فوجی ہسپتال میں اس وقت ہنگامی صورتحال نافذ تھی جگہ جگہ سادہ لباس میں ملبوس اہلکار موجود تھے

0
420

فوجی ہسپتال میں اس وقت ہنگامی صورتحال نافذ تھی جگہ جگہ سادہ لباس میں ملبوس اہلکار موجود تھے اور سب کی توجہ کا مرکز وہ ایمرجنسی کا کمرہ تھا جس میں تھوڑی دیر پہلے ایک دہشت گرد کو انتہائی زخمی حالت میں لایا گیا تھا اس کے بچنے کی امید کم تھی کیوں کہ اسکو تین گولیاں لگی تھیں اور خون کافی بہہ چکا تھا لیکن ڈاکٹرز سر توڑ کوششوں میں مصروف تھے کہ کسی طرح اسکو بچالیں
تھوڑی دیر بعد اس دہشت گرد کو ہوش آگیا اور اس نے اللہ کہتے ہوئے سانس کھینچی تو وہاں موجود ایک وارڈ بوائے نے کہا کہ شرم تو آتی نہیں تجھے بے غیرت تجھے گندے منہ سے اللہ کا نام لیتے ہوئے مر گیا تو سیدھا جہنم میں جائے گا تو کمینے
اسکے لہجے میں نفرت کی انتہا تھی لیکن وہ دہشت گرد مسکرا دیا مگر چپ رہا
خیر رات تک اسکی حالت کافی بہتر ہو چکی تھی لیکن وہ کچھ بے چین تھا اسکی نظر بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھی لیکن وہ خاموش ہی تھا
سر آپ دیکھ لیں اسکی حالت ابھی اتنی اچھی نہیں زیادہ سوال جواب سے اسکی حالت بگڑ نہ جائے آپ فکر نہ کریں میں اکیلا ہی کمرے میں جائوں گا اور کوشش کروں گا کم سے کم وقت میں اسکو وعدہ معاف گواہ بنا سکوں تاکہ ہم نے جہاں آپریشن کیا ہے وہاں سے متعلق مزید اطلاعات مل سکیں
جیسا آپ بہتر سمجھیں ڈاکٹر یہ کہہ کر الگ ہوگیا اور وہ صاحب جو کہ انٹیلیجنس کے بڑے آفیسر تھے کمرے کی طرف چل دئیے فجر میں ایک گھنٹہ ہی باقی تھا انھوں نے کمرے کے پاس پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا اور سیدھے کمرے میں داخل ہوگئے
ہاں میرے شیر کیا حال ہیں تمہارے؟ انھوں نے کہا
وہ آنکھیں بند کئے لیٹا تھا آواز سن کر آنکھیں کھول دیں سر کے اشارے سے اسنے اپنے ٹھیک ہونے کا احساس دلایا
اسنے اشارے سے اپنے باس کو قریب آنے کا کہا جب وہ قریب آگئے تو اسنے ان کے کان میں کچھ دیر سرگوشی کے انداز میں کئی باتیں کیں ان کئی باتوں میں یہ بات بھی تھی کہ اسکے پاس اب زیادہ ٹائم نہیں
باس نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ تم نے اپنے دل پر اپنوں کے طعنے سہے اور اپنوں سے ہی گولیاں کھالیں یقین کرو میرے پاس الفاظ نہیں کہ کیسے تمہیں خراج تحسین پیش کروں تم اتنے عظیم ہو کہ مرنے کے بعد کوئی تمہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گا لیکن اللہ کے ہاں تم سرخرو ہوگے باس کی آنکھوں میں آنسو تھے انھوں نے وہ آنسو صاف کئے اور اسکو سیلوٹ کیا وہ بھی رو پڑا اسکے پاس زیادہ وقت نہیں تھا باس جاچکے تھے اب وہ آنکھ بند کرکے اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا
اسکو یاد آیا کہ جب اسکو پہلا مشن ہی یہ ملا کہ دشمن کی صف میں شامل ہونا ہے اور ان کے راز لینے ہیں وہ کافی ذہین تھا اسنے نہ صرف یہ کہ دشمنوں میں شامل ہوا بلکہ ان میں ایک اہم مقام بھی حاصل کرلیا لیکن پھر اسی کی اطلاع پر جب آپریشن ہوا تو وہ خود بھی زد میں آگیا اب میں اس میں اور موت میں تھوڑا ہی فاصلہ رہ گیا تھا اب کسی بھی وقت موت بس آہی جاتی تھی کہ مسجدوں سے اللہ کی بڑائی بیان ہونے لگی اسنے
جیسے تیسے تیمم کیا اور نماز ادا کی فارغ ہوتے ہی اسکو جسم میں کھینچا و سا محسوس ہوا اسنے ایک نورانی صورت کے آدمی کو دیکھا جو اسکے قریب تھا اسنے مسکراتے ہوئے کہا تمہارا وقت آچکا اب کلمہ پڑھ لو اسنے کلمہ پڑھا اسکے بعد اسکی روح پرواز کرگئی
آخری وقت میں اسکی زبان پر یہ الفاظ تھے
اللہ پاکستان کو سلامت رکھے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here