سیاچن اور کارگل جنگ کی اصل کہانی

0
450

سیاچن میں معمول تھا کہ دونوں افواج سخت سردیوں میں گلیشیر سے نیچے اتر آتی تھیں۔ ایک طرح کا غیراعلانیہ معاہدہ کہہ لیں۔
لیکن 84ء میں انڈین افواج بظاہر گلیشیر سے اترنے کے بعد نہایت خاموشی سے دوبارہ واپس چلی گئیں اور ان چوکیوں پر قبضہ کر لیا جو پاک فوج نے خالی کی تھیں۔

یہی انڈیا کی سیاچن فتح تھی۔

پاک فوج نے چوٹیوں کا قبضہ واپس لینے کی کوشش کی کامیابی نہیں ہوئی۔ چوٹیوں پر دوبارہ قبضے کے لیے ایک بڑی اور باقاعدہ جنگ کی ضرورت تھی جس میں ائر فورس کی بھرپور معاؤنت درکار تھی۔ پاک فوج کے پاس سیاچن کی سردی کا مقابلہ کرنے والے لباس بھی نہیں تھے۔

اس وقت جنرل ضیاء الحق روس کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی پراکسی جنگ لڑ رہے تھے جس میں روس شکست کے دھانے پر تھا۔ جنرل ضیاء کو اندیشہ تھا کہ انڈیا کے ساتھ ایک باقاعدہ جنگ کی صورت میں روس پاکستان کی پشت پر حملہ کر سکتا ہے اور پاکستان بیک وقت دونوں بڑی طاقتوں سے نہیں لڑ سکے گا نیز پاکستان افغانستان میں جیتی ہوئی جنگ ہار جائیگا۔

خالصتان تحریک اس وقت جڑ پکڑ چکی تھی اور ضیاءالحق کو امید تھی کہ سکھ آزادی حاصل کرلینگے جس کے بعد کشمیر خود بخود انڈیا سے کٹ جائیگا۔

لیکن اس کے باؤجود سیاچن کا بدلہ لینے کی خفیہ منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا۔ آپریشن کارگل کا ابتدائی خاکہ تیار کیا گیا۔

اس وقت جنرل ضیاء نے کچھ ایسے بیان بھی جاری کیے جس سے انڈیا کو لگا کہ درحقیقت اسکو سیاچن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔

۔ 87ء میں برگیڈیر پرویز مشرف نے ایس ایس جی کمانڈوز کی مدد سے” قائد ” نامی اہم ترین پوسٹ واپس حاصل کر لی جس میں وہاں موجود پوری کی پوری انڈین برگیڈ ماری گئی جنکی تعداد 300 بتائی جاتی ہے۔

۔ 88/89ء میں پہلی بار پرویز مشرف نے بطور برگیڈئیر بے نظیر بھٹو کے سامنے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے کارگل جنگ کا منصوبہ پیش کیا لیکن بے نظیر نے منصوبے کو مسترد کر دیا۔

کارگل میں بھی سیاچن کی طرح سخت سردیوں میں دونوں ممالک کی افواج نیچے اتر آتی تھیں۔ مئی 99ء میں پاک فوج نیچے اترنے کے بعد دوبارہ واپس گئی اور انڈیا کی خالی کی گئی تمام چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔

اس قبضے کے نتیجے میں سیاچن اور لداخ میں موجود انڈیا کی بہت بڑی فوج محصور ہوگئی اور ان کے لیے جانے والی اکلوتی سپلائی لائن پاکستان کے نشانے پر آگئی۔ اس سپلائی لائن کا 8 کلومیٹر حصہ تو ایسا تھا کہ وہاں کسی چیونٹی کے لیے بھی حرکت کرنا ممکن نہ رہا۔

انڈیا نے قبضہ واپس حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت استعمال کی۔ اس جنگ میں انڈیا نے سٹیٹ آف دی آرٹ بوفرز توپوں سمیت اپنی ائر فورس کی پوری قوت بھی جھونک دی۔ لیکن ناکامی ہوئی۔

پاکستان نے 6 اہم ترین چوٹیوں پر قبضہ کیا تھا جن میں سے صرف ایک پر جنگ جاری تھی۔ باقی انڈیا کو نظر ہی نہیں آرہی تھیں۔

کل قبضہ کی گئی پوسٹوں کی تعداد 130 تھی جن میں سے صرف تین یا چار ہی انڈیا واپس لے سکا تھا۔

اسی دوران پاک فوج نے انڈیا کے تین جہاز مار گرائے جس کے بعد انڈین ائر فورس نے اپنے حملے بند کر دئیے۔ انڈیا کو ناقابل برداشت جانی اور مالی نقصان ہو رہا تھا۔

