علمائے ہند نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا

0
383

علمائے ہند نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا اور کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں کی گولیوں کے جواب میں پتھر مارنے سے بھی منع کر دیا ۔

کیا ہمارے والوں میں ایسا کرنے کی جرءات ہے ؟

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی ، جے یو آئی (ف) اور چاروں بڑے مسالک شیعہ ، دیوبندی ، بریلوی اور اہلحدیث کے سرکردہ علماء کو کچھ معاملات پر اپنی رائے صاف ، واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان کر دینی چاہئے مثلاً

کیا کشمیر پر انڈیا کا دعوی درست ہے اور آپ اسکے حامی ہیں ؟

کیا کشمیر کا جہاد جائز ہے ؟

کیا کشمیر میں قتل ہونے والے ایک لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہیں ؟ یا مردار ؟
( اگر کتوں کے بارے میں رائے دے سکتے ہیں تو انسانوں کے بارے میں بھی رائے دینے میں کوئی ججھک نہیں ہونی چاہئے )

کیا پاکستانی ریاست کے خلافت خروج جائز ہے ؟جبکہ یہاں نہ دعوت پر کوئی پابندی ہے اورنہ کسی اسلامی حکم پر ( حالانکہ احادیث میں صرف نماز سے روکنے پر خروج کا حکم ہے )

اگر جائز ہے تو کیا آپ اس خروج کی حمایت کرتے ہیں ؟ اگر نہیں تو اپنی رائے عوام کے سامنے پیش کریں !

کیا اہل تشیع کو قتل کرنا جائز ہے یا صحابہ کی شان میں گستانی پر صرف ریاست کو ہی سزا دینے کا حق ہے ؟

مزاروں کو بموں سے اڑانا جائز ہے یا ناجائز اور ایسا کرنے والے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟

بازاروں اور مسجدوں کو بم دھماکے سے اڑانا کیسا ہے ؟ اور کرنے والے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟

نفاذ شریعت کے لیے ریاست کے خلاف باقاعدہ جنگ جائز ہے یا نہیں ؟

اگر جائز ہے تو ایسی جنگ کے لیے کسی کافر ملک ( امریکہ اور انڈیا ) سے امداد لینا کیسا ہے ؟

اگر جائز نہیں تو لڑنے والے اور مرنے والے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟

ہاک فوج اور ٹی ٹی پی میں سے کون حق پر ہے اور کون باطل؟

جو حق پر ہے کیا آپ اسکے ساتھ ہیں ؟

واللہ ان میں اتنی ایمانی جراءت ہی نہیں ہے کہ ان سوالوں کے کبھی بھی صاف ، واضح اور دو ٹوک جواب دے سکیں ۔۔ جب بھی کچھ ایسا پوچھا گیا تو کچھ اس قسم کے جواب ملے ۔۔۔۔

” مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟”
” جنکا آپ ذکر کر ہے ہیں یہ لوگ کون ہیں ؟ میں تو انکو نہیں جانتا ؟”
“آپ مجھ سے کیا کہلوانا چاہتے ہیں ؟”
” اس معاملے میں میں اپنی رائے نہیں دے سکتا”

یا کوئی ایسا جواب دینگے جسکی بعد میں وہ خود ہی کوئی بھی تاویل کر لینگے !!!

پاکستان اور اسلام کے خلاف جاری کفر کی مشترکہ جنگ کے جواب میں زبردست مزاحمت اور ناکامی پر کفار کے بڑے دماغ سر جوڑ کر بیٹھے اور تین نئے اور خوفناک نظریات لانچ کیے کہ ۔۔۔۔۔۔۔

“پاکستان کو بچانا وطن پرستی ہے اور ناجائز ہے “
“اسلام میں فرقے موجود ہیں خود کو ضرور کسی فرقے سے وابستہ کریں خود کو صرف مسلمان کہنا درست نہیں”
” غزوہ ہند دراصل ہندوستان یا ہندوؤں کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہے “

ان نئے نظریات کا اب تک یہ کوئی جواب نہیں دے رہے جبکہ ایک عام سمجھ بوجھ والا مسلمان بھی انکو ایک نظر دیکھتے ہی سمجھ جاتا ہے کہ پاکستان کو تباہ کرنے او امت کو توڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔!!!!!

آج مجھے اپنے ” ملاوؤں ” سے سخت گلا ہے ۔

انہوں نے پاکستان بنانے کے خلاف ہندوؤں اور انگریزوں کے ساتھ مل کر محنت کی لیکن جب بن گیا تو شیخ الہند نے فرمایا ” کہ اب پاکستان مسجد کے حکم میں ہے او اسکی حفاظت فرض ہے ” ۔۔ لیکن وہ اس حکم کو بھول گئے ۔۔

انہوں نے اسلام کا نعرہ لگایا تھا لیکن بعد میں اقتدار اور صرف اقتدار ہی انکا مطلوب و مقصود رہ گیا ۔ انکے دھرنے ، احتجاج اور جلسے اب صرف وازرتوں اور ووٹ لینے کے لیے رہ گئے ہیں !!!

وہ اپنے مقام سے بہت نیچے آگئے ہیں اب انکی جوتیاں سیدھی کرنے کو دل نہیں کرتا ۔۔۔۔!!
اب وہ منبروں پر دعوت دینے کے بجائے غضب ناک انداز میں چیختے ہیں ۔ اب وہ مسلمان نہیں کرتے کافر کرتے ہیں ۔ ان کی زبانوں میں زہر اور دل میں بلائیں ہیں ۔۔!

اب مجھے ان سے خوف آتا ہے !! 🙁

(ہاں کچھ ایسے ضرور ہیں کہ ہم جنکی پاؤں کی خاک بھی نہیں اور جنکے دلوں کا سوز اور امت کے لیے تڑپ آنکھوں سے نظر آتا ہے اللہ انکے سائے ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے )

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here