شناخت تقسیم ہونے پر ملک تقیسم ہوجایا کرتے ہیں

0
402

کسی ملک پر حملہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اسکی شناخت پر حملہ کرو !!

اس بات کی بے اندازہ اہمیت کو سمجھنے والے بہت تھوڑے ہیں ۔ میں آپکو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ شناخت یا نظرئیے کی کیا اہمیت ہے ۔

۔ 1947 سے پہلے ہمارے پاس کوئی ملک نہیں تھا محض ایک نظریہ تھا کہ بطور مسلمان ہم ایک قوم ہیں اور ہماری شناخت ہندو سے الگ ہے ۔ آپ دیکھ لیجیے کہ اس نظرئیے میں اتنی طاقت تھی کہ اسنے ایک ملک حاصل کرلیا ۔

پھر اس شناخت یا نظرئیے پر ایک کاری ضرب لگائی گئی اور کہا گیا کہ بطور بنگالی ہم ایک الگ قوم ہیں اور آپ دیکھ لیجیے نظریہ ٹوٹنے پر ملک ٹوٹ گیا ۔

“شناخت تقسیم ہونے پر ملک تقیسم ہوجایا کرتے ہیں ” ۔۔۔۔۔

کسی قوم کی شناخت میں دو چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں ۔ پہلی اسکا عقیدہ یا مذہب اور دوسری اسکی زبان ۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے چالاک اور عیار دشمن اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نہایت خوفناک انداز میں ہماری شناخت پر حملہ آور ہیں ۔ انکا یہ حملہ ہماری مذہبی شناخت پر ہی نہیں بلکہ ہماری زبان پر بھی ہے ۔ مذھبی شناخت پر حملے میں مختلف مسالک کے درمیان نفرت اور خونریزی کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے ۔

لیکن زیادہ خطرناک حملہ ہماری زبان یعنی اردو پر ہے ۔ آپ نوٹ کیجیے کہ پاکستان کو مذہبی بنیاد پر نہیں توڑا جا سکا ہے لیکن زبان کی نبیاد پر نہ صرف ایک بار توڑا جا چکا ہے بلکہ اب دوبارہ بھی ویسے ہی حالات پیدا کیے جا رہے ہیں ۔

بنگال ہم سے زبان کی بنیاد پر الگ کیا گیا ۔
بلوچستان میں زبان کی بنیاد پر فساد پیدا کیا جا رہا ہے ۔
خیبر پختوںخوا کی اے این پی اور سندھ کی جسقم وغیرہ بھی زبان کی بنیاد پر بغاوت اور الگ شناخت کی بات کرتی ہیں ۔

اردو پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور ایک باقاعدہ مسلط کی گئی جنگ سے زیادہ خطرناک حملہ ہے ۔ ہمارا یہ نعرہ تھا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ہماری زبان اردو ہے جس کو بدل دیا گیا اور پنجابی ، پٹھان ، سندھی اور بلوچی میں لوگوں کو تقسیم کر دیا گیا ۔ اردو کو قومی زبان تو بنا دیا گیا لیکن اسکو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکا ۔ تعلیم کی بات کریں تو ہمارے ڈاکٹر اور انجینیرز اردو زبان کے بجائے انگریزی میں تیار کیے جا رہے ہین ۔ اردو کو رومن انداز میں لکھنے کو عام کیا جا رہا ہے ۔ اور عام اردو میں اتنے انگریزی کے الفاظ شامل کیے جا رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ اردو اور انگریزن کا ایک نیا مسکچر سامنے آنے لگا ہے !!!

یہ ساری صورت حال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں اپنی شناخت کے معاملے میں جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی اردو کی حفاظت کرنی ہے ۔ ہم نے بطور پاکستانی یہ سبق ایک بار پھر دہرانا ہے کہ ۔۔۔۔ ” ہم ایک مسلمان قوم ہیں اور ہماری زبان اردو ہے ” ۔۔۔۔۔ یہی بطور پاکستانی ہماری شناخت ہے ۔ اوراس شناخت کی ہم نے حفاظت کرنی ہے ۔

تاکہ پھر کوئی اندرا گاندھی کی طرح یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو غرق کر دیا !!!

یاد رکھیے اگر اردو کمزور پڑ گئی تو آپ کو بکھرتے دیر نہیں لگے گی !!!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here