں اسکی زبان پر یہ الفاظ تھے
اللہ پاکستان کو سلامت رکھے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here