فوجی ذبح کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

0
429

فوجی ذبح کرنے کی ضرورت کیوں پڑی ؟؟؟

بھارتی فوج کے ہاتھوں صرف دو ہفتوں کے دوران
۔20 کشمیری شہید
سینکڑوں زخمی
اور صرف اس سال کنٹرول لائن کی 2000 سے زائد خلاف ورزیوں کے بعد
بھارتی آرمی چیف نے “پاک فوج کی ظلم و بربریت” پر اس کو سبق سکھانے کا اعلان کر دیا ہے۔

یعنی چوری اور سینہ زوری 🙂۔

اس کے علاوہ عمران خان کی مزاکرات کو پیشکش جو قبول کر لی گئی تھی وہ بھی ٹھکرا دی ہے۔

وہ تین جواز پیش کرتے ہیں۔

پاک فوج کو سبق سکھانے کا فوری جواز یہ کہ سمبا ڈسٹرکٹ بارڈر پر پاک فوج نے مبینہ طور پر بھارتی فوجی ذبح کیا ہے۔

کشمیریوں کے ہاتھوں تین پولیس والوں کی ہلاکت

اور کچھ دن پہلے پاکستانی ڈاک ٹکٹ پر برہان وانی شہید کی تصویر۔

برہان وانی والا ڈاک ٹکٹ 24 جولائی کو شائع کیا گیا تھا۔ یعنی عمران خان کی مزاکرات کی پیشکش اور انڈیا کی قبولیت سے ایک ماہ پہلے۔
اس پر آج غصہ کیوں ؟؟؟

اسی طرح کشمیر میں بھارتی فوجی عام کشمیری مسلمانوں پر جو ظلم کر رہی ہے اس کے بعد ان کی طرف سے ردعمل آنا فطری امر ہے اس میں پاکستان کا کیا قصور ؟؟؟

اور جہاں تک بارڈر پر فوجی ذبح کرنے کی بات ہے تو جو انڈیا محض پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ممبئی ڈرامہ کر کے اپنے 166 بندے مروا سکتا ہے، سمجھوتہ ایکسپریس کروا سکتا ہے، اس کے لیے ایک فوجی کو ذبح کروانا کونسی بڑی بات ہے ؟؟؟

خاص طور پر جب ان کو اس کی شدید ضرورت ہو!!!۔

اس کی تفصیل اگلی کسی پوسٹ میں لکھونگا بس اتنا سمجھ لیں کہ عمران خان کے سعودی عرب کے ساتھ کامیاب مزاکرات کے بعد سعودی عرب نے بھی سی پیک کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اس پورے خطے کی سیاست تبدیل ہونے والی ہے۔ سعودی سرمایہ کاری کے بعد سی پیک نہ صرف دبئی اور عمان جیسی ریاستوں کی شرارتوں سے محفوظ ہوجائیگا بلکہ اب افغانستان بھی سی پیک کو چھیڑنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔

سادہ سی وجہ ہے افغانستان اور انڈیا کے لاکھوں لوگ سعودی عرب سمیت خلیج بھر میں کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب کو یہ لوگ بلکل ناراض نہیں کر سکتے۔

چند دن پہلے میں نے عرض کی تھی کہ امریکہ کی ایران کے حوالے سے پالیسی کو انڈیا جانے انجانے میں نقصان پہنچا رہا ہے۔ جس پر اب امریکہ نے ردعمل دکھاتے ہوئے پہلی بار انڈیا کو وارننگ دی ہے۔

ان تمام مصیبتوں سے نمٹنے کا یہی حل ہے کہ سی پیک کو روکا جائے۔ اس پر امریکہ بھی خوش ہوجائیگا۔

لیکن سی پیک کو روکا نہیں جا سکتا البتہ کچھ عرصے کے لیے معطل ضرور کیا جا سکتا ہے اگر پاکستان کے ساتھ انڈیا جنگ کی فضا پیدا کرلے۔

اس کے علاوہ پہلی بار پاکستان کی ایک ایسی سولین حکومت اقوام متحدہ میں بات کرنے جا رہی ہے جس کے مفادات صرف اور صرف پاکستان سے وابستہ ہیں۔
پاکستان اس بار کل بھوشن، انڈین دہشت گردی اور کشمیر کو کس طرح اقوام عالم کے سامنے اٹھائیگا وہ آپ لوگ ان شاءاللہ دیکھ لینگے۔

اس خطرے کے پیش نظر بھی ” پاکستانی دہشت گردی ” کا بھرپور واویلا مچانا ضروری ہے 🙂۔

ان سب معاملات کے پیچھے انڈیا کو عمران خان نظر آرہا ہے اس لیے انڈیا نے پاکستان سے زیادہ عمران خان کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here