طیب اردگان نے روس کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف اہم آپریشنز کیے۔

0
1272

ناقدری قوم ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

میانمار میں ہونے والے ظلم کو بہانہ بنا کر پاک فوج کے خلاف خوب زہر اگلا جا رہا ہے گویا روہینگیا مسلمانوں پر وہ ظلم پاک فوج نے ڈھایا ہے۔

لیکن دوسری طرف طیب اردگان کے محض ایک بیان پر اسکو مسلم امہ کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ بلکہ کچھ لوگ اسکو خلیفہ وقت قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ 

ان احمقوں سے عرض ہے کہ ۔۔۔

خلیفہ صاحب (طیب اردگان) کی افواج نیٹو کے ہمراہ اس وقت بھی افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہیں اور طیب اردگان واحد نیٹو اتحادی ہیں جس نے افغانستان میں اپنی فوجیں کم کرنے کے بجائے بڑھائی ہیں۔ تاکہ افغان طالبان کو سبق سکھایا جا سکے۔
اب یہ مت کہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ملکر وہاں خلافت قائم کررہے ہیں!

طیب اردگان صاحب نے کشمیر میں ہونے والے انڈین ظلم کی مذمت کرنے کے بجائے فرمایا کہ ” ترکی اس مسئلے میں ثالثی کے لیے تیار ہے” ۔۔۔
یہ پیشکش تو امریکہ اور چین آئے دن کرتے رہتے ہیں۔
موصوف کے تفصیلی بیان سے یہ تاثر ملا گویا کشمیر پر ہونے والے ظلم میں پاکستان بھی شریک ہے۔

ترکی کے اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے سفارتی تعلقات ہیں۔
2005ء میں وزیراعظم طیب اردگان نے اسرائیل کا ایک اہم دورہ کیا اور اسرائیل اور ترکی میں تجارتی تعلقات اور فوجی تعاؤن بڑھانے پر زور دیا۔
2010ء میں اسرائیل نے ترکی کے فلسطین کےلیے امدادی سامان لےجانے والے جہازوں پر حملہ کر دیا۔ وزیراعظم طیب اردگان نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے لیکن 2016ء میں بطور صدر وہ تعلقات مندرجہ ذیل شرائط پر دوبارہ بحال کر دئیے!

1 ۔۔ ترکی اسرائیلی حملے کے خلاف اپنی تمام اپیلیں واپس لے لے گا۔
2۔ اسرائیل کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کی روک تھام میں مدد دے گاخاص کر حماس کے خلاف۔
3۔ ترکی براہ راست اپنا امدادی سامان غزہ نہیں بھیج سکے گا بلکہ براستہ اسرائیل بھیجے گا۔
4۔ اسرائیل حملے میں مرنے والوں کو رقم ادا کرے گا۔
5۔ دونوں ممالک اپنے تعلقات بہتر بنائیںگے۔

لیبیا کے معمر قضافی کے خلاف 2011 میں نیٹو کے ہمراہ طیب اردگان صاحب نے بھی اپنی افواج بھیجی تھیں۔ جس کے نتیجے میں معمر قضافی کو شہید کر دیا گیا۔

2016ء میں طیب اردگان کی افواج نے ایک روسی جہاز مار گرایا جس پر روس نے بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد طیب اردگان نے روس سے باقاعدہ معافی مانگ کر اسکو راضی کیا۔

طیب اردگان نے روس کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف اہم آپریشنز کیے۔ یہ بلاشبہ قابل تحسین ہیں۔ لیکن یہ ان لوگوں کے لیے کیسے قابل تحسین ہے جو داعش کو مجاہدین قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی طیب اردگان کو خلیفہ؟؟

طیب رجب اردگان نے اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش اگر روہینگیا مسلمانوں کو پناہ دے دے تو وہ انکا خرچ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کا دعوی ہے کہ انہیں ابھی تک پناہ گزینوں کے لیے کہیں سےکوئی امداد نہیں ملی۔

29 اگست کو ترکی کے نائب وزیر اعظم محمت سمسیک نے روہینگیا کے لیے ٹویٹ کی جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ لیکن تنقید ہونے پر چار دن بعد ڈیلیٹ کر دی۔ کیوں؟؟

دوسری طرف جس پاک فوج پر لعن طعن کی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بارے میں چند دن پہلے ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے چیف آف آرمی سٹاف کا بیان آیا ہے کہ افغانستان میں ہمیں پاکستان ( پاک فوج ) کی وجہ سے شکست کا سامنا ہے۔ مطلب پاک فوج امریکہ کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہی ہے۔
اج پوری دنیا جان چکی ہے کہ افغان طالبان کے پیچھے اصل طاقت کون سی ہے۔

کشمیر کے لیے پاک فوج نے اپنے سے کئی گنا بڑے انڈیا سے 4 جنگیں لڑیں اور ایل او سی پر روز جھڑپیں ہوتی ہیں۔ انڈیا کا دعوی ہے کہ کشمیری مجاہدین کو پاک فوج کی سپورٹ حاصل ہے۔

پاک فوج نے نہ صرف اسرائیلی جہاز مار گرائے ہیں بلکہ اپنے ملک سے ہزاروں کلو میٹر دور جاکر عربوں کا دفاع کرنے کے لیے اسرائیل کے خلاف جنگیں بھی لڑی ہیں۔
پاکستان آج بھی اسرائیل کو تسیلم نہیں کرتا۔ حماس کے کئی سرکردہ لیڈران کو افغان جہاد ے دوران پاک فوج نے جنگی تربیت دی۔

پاک فوج نے روس سے جنگ لڑ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور آج بھی اپنے اس کارنامے پر فخر کرتی ہے۔ اس کے باؤجود روس کے ساتھ دوبارہ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنے میں کامیاب رہی۔

شائد یہ بات بھی اپ کے لیے دلچسپ ہو کہ پاک فوج کا کل بجٹ 7 ارب ڈالر ہے جس میں ہمارا نیوکلئیر میزائل پروگرام اور دہشت گردوں کے خلاف جاری اس سارے جنگ کے اخراجات شامل ہیں۔
جبکہ ترک فوج کا کل بجٹ 18 ارب ڈالر ہے اور انہیں کہیں کسی بڑی جنگ کا سامنا نہیں۔

سنا ہے ترکی اور ایران نے برما اپنی فوجیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے؟ ابھی تک یہ خبر مجھے سوشل میڈیا کے علاوہ کہیں اور نظر نہیں آئی !

لوگوں کی فطرت ہوتی ہے کہ عملی کارناموں کی نسبت بیانات سے زیادہ متاثر ہوتےہیں!

پاک فوج ہمارا فخر ہے ہمارے ماتھے کا جھومر ہے اور عالم اسلام کی اصل ہیرو ہے۔ وہ اس وقت بھی 20 کروڑ مسلمانوں کے دفاع کے لیے دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ کا مقابلہ کر رہی ہے اور روز جانیں دے رہی ہے۔

لیکن کچھ معاملات سے وہ ہمیں لاعلم رکھتی ہے یا ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی یا ہمیں اعتماد میں نہیں لیتی تو ہم پر اپنی ہی فوج کو گالیاں دینا فرض ہوجاتا ہے!

خدارا روہینگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال مت کیجیے۔

اس ظلم کو جواز بنا کر پاک فوج، پاک چین تعلقات، سی پیک اور اسلامی ممالک میں پہلی بار بننے والے فوجی اتحاد کو نشانہ بنانا بند کیجیے۔

واللہ آپ کے دشمن یہی چاہتے ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here