جنگ کا منظر نامہ کیا تھا اس کی کچھ جھلکیان انڈینز کی زبانی۔

” پاک فوج کے 10 سپاہی انڈیا کے 1000 سپاہیوں پر بھاری پڑ رہے ہیں”۔۔۔ بحوالہ انڈیا ٹی وی

” دن میں تو حرکت کرنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ کھانا بنکروں میں بنتا تھا۔ لیٹرین بھی ہم ڈبوں میں کر کے بنکروں سے باہر پھینکتے تھے۔ دشمن کے مسلسل فائر سے ہمارا بہت زیادہ نقصان ہوا تھا ” ۔۔

” پاکستانیوں نے ہمیں اچھی طرح مارلگانے کے بعد چڑانے کے لیے اپنے ینکروں سے نکل کر بھنگڑا کیا۔ کہ اگر ماں کا دودھ پیا ہے تو مار لو اور ہمارے جوان اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ کسی نے فائر تک نہیں کیا ہماری بہت بے عرتی ہوئی تھی” ۔۔۔ میجرجنرل جی ڈی بخشی

” پاک فوج نے کارگل جنگ دراصل مقبوضہ کشمیرحاصل کرنے کیلئے لڑی تھی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ 99-1998 کی شدید سردی میں پاکستانی فوجی جوانوں نے ایل او سی کے شمالی اور بھارت کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ پاکستان نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کمانڈنگ پوزیشن پر قبضہ کر کے بھارت کو للکارا۔ اگر یہ قبضہ برقرار رہتا تو پاکستانی فوجی اور کمانڈوز بھارت کے کئی علاقوں میں داخل ہو کر بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیتے ۔ پاکستان نے ایک خطرناک منصوبہ کے تحت اسلئے کیا کیونکہ اس نے مقبوضہ کشمیر میں بغاوت کرا کر اپنی افواج کو وہاں پر بھی اتارنا تھا۔ ایک پلاننگ کے تحت پاکستان نے وہ کام کر دکھایا جس کی کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا تھا۔ امریکی خفیہ اداروں نے صدر بل کلنٹن کو کہا کہ وہ نواز شریف کو بلوا کر کہیں کہ وہ کارگل کا علاقہ چھوڑ دیں۔ کلنٹن انتظامیہ کو یہ بھی تشویش لاحق تھی کہ کہیں دونوں ممالک براہ راست ایک دوسرے پر حملے نہ شروع کر دیں ۔ پرویز مشرف نے کارگل پر چڑھائی سے پہلے چین اور کئی عرب ممالک کو اعتماد میں لے لیا تھا۔ امریکہ جان چکا تھا کہ جنگ کی صورت میں چین اور عرب ممالک پاکستان کیساتھ ہونگے جبکہ بھارت کی مدد روس اور اسرائیل کرینگے اور جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی ہو سکتا تھا جس سے دونوں ممالک کے ہمسائے بھی متاثر ہوتے ۔کتاب کے مطابق 3 جولائی 1999ء کو نواز شریف واشنگٹن گئے تو انکی عدم موجودگی میں مشرف نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا حکم بھی دیاتا کہ جنگ کی صورت میں بھارت پر بموں سے یلغار کی جائے ۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سینڈی برگر نے صدر کلنٹن کو مشرف کے عزائم سے باخبر کر دیا ۔چنانچہ نوازشریف اور کلنٹن ملاقات کے دوران امریکہ نے کہا کہ پاکستان کو فوراً کارگل سے فوج ہٹا لینی چاہئے ۔ امریکی دبائو میں آکر نواز شریف نے ایسا کرنے کے احکامات دیئے”

بھارتی مصنف شری ناتھ راگھون کی کتاب دی موسٹ ڈینجرس پلیس

” کارگل جنگ حقیقت میں بھارت نے نہیں جیتی” ۔۔بھارتی فوج کے سابق جنرل کشن پال کا اعتراف

دوران جنگ ہی انڈیا نے ایل او سی کراس کر کے پاک فوج کی کارگل کے لیے رسد کاٹنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش کرنے والے انڈین فوجی نہ صرف پاک فوج کے ہاتھوں مارے گئے بلکہ کئی زندہ بھی گرفتار ہوئے۔

اس وقت پرویز مشرف نے بیان دیا کہ اگر انڈیا نے جنگ بڑھائی تو پاکستان آخری حد تک جائیگا۔ جس کے بعد انڈیا جنگ صرف کارگل تک ہی رکھنے پر مجبور ہوگیا۔ یہ بیان انڈیا کی ہی بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری سے لیا گیا ہے۔

انڈیا کو یہ خدشتہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر جنگ چند ماہ اور جاری رہی تو کشمیر میں محصور کئی لاکھ انڈین فوج رسد ختم ہوجانے کی وجہ سے ہتھیار ڈال دیگی۔

