شمالی امریکہ کے شمال مغرب کا ایک وہ روسی وسیع خطہ، الاسکا آج امریکہ کی ملکیت ہے

0
649

کیسے بیچا گیا روسی امریکہ

شمالی امریکہ کے شمال مغرب کا ایک وہ روسی وسیع خطہ، الاسکا آج امریکہ کی ملکیت ہے لیکن ایک زمانے میں سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ 1867 میں روس کے زار الیکساندر دوم نے اپنے زیر نگیں پندرہ لاکھ مربع کلومیٹر پہ مشتمل اس امریکی خطے کو محض بہتر لاکھ ڈالر کے عوض بیچ ڈالا تھا۔ اتنی حیران کن فیاضی کے سبب ایک مربع کلومیٹر علاقے کے بدلے میں صرف چار ڈالر اسّی سینٹ بادشاہ کے ہاتھ لگے تھے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اس قدر منافع بخش خریداری پر بھی امریکہ کی سینیٹ اور کانگریس میں گرما گرم مباحث ہوئے تھے۔ مگر الیکساندر دوئم نے واشنگٹن میں متعین اپنے سفیر ایدوارد ستیکل کو انعام سے نوازا تھا کیونکہ انہوں نے درست لابنگ کی تھی اور روس کے ساتھ سودے کے مخالفین کو خاموش کرا دیا تھا۔ یہ قصہ تھا کیا؟

پہلے کہانی سے پہلے کا کچھ حصہ مختصرا” سن لیجیے۔ الاسکا کی دریافت وہان پہنچنے والے دو روسی باشندوں میخائیل گووزدیوو اور ایوان فیودروو کے سر ہے، جنہوں نے اسے 1732 میں دریافت کیا تھا۔ پہلے روسی آبادکار اس دریافت کے کوئی نصف صدی بعد وہاں پہنچے تھے۔ شروع میں الاسکا سے ہونے والی آمدنی جانوروں کی سمور کی فروخت کے طفیل ہوا کرتی تھی لیکن انیسویں صدی کے وسط میں تاج روس کی یہ شمالی امریکی نوآبادی نقصان دہ ثابت ہونے لگی تھی۔ جب اسے بیچا گیا تو وہ روس کا انتہائی دورافتادہ اور کم آبادی والا خطہ تھا جہاں کل ڈھائی ہزار روسی اور تقریبا” ساٹھ ہزار ریڈ انڈین اور اسکیمو رہا کرتے تھے۔

روس میں الاسکا فروخت کیے جانے کی بات سب سے پہلے 1854 میں جنگ کریمیا کے دوران اٹھی تھی۔ روس کی سرزمین سے علیحدہ ہونے کے باعث یہ دشمن ملک برطانیہ کے لیے آسان شکار تھا۔ حکومت امریکہ مدد کے لیے آگے بڑھی تھی اور اس نے روس کو تجویز دی تھی کہ وہ الاسکا کو 76 لاکھ ڈالر کے عوض بیج دینے کا ایک جھوٹا سمجھوتہ تحریر کر لے۔ سادہ لفظوں میں یوں امریکہ اسے اپنی ملکیت ظاہر کرکے اس پہ پرددہ ڈالنے کی تجویز دے رہا تھا۔ لیکن پھر اس مدد کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی۔ برطانویوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس علاقے سے صرف نظر کیا تھا۔ جنگ ختم ہو گئی تھی لیکن “غیر ضروری” الاسکا کو امریکہ کے ہاتھ بیچ دینے کا خیال روسی حکام کے ذہن میں جا گزیں ہو چکا تھا۔ شہنشاہ الیکساندر دوئم نے وزراء کے ساتھ طویل ملاقاتوں اور مباحث کے بعد بالآخر “روسی امریکہ” کی قسمت طے کر دی تھی کہ اسے بیچ ڈالا جائے۔

