شہباز شریف نے کہا ختم نبوت بل کی ترمیم میں جو ملوث ہے اسے سزا دلوائی جائے.

0
1315

فیض آباد دھرنے کے بعد حکومت کی حیثیت مزید مشکوک. چبھتے حقائق. 
شہباز شریف نے کہا ختم نبوت بل کی ترمیم میں جو ملوث ہے اسے سزا دلوائی جائے. ن لیگ زاہد حامد کو سزا اس لیے نہیں دے سکتی کہ زاہد حامد نے یہ حکومتی شخصیت کے کہنے پہ کیا تھا. اب وہ قربانی کا بکرا بننے سے انکاری ہے. ظاہری سی بات ہے کہ بات اگر فوج مخالف پراپیگنڈے کی ہوتی تو دو چار سال میں دب جاتی. پر یہاں معاملہ یہ ہے کہ تاریخ میں لکھا جاتا کہ زاہد حامد کو ختم نبوت بل میں ترمیم کی وجہ سے برطرف کیا گیا. یعنی زاہد حامد کی آئندہ کئی نسلوں کو بھی یہ بات بھگتنی پڑتی. تو وہ اس لیے قربانی کا بکرا بننے سے انکاری ہے اور حکومت خود بھی جانتی ہے اس لیے اسے برطرف کرنے کا مطالبہ نہیں مان رہی ہے. ٹائپنگ مسٹیک ہوتی ہے سپیلنگ کی غلطی. یہاں پوری شق تبدیل کی گئی لہذا یہ حکومت کا ابتدائی حربہ تھا معاملہ دبانے کا اور یہ

