عالمی اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے اور پاکستان

0
303

دشمن ناصرف ہم پر چار جنگیں مسلط کر چکا ہے بلکہ دیگر عالمی طاقتوں سے مل کر یہاں دہشتگردی اور افراتفری کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے۔ پاکستان اپنی تاریخ میں ایک سے زیادہ بار نازک حالات سے گزرا ہے, لیکن اس وقت جس قدر نازک دور سے گزر رہا ہے، وہ تو بیان کرنا بھی مشکل ہے۔

اندرونی و بیرونی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی حالات میں بہت کچھ داو پر لگا ہوا ہے۔ جس کا ادراک شاید سیاست دانوں کو نہ ہو مگر پاک فوج اس حوالے سے خاصی فکر مند اور پُرعزم نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج شاید دنیا کی وہ واحد فوج ہو جو سرحدوں کے ساتھ ساتھ دشمن کے نت نئے پراپیگنڈوں کو بھی بھانپ کر اُن کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے ہونے والی فنڈنگ پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ کون کون سے عناصر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے اورغیر مستحکم بنانے کے لیے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ۔ یقینا ان عناصرکی سرکوبی کے لیے پاک فوج پروفیشنل انداز میں کام کر رہی ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ہر چال پر نظر رکھے ہوئے ہے عالمی اسٹیبلشمنٹ کو کوئی جو مرضی نام دے، صہیونی یازائنسٹس کہیں یا نیوورلڈ آرڈر کے اسٹیک ہولڈرز، یہ پوری دنیا میں اپنے ایک مشترکہ عالمی ایجنڈے کو فالو کرتے ہیں۔

یہاں عالمی اسٹیبلشمنٹ سے میری مراد صرف امریکہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ ‘ یورپ ترکی قطر سعودی عرب اور بالخصوص عالمی مالیاتی ادارے بھی اس کا حصہ ہیں (ترکی اور سعودی عرب کا نام کیوں لیا یہ آگے چل کر بتاؤں گی) عالمی مالیاتی ادارے، عالمی نشریاتی ادارے اور دنیا بھر میں کام کرنے والی سماجی تنظیمیں ان کے لیے کام کرتی ہیں۔ یہ ضرورت کے وقت ممالک کو تباہ بھی کر دیتے ہیں۔ یا براہ راست حملہ کرواتے ہیں۔

اس کے علاوہ معاشی طور پر کمزور کر دیتے ہیں یا پھر خانہ جنگ کروا دیتے ہیں۔ تاہم خانہ جنگی یا کسی ریاست کو اپنی عوام کے ذریعے برباد کرنے کا طریقہ زیادہ مقبول و موثر ثابت ہوا ہے۔ ان کا طریقہ کار نہایت سادہ ہے۔ کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو ان کو اختیار دے دو کہ جس کا جو جی چاہے کہنا شروع کردے، بس پھر تماشہ دیکھو۔ خلیج میں سوشل میڈیا کے ذریعے آزادی اظہار کی آڑ میں ایسے افکار کی پرچار کی گئی جس نے پہلے احساس محرومی اور پھر بغاوتوں کو جنم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چار ملک تباہ وبرباد ہو کر رہ گئے۔

‏عالمی اسٹیبلشمنٹ کے عالمی نشریاتی اداروں کے پاکستان میں نمائندے گورے ہوتے تھے لیکن اب BBC/WSJ/NYT/VoA سب کے پاکستان میں نمائندے “مقامی صحافی” ہیں جن کی اکثریت اس سیاستدان کا ساتھ دیتی ہے جس کی پشت پر عالمی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہوتا ہے، بنیادی طور پر یہ اس سیاستدان کی امیج بلڈنگ کا انتہائی اہم کردار ہوتے ہیں اور اس ملک میں ہونے والے عام سے واقعے پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور اس کو بھڑکانے میں پیٹرول کا کام کرتے ہیں جیسے کہ منظور پشتین والا واقعہ۔

پاکستان کے کئی میڈیا ہاوسز صیہونی طاقتوں کے اشارے پہ چلتے ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ کا نشانہ ہمیشہ طاقت کا مرکز ہوتا ہے۔ یمن، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، افغانستان اور شام میں طاقت کے مرکز وہاں کے حکمران تھے اس لیے وہ نشانہ بنا اور ملک بکھر گئے۔