انڈیا اقوام متحدہ اور امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مجبور کرتا رہا۔ بالاآخر 4 جولائی 1999 کو نواز شریف نے صدر کلنٹن سے ملاقات کے بعد پاک فوج کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد دوران پسپائی پاک فوج کو پشت پر کیے گئے حملوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

انڈیا اور ویکیپیڈیا کا دعوی ہے کہ انڈیا دوران جنگ ہی تقریباً 80 فیصد کارگل واپس لے چکا تھا۔
یہاں میرا ایک سادہ سا سوال ہے۔
اگر انڈیا 80 فیصد کارگل واپس لے چکا تھا تو جنگ بندی کے بعد چوٹیوں سے واپسی کرنے والی 4000 پاک فوج کہاں بیٹھی رہی؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں؟؟؟

پاکستان کے مطابق انڈیا کے 2000 کے قریب فوجی مارے گئے جبکہ انڈیا اپنی 700 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کرتا ہے۔
انڈیا کے مطابق پاکستان کے 700 فوجی مارے گئے جبکہ پاکستان اپنی 400 فوجیوں کی شہادت تسلیم کرتا ہے۔
لیکن نواز شریف کا دعوی ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے 4000 فوجی مارے ۔۔ 🙂
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اس الو کے پٹھے سے کوئی پوچھےکہ وہاں ہماری کل فوج ہی 4000 تھی۔ اگر سب ماری گئی تو واپس کون آئے تھے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیال رہے کہ پاکستان کے 400 میں سے تقریباً 300 کے قریب فوجی دوران پسپائی چوکیوں سے نکلنے کے بعد اور پشت پر کیے گئے حملوں میں شہید ہوئے۔

کیپٹن کرنل شیر خان ان چند جوانوں میں سے تھے جنہوں نے پوسٹیں خالی کرنے سے انکار کرتے ہوئے محض 27 ساتھیوں کے ساتھ انڈیا کی دو بٹالین فوج ( 1000 سے 1500) کا تا شہادت مقابلہ کیا۔

نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد پرویز مشرف اور نواز شریف میں کارگل کے معاملے پر محاذ آرائی شروع ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کو نقصان کا ذمہ دار ٹھراتے رہے۔
میڈیا اور اخبارات خاص کر جنگ گروپ نے اس آپریشن پر زبردست تنقید کی اور ملک بھر میں کارگل آپریشن کے خلاف مہم چلائی۔ پرویز مشرف کو کچھ ایسے آرمی کے سینئر آفیسرز کی بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جو پرویز مشرف کو اپنا حریف سمجھتے تھے۔ ان میں چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل فصیح بخاری جو چیف آف جوائنٹ سٹاف کمیٹی بننا چاہتے تھے اور لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان شامل تھے جس کو بائی پاس کر کے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا گیا تھا۔

نواز شریف نے اعلان کیا کہ اس کو اس جنگ سے لاعلم رکھا گیا تھا حالانکہ اسکی ویڈیوز آج بھی یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں جس میں اس نے دوران جنگ محاذ کا دورہ کر کے پاک فوج کو شاباش دی تھی۔

یوٹرن تب لیا جب امریکی دباؤ آیا۔ جس کے بعد نواز شریف نے ڈی سی سی میٹنگ کے دوران پرویز مشرف پر الزام لگایا کہ ” تم نے مجھے لاعلم رکھا” ۔۔ جواباً پرویز مشرف نے اپنی جیب سے نوٹ بک نکالی اور جنوری سے لیے کرجون تک وہ تمام تاریخیں اور بریفنگز گنوا دیں جو وہ اس معاملے میں وہ نواز شریف کو دے چکے تھے ۔ انکی تعداد سات تھی۔

 

پاک فوج نے کارگل میں بلکل وہی آپریشن کیا جو انڈیا نے سیاچن میں کیا تھا۔ لیکن نواز شریف نے انڈیا میں یٹھ کر اس کو “پیٹھ میں خنجر گھونپنے” سے تشبیہ دی۔

کارگل جنگ میں بظاہر پسپائی اختیار کرنے کے باؤجود پاک فوج نے پوائنٹ 5353 پر قبضہ برقرار رکھا۔ یہی کارگل کی سب سے بلند چوٹی ہے۔ پاک فوج جب چاہے بھارتی سپلائی لداخ اور سیاچین گلیشر کے لیے بند کر سکتی ھے۔ یہیں سے ٹائیگر ہل اور ارد گرد کا علاقہ پاکستانی توپ خانے کی زد میں ھے۔
پاک فوج یہاں پکے بنکر بنا چکی ہے اور سپلائی کے لیے سڑک بھی تعمیر کر لی گئی ھے۔

سچائی یہ ہے کہ انڈین فوج کو شکست دینے والی پاک فوج کارگل میں اپنے ہی وزیراعظم سے شکست کھا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ 

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here