1867 کے موسم خزاں میں واشنگٹن میں متعین روس کے سفیر ایڈورڈ سٹیکل نے امریکہ کے سٹیٹ سیکریٹری ولیم سیووارڈ سے سودے کی شرائط بارے بات چیت کی تھی۔ معاملات پہ فریقین کے جلد متفق ہو جانے سے یہ لگا تھا کہ معاملہ طے ہو چکا ہے لیکن امریکی سینیٹرز اور کانگریس اس سودے کے آڑے آ گئے تھے۔ سیووارڈ اور امریکی صدر اینڈریو جانسن پہ تنقید کی بوچھاڑ کر دی گئی تھی۔ کبیدہ خاطر سیاست دانوں نے الاسکا کو “سیووارڈ کا ریفریجریٹر” اور”جانسن کا برفانی ریچھوں کا چڑیا گھر” جیسے نام دے دیے تھے۔ انہوں نے سیووارڈ اور جانسن کو ایسے ایسے القاب دیے تھے جن کا مہذب معاشرے میں ذکر تک کیا جانا ممکن نہیں۔ سینیٹر حضرات کے پلے بالکل نہیں پڑ رہا تھا کہ شمال مغرب کی اس وحشی بے ثمر زمین کو کیوں خریدا جا رہا ہے۔ سیووارڈ کو سب سے زیادہ لعنت ملامت کانشانہ سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سربراہ چارلز سیمنر نے بنایا تھا۔

سودا کھٹائی میں پڑتا دکھائی دینے لگا تھا، روسی سفیر کو مداخلت کرنی پڑی تھی۔ ستیکل نے الاسکا کی خریداری کے شدید مخالفوں اور اسی طرح امریکہ کے مشہور اخبارات کے مدیروں کی مٹھیاں خوب گرم کی تھیں۔ یوں اخبارات نے امریکہ کی سرحدوں کو وسعت دیے جانے کے خلاف لکھنا چھوڑ دیا تھا اور مصالحت پر غیر آمادہ سیمنر یک لخت الاسکا کی خریداری کا سب سے بڑا حمایتی بن گیا تھا۔ اس نے سینیٹ میں تین گھنٹے کا شعلہ بار خطاب کیا تھا اور ” برفانی ریچھوں کے چڑیا گھر” کے مخالفوں کی زبانیں گنگ کرکے رکھ دی تھیں۔ نتیجتا‘ پہلے سینیٹرز اور پھر کانگریس کے اراکین الاسکا کو امریکہ میں شامل کر لینے پر رضامند ہو گئے تھے۔ ستیکل نے الیکساندر دوئم کو کامیابی اور “عزت مآب شہنشاہ کے مفاد میں” ایک لاکھ ڈالر خرچ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ سفارتی زبان میں اس کا مطلب امریکی سیاستدانوں کو رشوت کی مد میں دیے جانے کا سفیر روس کا خفیہ خرچ تھا۔

مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عوض شہنشاہ نے ستیکل کو انعام مرحمت کیا تھا۔ البتہ عوام نے سفیر کی خدمات کو نہیں سراہا تھا کیونکہ درحقیقت اس نے روس کی بے بہا زمین اونے پونے بیچ دینے میں بادشاہ کا ساتھ دیا تھا۔ ستیکل جلد ہی مستعفی ہو گیا تھا اور پیرس چلا گیا تھا جہاں گمنامی کی موت مرا تھا۔ امریکی سٹیٹ سیکریٹری کا اقبال بلند ہوا تھا کیونکہ سودا کیے جانے کے کچھ سالوں کے بعد معلوم ہوا تھا کہ الاسکا کا سودا امریکہ کی تاریخ میں کیے گئے منافع بخش ترین سودوں میں سے ایک تھا۔ اس سرزمین میں تیل اور سونے کے ذخائر دفن تھے یوں سیوارڈ جسے ملعون قرار دیا جا رہا تھا ناقابل یقین حد تک مقبول ہو گیا تھا۔ ان دنوں ریاست الاسکا میں ماہ مارچ کے آخری سوموار کو سیووارڈ کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوں روس کی سفارت کاری کی فتح امریکہ کی کامیابی ثابت ہوئی تھی جس کے لیے وحشی الاسکا کی خریداری جیتی جانے والی لاٹری کا ٹکٹ ثابت ہوئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here