عالمی اسٹیبلشمنٹ طاقت کے دباؤ کے علاوہ معاشی دباؤ جیسے حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ملکوں کو اپنے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے بہت بڑے بڑے قرضے لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ قرضے جو ان کی ضروریات سے بہت زیادہ ہوں اور اس کے لیے ان کے تمام ادارے سڑکیں عمارتیں تک گروی رکھی جاتی ہیں، جیسے کہ پاکستان میں معاشی دباؤ کے لیے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہرکارے پاکستانی حکمرانوں نے پاکستان کو اربوں ڈالر کا مقروض کر دیا۔

پاکستان میں سانس کے علاوہ ہر چیز پر بے پناہ ٹیکس لگ چکا لیکن معیشت اس قدر تباہ ہو چکی ہے کہ باوجود کوشش کہ اس قرض کا سود تک ادا نہیں کر پاتا سود ادا کرنے کے لیے بھی مزید قرض لیتا ہے پاکستانی روپیہ افغانی کرنسی سے بھی نیچے گر چکا ہے, پاکستان میں انتخابی عمل کے دوران بیرونی ممالک کی حد سے ذیادہ دلچسپی اب عام بندے کو سمجھ آنے لگی ہے۔

اندازہ کیجیے کہ پاکستان میں ایک درجن سے زائد جماعتیں انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں لیکن اس وقت ترکی کے صدر طیب اردگان شہبازشریف کو فون کر کے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہارِ کرتے ہیں. جناب یہ الفت باقی جماعتوں کو کیوں نا مل سکی نوازشریف اپنے پچھلے دور میں پابند سلاسل ہوا تو اسے بچانے کے لیے سعودی عرب میدان میں آیا پاکستان کو دو طرفہ تعلقات بچانے کے لیے نوازشریف کے ساتھ ڈیل کرنی پڑی۔

صدر مشرف کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے شدید دباؤ اور پاکستان کے مفادات کے لیے بے نظیر سے این ار او کرنا پڑا جس کی وجہ سے نواز شریف اور بے نظیر کی پچھلے تمام کرپشن کے کیسز سے جان چھوٹی اور اپنی تمام دولت بچانے میں کامیاب ہوئے، کیونکہ بے نظیر کی وفات کے بعد عالمی اسٹیبلشمنٹ کا گھوڑا اب نوازشریف تھا جو کہ پاکستان کی معیشت کو تباہ اور فوج پر مکمل کنٹرول کے ساتھ اسے پنجاب پولیس میں بدل سکتا تھا۔

اس لیے عمران خان بطور ایک نئے کھلاڑی کے ان سب کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں دوسرا انہیں “Manipulate” کرنا یا آلہ کار بنانا ان کے بس کی بات نہیں ہے اس لیے عالمی طاقتوں کی ترجیح نواز شریف ہے اور نواز شریف ان کے لیے الطاف حسین سے بہتر ہرکارہ ثابت ہوا۔

پاکستان میں طاقت کا مرکز فوج ہے اس لیے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ نشانہ پاک فوج ہے۔ بی بی سی، وائس آف امریکہ ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور پاکستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں پاکستان کے خلاف اس جنگ کا حصہ ہیں۔ یہ سب مل کر پاکستان میں کن کو سپورٹ کررہی ہیں؟ ہر اس شخص کو جو پاک فوج کے خلاف ہو۔اس کے باوجود پاک آرمی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہو رہی ہے۔

اندرونی و بیرونی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔ حنیف عباسی منشیات فروشی کے الزام میں سزا پانے کے بعد عدالت سے گرفتار ہوا ن لیگ کے ایک درجن غنڈوں نے عدالت پر حملہ کیا اور عدالت سے باہر پاک فوج کے خلاف نعرے بازی کی اس وڈیو کو ہر عالمی نشریاتی ادارے نے چلایا، وجہ اب آپ جان چکے ہوں گے کہ دشمن کو یہ ثابت کرنے کا موقع چاہیے تاکہ پاکستانی عوام پاک فوج سے تنگ ہیں۔

پاک فوج کو مسلسل انگینج رکھنے کے لیے انڈیا اور اسرائیل کی صورت میں مستقل دشمن پاکستان کی شہ رگ پر بٹھا دئیے گئے۔ افغانستان اور انڈیا عالمی اسٹیبلشمنٹ کے بطور آلہ کار بڑے بھونڈے طریقے سے پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپنے میں ہر وقت تیار بیٹھے ہیں اور پاکستان میں پاکستانی ہی ان کا بھر پور ساتھ دیتے ہیں.

اس نازک وقت میں پاکستانی بنیے اپنی فوج کا ساتھ دیجیے ہر اس پراپگنڈے کو شدت سے رد کیجیے جو آپ کی فوج کے خلاف ہو۔

تحریر : حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here