فاٹا اصلاحات کے اہم نکات اور چند تجاویز

فاٹا کی عوام پولیس سے سخت الرجک ہے اور اجنبیوں کو ہرگز اپنے دروازوں یا گلی کوچوں میں برداشت نہیں کرتی۔ ( پاک فوج کی بات الگ ہے۔ پاک فوج نے ان کی بقا کی جنگ لڑی ہے)

0
325

فاٹا اصلاحات کے اہم نکات اور چند تجاویز ۔۔۔۔۔۔۔

پاک فوج کی سفارشات کی روشنی میں فاٹا اصلاحات مرتب کی گئی تھیں جن پر مکمل عمل درآمد کے لیے پانچ برس کا عرصہ رکھا گیا ہے۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کا صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام فاٹا اصلاحات ہی کا حصہ ہے۔ ان اصلاحات کے بنیادی نقاط درج ذیل ہیں۔

معاشی اصلاحات

فاٹا کو آئندہ دس سال تک اضافی فنڈز دئیے جائیں گے۔

قبائلی علاقوں میں تعمیرات اور بحالی کے کام کے لیے 10 سال کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

نیشنل فنانس کمیشن کے تحت فاٹا کے لیے ہر سال تین فیصد فنڈز ڈی ویزیبل پول سے جاری کیے جائیں گے اور کوئی بھی حکومت اس رقم کو کم یا ختم نہیں کر سکے گی۔

یہ رقم فاٹا میں تعمیر نو کے علاوہ وہاں معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کی جائے گی۔ ان میں قبائلی علاقوں میں مارکیٹس اور دیگر معاشی انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ان علاقوں میں عام اشیا کی قیمتیں کم کرنے کے لیے وہاں نافذ راہداری یا پرمٹ کا نظام ختم کیا جائے گا۔

سکیورٹی اصلاحات

قبائلی علاقوں میں امن عامہ اور سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری بتدریج لیویز کو منتقل کی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے فاٹا بھر سے لیویز میں مزید 20 ہزار افراد بھرتی کیے جائیں گے اور انھیں تربیت دینے کے علاوہ سازوسامان سے لیس کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پولیس کو بھی جدید تربیت، اسلحہ اور عمارات فراہم کی جائیں گی۔

افغان سرحد پر موجود خطرات اور فاٹا کی حساس نوعیت کے پیش نظر ضرورت پڑنے پر فوری طور پر نئی نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے جا سکیں گے۔

سیاسی اصلاحات

مقصد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو سیاسی قومی دھارے میں لانا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے انھیں پاکستان کی ایک سیاسی اکائی کے طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت تھی جو کر لی گئی ہے۔

قبائلی علاقوں میں سیاسی عمل کو دوام بخشنے کے لیے وہاں 2018 کے عام انتخابات کے فوراً بعد جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی اس کے بعد دی جائے گی اور 20 ارکان صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی نمائندگی کریں گے۔

قانونی اصلاحات

فاٹا میں موجودہ قانونی ڈھانچے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کو ختم کر کے پشاور ہائیکورٹ اور پاکستان کی سپریم کورٹ کا دائرہ ان قبائلی علاقوں تک وسیع کر دیا جائے گا۔

عدالتوں کا دائرہ اختیار ان علاقوں تک پھیلانے کے سلسلے میں قانون سازی کی جا چکی ہے اور ان ججوں کا انتخاب بھی کیا جا چکا ہے جو قبائلی علاقوں کے مقدمات سنیں گے۔

ملک کے دیگر علاقوں کے طرح فاٹا میں بھی سول سروس کا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا

انتظامی اصلاحات

فاٹا میں سات ایجنسیاں شامل ہیں اور ان سب کا انتظامی سربراہ پولیٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے۔

قانونی اور سیاسی اصلاحات کے بعد ان علاقوں کے انتظامی امور کے نگرانی اس ایک دفتر کے لیے ممکن نہیں ہو گی۔

اس لیے ملک کے دیگر علاقوں کے طرح یہاں بھی سول سروس کا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر ملک کے باقی علاقوں سے یہاں خدمات انجام دینے کے لیے آنے والے افسروں کو اضافی تنخواہ دی جائے گی۔

