شام کو بیک وقت جمہوریت، عصبیت اور نفاذ اسلام کے جعلی نعرے کی مدد سے تباہ کیا گیا۔

0
894

جمہوریت و عصبیت کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو بیک وقت جمہوریت، عصبیت اور نفاذ اسلام کے جعلی نعرے کی مدد سے تباہ کیا گیا۔

شامی خانہ جنگی نام نہاد عرب سپرنگ ( عرب بہار ) کا حصہ تھی۔ جس میں خلیج کے کئی ممالک میں مقامی بادشاہوں کے خلاف عوام میں بغاؤت برپا کی گئی۔

اس نام نہاد ” بہار ” کو کنٹرول کون کر رہا تھا؟

جب لیبیا کا معمر قضافی عرب سپرنگ کا نشانہ بنا تو باراک اوباما نے فیس بک کے مالک مارک زکر برگ کے ساتھ ملکر اس کامیابی کا جشن منایا۔ خیال رہے کہ عرب سپرنگ میں سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

” بہار ” کے نام پر یہی آگ یمن میں بھی جلائی گئی جس کی تپش اس وقت ایران اور سعودی عرب دونوں محسوس کر رہے ہیں۔

شام میں یہ اسد حکومت کے خلاف پہلے احتجاج اور پھر حکومت اور باغیوں کے درمیان خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔ باغیوں نے فری سیرین آرمی بنائی جس کو امریکہ نے اعلانیہ سپورٹ کیا۔

اسد حکومت کو مسلکی بنیادوں پر ایران اور حزب اللہ نے مدد دی۔ جس کے نتیجے میں اس خانہ جنگی میں فرقہ وارانہ رنگ آگیا۔ تب شیعہ کے خلاف اعلان جنگ کرنے والی داعش وجود میں آئی جس نے بعد میں نفاذ اسلام کا نعرہ بلند کیا اور فری سیرین آرمی کے ایک بڑے حصے سمیت کئی قوتوں کو اپنے اندر جذب کر لیا۔

داعش کو خود القاعدہ کے کئی راہنماؤوں اور دنیا بھر میں تجزیہ کاروں نے امریکہ کا ” ٹول ” قرار دیا۔ ان لوگوں میں سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی شامل ہیں۔

امریکہ خلیج میں یہ خونی کھیل کیوں کھیل رہا ہے؟

یقیناً اسرائیل کے آخری اور فیصلہ کن خروج سے قبل زمین ہموار کرنے کے لیے۔ تاکہ اس کو مزاحمت کرنے والے مستحکم ممالک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جمہوریت کا فریب دے کر یہ جنگ شروع کروائی گئی۔

پھر مسلکی اور قوم پرستانہ بنیادوں پر مختلف گروہوں کو جنم دیا گیا جو آپس میں ٹکرا گئے۔

پھر ارد گرد کی قوتیں، امریکہ اور روس جیسے ممالک اس خانہ جنگی میں کود پڑے اور اپنے اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے لگے۔

اس خانہ جنگی نے شام میں درد ناک سانحوں کو جنم دیا۔ بہت سے بے گناہ لوگ قتل ہوئے۔ لاکھوں لوگوں کو شام سے ہجرت کرنی پڑی۔

شامی عوام نے جمہوریت، عصبیت اور قوم پرستی کی قیمت چکائی۔

اگر غور کریں تو شام جیسا کھیل پاکستان میں بھی کھیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کو برپا کیا گیا، جس نے بیک وقت پاکستان کی اسلامی آئیڈیالوجی یا شناخت، قومی یکجہتی، معیشت اور قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کیا اور ان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

فرقہ پرستی اور قومی پرستی کے نام پر کراچی، بلوچستان اور فاٹا میں عصبیت کی آگ جلائی گئی اور خانہ جنگی شروع کروائی گئی۔

امریکہ، برطانیہ، افغانستان، ایران اور انڈیا سمیت کئی ممالک پاکستان میں اپنی اپنی پراکسیز کو سپورٹ کرنے لگے۔

لیکن پاکستان شام نہ بن سکا۔ کیوں؟

پاکستان کی مسلح افواج کی بدولت۔ جو پاکستان کی بقا اور سلامتی کی جنگ دیوانہ وار لڑ رہی ہیں۔ اگر خدانخواستہ پاک فوج کو شکست ہوگئی تو پاکستان میں آنے والی تباہی شام سے کئی گنا بڑی اور دردناک ہوگی۔

اگر اس سے بچنا چاہتے ہو تو عصبیت ( قوم پرستی اور مسلک پرستی ) کے ان بدنما جھنڈوں کو جلا ڈالو اور اپنی افواج کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجاؤ۔ کوئی تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ ان شاءاللہ!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here