حربہ ناکام گیا کیونکہ عوام نے مسترد کر دیا.
اس نظام میں حالات اگر سادہ اور بے ضرر دھرنے سے حل ہوتے تو گواہ رہیں کہ لوگوں کو خودکشیاں نا کرنی پڑتیں. یہاں زنا بالجبر کے جرم میں انصاف لینے کےلیے عورتوں کو تھانے کے سامنے پٹرول چھڑک کے خود کو آگ لگانی پڑتی ہے انصاف پھر بھی نہیں ملتا. اس لیے دھرنا بالکل درست مقام پہ دیا جا رہا ہے. مجھے یہ مان لینے میں کوئی دشواری نہیں کہ ہم پرلے درجے کے بے غیرت واقع ہوئے ہیں اور ہمارے حکمران ہم سے دو سو گنا زیادہ بے غیرت. وہ اس طرح کہ دنیا کی کسی بھی مہزب اور تعلیم یافتہ قوم میں تین گھنٹے کا دھرنا سارے نظام کو ہلا دینے کےلیے کافی ہوتا ہے اور ہمیں پروا بھی نہیں. عوام کی طرف سے دھرنا ایک استعارہ ہوتا ہے اس بات کا کہ ہمیں فلاں تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر توجہ دلانے کےلیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں تا کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے. اور مہزب نظام میں فوری طور پر حکومت اس مسئلے کو دور کر دیتی ہے. نہ صرف یہ بلکہ قوم سے اس پر معافی بھی مانگ لیتی ہے. ابھی چار دن پہلے کی بات ہے جاپان میں ٹرین ریلوے اسٹیشن سے پندرہ سیکنڈز جی ہاں صرف پندرہ سیکنڈز پہلے روانہ ہوئی اور جاپان کے ریلوے نے اس غلطی پر فوری معافی مانگ لی اپنے عوام سے. یہ تو قصہ تھا مہزب قوموں اور انکی حکومتوں کا. اب زرا دھرنے کی اصل تعریف اور نظریے کو سامنے رکھ کر اپنی قوم اور اس نظام پر اسے منطبق کریں.
دھرنے کے اغراض و مقاصد آپ سبھی کو پتہ کیا ہیں، جائز ہیں. عوام سے بجائے اپنی کوتاہی کی معافی مانگنے پر حکومت نے دھرنا کو بالکل درخور اعتنا نہ جانا یہ سمجھا کہ دھمکیوں اور سردی سے تنگ آ کر خود ہی گھر چلے جائیں گے. یہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہے جو حکومت نے کیا. اس کے بعد ابتدا ہی اس انداز میں کی کہ اگر یہ لوگ دھرنا ختم نہیں کرتے تو طاقت کا استعمال کریں گے. یعنی اپنی غلطی کا اور اس کے بدلے میں جو عوام کی دل آزاری ہوئی اس کا کہیں پہ کوئی زکر تک نہیں واہ. وزیر قانون خود اعتراف کر رہا ہے پارلیمنٹ میں کہ اس نے ترمیم کی اور وزیر داخلہ فرما رہے ہیں کہ ہم ثبوتوں کے انتظار میں. وزیر داخلہ صاحب ثبوتوں کے نہیں انتشار کے انتظار میں ہیں یعنی پرتشدد طریقے سے دھرنا ختم کروانے کے. حکومت کا دھرنے پہ یہ ردعمل ہی یہ ثابت کرنے کےلیے کافی ہے کہ اگر یہ دھرنا کسی مسجد یا پلے گراؤنڈ میں ہوتا تو حکومت ناک سے مکھی اڑانا بھی گوارہ نہ کرتی، مطالبات کو ماننا تو پھر دور کی بات ہے. 
دو بڑے اعتراضات جو حکومت اور لوگ لگا رہے ہیں یہ ہیں کہ
 دھرنے کی وجہ سے عوام کو مشکلات درپیش ہیں.
. دھرنے والوں کے مطالبات مان لیے گئے تو کل کو پھر کوئی دھرنا دے کر نئے مطالبات کر دے گا.
دونوں کے سادہ جواب ہیں کہ
 ہر کوئی یہ دیکھ رہا ہے کہ دھرنا ہو رہا ہے. یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ دھرنا کیوں ہو رہا ہے. عوام کی مشکلات دھرنے کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ مشکلات کی وجہ وہ عوامل ہیں جن کہ وجہ سے دھرنا دیا گیا ہے. نہ حکومت ختم نبوت بل میں ترمیم کرتی نہ دھرنا ہوتا اور نا عوام کو مشکلات ہوتی. دھرنا عمل کا ردعمل ہے. عمل کو نظر انداز کر کے رد عمل پہ بات کرنا غیر منطقی اور ناانصافی پہ مبنی ہے. جسے دھرنے کی مشکلات کا گلہ ہے وہ حکومت سے گلہ کرے جس کے عمل کی وجہ سے دھرنا دیا گیا.
 حکومت اعتراض کرتی ہے کہ اگر آج ان کے مطالبات مان لیے تو کل کو کوئی اور مطالبہ کر کے دھرنا دے دے گا. اس پر عوام کا یعنی ہمارا اعتراض یہ بنتا ہے کہ اگر آج دھرنا ناکام ہوا تو کل کو حکومت پھر ترمیم کر دے گی یا ایسا ہی کوئی اور گل کھلا دے گی. کیونکہ بڑا مسئلہ دھرنے کا ہی ہوتا ہے تو ایک دھرنے کی ناکامی کے بعد حکومت مزید شیر ہو جائے گی. ایک مجرم انسان کو پارٹی صدر بنانے کا بل بھی پاس کر چکی ہے حکومت. لہٰذا دھرنے کی ناکامی حکومت کو حوصلہ دینے کے برابر ہے کہ جو مرضی یے کرو کون سا عوام پوچھتی ہے. دوسری بات ان دھرنے والوں کے مطالبات کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے. حکومت مان لے تو قیامت نہیں آئے گی. کل کو اگر کوئی غلط مطالبات لےکر کے دھرنا دیتا ہے تو قوم ساتھ نہیں ہو گی. حکومت بے شک کسی کے غلط مطالبات کو مت مانے کل کو مگر آج کے درست مطالبات تو مانے نا. پتہ لگے کس کے کہنے پر کن مقاصد کےلیے اور کن کو خوش کرنے کےلیے ختم نبوت بل میں ترمیم کی گئی. اب جب امریکہ بھی ختم نبوت کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر چکا ہے تو حکومت کی حیثیت اس معاملے میں مزید مشکوک ہو چکی ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here