یہ ہیں فاٹا اصلاحات کے بنیادی نقاط۔ فاٹا اصلاحات کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ فاٹا میں شورش اور بغاؤتیں برپا کرنے کے لیے جواز باقی نہیں رہیں گے اور وہاں قوم پرستانہ تحریکوں کے غبارے سے ہوا نکل جائیگی۔

البتہ میں ذاتی طور پر چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ فاٹا اصلاحات کے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

دو چیزیں نوٹ کی جانی چاہئیں۔

پہلی ۔۔۔۔۔ فاٹا کی عوام کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ روزگار قانونی نہیں ہے۔
افیون کی کاشت، چرس اور ہروئین کی سمگلنگ۔
افغان سرحد پر اشیاء کی سمگلنگ۔
اور ہتھیاروں کی تیاری اور خرید و فروخت۔

وجہ سادہ سی ہے کہ وہاں روزگار کے دیگر ذرائع محدود ہیں۔

متبادل روزگار فراہم کیے بنا کوئی چارہ نہیں۔ اس کے لیے میری رائے میں ۔۔۔

۔ 1 فاٹا میں حکومتی سرپرستی میں ہتھیار سازی کے کارخانے قائم کیے جائیں۔ حکومت مشینری اور قرضے فراہم کرے۔ نیز ان ہتھیاروں کی افریقی ممالک اور دنیا بھر میں ایکسپورٹ کا بندوبست کرے۔

۔2  شائد کسی حدیث کا مفہوم ہے کہ ” آگ، پانی اور گھاس تمام مسلمانوں کا مشترکہ مال ہے ” ۔۔ فاٹا کے پہاڑوں میں بہت بڑی مقداد میں کوئلہ پایا جاتا ہے۔ حکومت اس کو اپنی تحویل میں لے کر فاٹا کی عوام میں برابر برابر تقسیم کرے۔ نیز جدید مشینوں  ذریعے کوئلے کی ایکسپلوریشن میں بھی مدد فراہم کرے۔ کوئلے کی ایک کان پورا ایک گاؤں پال سکتی ہے۔

۔ 3  فاٹا میں کوئلے سے چلنے والے بجلی کے پلانٹس لگائے جائیں جو کم از کم فاٹا کی ضرورت کی بجلی پیدا کریں ساتھ ہی عوام کو بجلی کا بل ادا کرنے کا پابند کیا جائے۔

۔ 4 فاٹا میں ہر قسم کا پتھر پایا جاتا ہے۔ وہاں پر ماربل انڈسٹری کو فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے چین سے مدد لی جا سکتی ہے۔

۔ 5 فاٹا میں سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ وہاں کے لوگوں، کلچر اور لذیذ کھانوں کے بارے میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں تجسس پایا جاتا ہے۔ وہاں سیر سپاٹے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

۔ 6 افغانستان کے ساتھ امپورٹ ایکسپورٹ کے لیے مفت پرمٹس جاری کیے جائیں۔

دوسری بات ۔۔۔۔ فاٹا کی عوام پولیس سے سخت الرجک ہے اور اجنبیوں کو ہرگز اپنے دروازوں یا گلی کوچوں میں برداشت نہیں کرتی۔  پاک فوج کی بات الگ ہے۔ پاک فوج نے ان کی بقا کی جنگ لڑی ہے

اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔

۔ 1 ابتداء میں پولیس کو فاٹا میں حجروں اور سڑکوں تک محدود رکھا جائے اور گھروں اور گلیوں تک جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ مزاج بدلنے کے لیے عشرے چاہئیں ہوتے ہیں۔

۔ 2 فاٹا میں ہر گھر کو کم از کم ایک سنگل فائر والی گن رکھنے کا لائسنس دیا جائے۔

۔ 3  فاٹا میں جرگوں کے فیصلوں کا احترام کیا جائے اور کچھ معاملات میں ان فیصلوں کو مانا جائے خاص طور گھریلو ناچاقیوں، لین دین اور زمین کے تنازعات میں۔

اگر کوئی ان تجاویز کو سن سکتا ہے تو ان پر سنجیدگی سے غور و خوض کریں۔ اگر ان پر صحیح طریقے سے عمل کیا گیا تو فاٹا پاکستان کی جنت بن سکتا ہے۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔ جو ساتھی فاٹا سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اس پر اپنی رائے دیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here