عین ممکن ہے کہ منظور پشتین کے کسی جلسے پر دہشت گردانہ حملے کر کے پوری قوت سے اپنے میڈیا اور لبرل برگیڈ کے ذریعے اس کا الزام پاک فوج اور آئی ایس آئی پر لگا دیں۔

0
826
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کو پاک فوج سیکورٹی فراہم کرے!

بی بی سی کی تخلیق کردہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی اصلیت سے آپ میں سے اکثر واقف ہونگے۔

امریکی سی آئی اے اور اسکی ہمنوا ایجنسیوں کی ضرورت پڑنے پر اپنے ہی تخلیق کردہ ہیروز کو قتل کرنے بہت گندی تاریخ ہے۔

پاکستان میں ہی دیکھ لیجیے۔ ملالہ کے علاوہ حکیم اللہ اور قاری ولی الرحمن بھی امریکہ کی اسی خود غرضی کا شکار ہوئے۔ حکیم اللہ اور قاری ولی الرحمن کا قصور یہ تھا کہ وہ پاکستان سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔

بی بی سی اور وائس آف امریکہ کی مشترکہ تخلیق منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کو پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلا پراپگینڈا کرنے کی وجہ سے اس وقت پشتونوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

پاک فوج کے خلاف مسلسل فیک مواد شیر کرنے اور راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد منظورپشتین کے مقبولیت کے غبارے سے ناقابل یقین تیزی سے ہوا نکل رہی ہے۔

اس لیے عین ممکن ہے کہ سی آئی اے، را اور این ڈی ایس ملکر پشتونوں کی ہمدردی دوبارہ سمیٹنے کے لیے ان کو قتل کرنے کی کوشش کریں۔ پاک افغان کھلی سرحد کی وجہ سے ان پاکستان دشمن ایجنسیوں کی پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں جاری ہیں۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ منظور پشتین کے کسی جلسے پر دہشت گردانہ حملے کر کے پوری قوت سے اپنے میڈیا اور لبرل برگیڈ کے ذریعے اس کا الزام پاک فوج اور آئی ایس آئی پر لگا دیں۔

پشتونوں کو وہ جواز دینگے کہ ” چونکہ منظور پشتین آپ کے حق کے لیے آواز اٹھا رہا تھا اس لیے پاکستانی ایجنسیوں نے اس کو مار دیا “

یوں قوم پرستی کی بے جان ہوتی ہوئی تحریک میں دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش کرینگے۔

اس کے پیش نظر ہم افواج پاکستان اور حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ منظور پشتین اور اس کے قریبی ساتھیوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ ملک دشمن ایجنسیاں پاکستان میں دوبارہ کوئی گندہ کھیل نہ کھیل سکیں!

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here