“ضیاء کے مر جانے کے بعد بھی جنرل کی روح پاکستان اور امریکہ کی افغان پالیسی پر چھائی ہوئی ہے مرحوم نے جو طاقتور ملٹری اینٹلیجنس تنظیم (آئی ایس آئی) قائم کی تھی آج بھی وہی افغان معاملات کو کنٹرول کر رہی ہے”

0
839
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مضمون نمبر 1

امریکہ دانشوروں میں سے ایک ضیاء مخالف دانشور سلیگ ہیرسن نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

“ضیاء کے مر جانے کے بعد بھی جنرل کی روح پاکستان اور امریکہ کی افغان پالیسی پر چھائی ہوئی ہے مرحوم نے جو طاقتور ملٹری اینٹلیجنس تنظیم (آئی ایس آئی) قائم کی تھی آج بھی وہی افغان معاملات کو کنٹرول کر رہی ہے”

مضمون نمبر 2

آج امریکہ افغانستان میں بری طرح شکست کھا چکا ہے اور ہم نہایت منافقت اور بے انصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طرف افغان مجاہدین پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں برپا ہر فساد کی جڑ جنرل ضیاء کو قرار دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے تعصب میں اتنے آگے چلے جاتے ہٰیں کہ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ امریکہ کو شکست دینے والے سارے گروہ بشمول ملا عمر ،حقانی،گل بدین اور یونس خالص وغیرہ یا جنرل ضیاء کے دور کی پیداوار تھے یا پاکستان آئی ایس آئی کے ان لوگوں نے انکو تیار کیا تھا جو جنرل کی پالیسیوں کے حامی تھے جیسے حمید گل اور کرنل امام وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ﺟﺐ ضیاء الحق ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺗﮭﮯ 

یہ ماننا پڑے گا کہ جنرل کی روح آج بھی افغان پالیسی پر چھائی ہوئی ہے اور امریکہ جنرل ضیاء سے بالاآخر شکست کھا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جنرل ضیاء کے نام پر تعصب کی گرد پڑی ہوئی ہے اور اسکو کبھی انصاف کے ساتھ پڑھا اور سمجھا نہیں گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

مضمون نمبر 3

وہ جنرل جس نے روس جیسی سپر طاقت کو شکست دی جس نے امریکہ کی دم پر دس سال تک پاؤں رکھے رکھا اور کبھی پاکستان کے معاملے میں اپنے کسی موقف پر ذرا بھی لچک نہٰیں دکھائی جس نے انڈیا کو اتنا خوفزدہ کر دیا تھا کہ

جنرل ضیاء الحق اور الطاف بھائی

وہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ “اگر ضیاء زیادہ دیر زندہ رہا تو انڈیا کا شیرازہ بکھر جائے گا” جس نے بغیر کسی دباؤ کے نہایت تیزرفتاری سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی وہ ضیاء جس کے دور میں پہلی بار افغانستان کے اندر “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگے ۔۔۔۔۔ وہ ضیاء جب شہید ہوا تو دنیا کے ستر سے زائد ممالک کے سربراہان اور ملک بھر سے دس لاکھ لوگوں نے اسکے جنازے مٰیں شرکت کی جو اسکا ایسا ریفرنڈم تھا جو تاقیامت اسکو امر کر گیا۔۔۔۔۔۔۔ !!

کیا واقعی جنرل ضیاءالحق نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کروایا تھا؟

یہ وہی ضیاء ہے جس نے کہا تھا کہ “میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کم از کم اتنا کام ضرور کر دینا چاہتا ہوں کہ پھر آنے والے وقت میں کسی کے لیے پیچھے ہٹنا اور واپس لوٹنا ممکن نہ رہے”

روس کے خلاف جہاد اور جنرل ضیاء کی شرائط

جنرل ضیاء الحق ایک غیر معمولی لیڈر تھے میری رائے میں یہ ان عظیم مسلم لیڈروں میں سے ایک تھے جو پوری امت مسلمہ کی تاریخ مٰیں مسلمانوں کو نصیب ہوئے جن میں صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان جیسے لوگ شامل ہیں ۔۔۔۔!

بھٹو اور ضیاء میں کردار کا فرق

میں جنرل کے نام سے اس گرد کو جھاڑنے کی کوشش ضرور کرونگا اور ان سارے معاملات پر انشاءاللہ لکھوں گا جن کا کسی طرح بھی جنرل ضیاء سے تعلق بنتا ہے چاہے انتہاپسندی ہو جہاد ہو یا افغان مہاجرین وغیرہ کے معاملات ۔۔۔۔۔۔۔ !!

مضمون نمبر 5

میں کوشش کرونگا کہ واقعات کو لکھوں تاکہ یہ پوسٹس محض تعریف و توصیف کے گوشوارے نہ بنیں بلکہ قاری ان واقعات کی تصدیق کر کے خود نتائج اخذ کر سکے ۔۔۔۔۔۔!!

یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا

میں ہرگز کوئی لکھاری نہیں اور میرا علم بھی محدود ہے لیکن اسکے باوجود انشاءاللہ میں پوری طاقت سے لکھوں گا اور اس معاملے میں کسی بھی مخالفت کی مجھے پرواہ نہٰیں جنرل ضیاء مجھے آج بھی بہت سے “زندوں” سے زیادہ عزیر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تحریر شاہد خان

مضمون نمبر 6

جنرل ضیاء پر ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر جیسے الزامات

پاکستان کا پلوٹونیم بم

 
 

Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here