ظلم کو روکنا اور ظالم کو سزا دینا بھی ریاست کا فرض ہے۔

0
653

نفاذ اسلام بزور طاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

جس خلافت راشدہ اور مثالی اسلامی معاشرے کی مثالیں دی جاتی ہے اس معاشرے کے افراد کسی ریاستی جبر کے خوف کے زیر اثر تھے؟ یا انکی پشت پر ایک عظیم اخلاق تھا جو انکے دلوں میں اللہ کی ذات اور قیامت کے دن اللہ سے ملنے پر یقین نے پیدا کیا تھا؟

کیا وہ “یقین” دنیا کی کوئی بھی ریاست ” نافذ ” کر سکتی ہے؟ اسی ” یقین ” کو ایمان کہا جاتا ہے۔

اب ذرا اس پر غور فرمائیں۔

قرآن ایمان ماپنے کا پیمانہ “اعمال” کو ٹہراتا ہے۔ آپ قرآن کا مطالعہ کیجیے ایمان والوں کی ساری صفات انکے اعمال بیان کیے گئے ہیں جیسے ایمان والے یا یقین کرنے والے وہ ہیں جو فلاں کرتے ہیں یا فلاں کرتے ہیں ۔۔۔

اگر ایمان ماپنے کا پیمانہ اعمال ہیں تو وہ اعمال ایمان کے زور پر ہی ہونے چاہئیں نہ کہ کیسی ریاستی جبر یا قانون کے خوف سے۔ کیا ایسا ایمان کسی بھی طرح ” نافذ ” کیا جا سکتا ہے؟

نہیں بلکہ یہ اس محنت سے آسکتا ہے جو حضورﷺ نے کی تھی۔ صرف اور صرف ” احکام ” نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ وہ بھی ” ایمان والوں” پر۔

میری رائے میں احکام بھی ریاست وہی نافذ کر سکتی ہے جن کا تعلق لوگوں کے حقوق یا معاشرتی اور سماجی معاملات سے ہو۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔

زکواۃ لوگوں کا حق ہے جو ہر نیک و بد مسلمان سے بزور طاقت وصول کر کے حق دار کو دینا ریاست کا فرض ہے۔

ظلم کو روکنا اور ظالم کو سزا دینا بھی ریاست کا فرض ہے۔ اسی میں ساری “حدود” بھی آتی ہیں۔

فحاشی کے خلاف بھی ریاست کو ہی ایکشن لینا چاہئے۔ کیونکہ یہ بھی عوام پر ظلم ہی ہے اور ریاست حرکت میں نہ آئے تو عوام میں اس کے خلاف کبھی مزاحمت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن حکمت کے ساتھ۔

جہاں تک نماز، روزے اور اخلاقیات وغیرہ کا تعلق ہے تو اس کے لیے لوگوں کے ایمان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ نوٹ کیجیے الحاد سب سے زیادہ انہی ممالک میں پھیل رہا ہے جہاں بظاہر ” نفاذ اسلام ” کا تجربہ بذریعہ طاقت کیا گیا۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔

افغانستان جہاں ملا عمر کی حکومت ختم ہوتے ہیں لوگوں نے نعوذبااللہ اپنی داڑھیاں کٹوا پر ان پر پیشاب کر دیا تھا۔ جو تھوڑا بہت ایمان تھا اس سے بھی گئے۔

ایران جہاں خامنائی کے ” نفاذ اسلام ” کے بعد تیزی سے لادینیت پھیلی۔

اور اب شام اور عراق کا حال بھی کسی سے پوچھ لیجیے۔

کیا واقعی ہمارے ہاں ” نفاذ اسلام ” کا نعرہ لگانے والے اس کے مفہوم سے اچھی طرح واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرنا ہے؟؟؟

حضورﷺ نے پہلے اصلاح فرمائی پھر بتدریج ان صالح لوگوں پر ایک نظام قائم کیا۔ لیکن ہمارے دور جدید کے دانا پہلے نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد لوگوں کی اصلاح بذریعہ طاقت کرنے کا عظیم الشان منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔ یہ کیسے ہوگا؟

حضورﷺ کی ایک حدیث کسی سے سنی تھی کہ ” اس امت کے آخری حصے کی اصلاح بھی اسی طریقے پر ہوگی جس پر پہلے حصے کی ہوئی تھی ۔ “

آپ ایمان والوں کی اکثریت لے آئیے۔ آپ یقین مانیں آپ کو ان پر بہت تھوڑا ” نافذ ” کرنا پڑے گا۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here