سپہہ سالار جنرل محمد موسی خان ھزارہ

0
437

سپہہ سالار جنرل محمد موسی خان ھزارہ !۔

اسحاق محمدی
پاکستان آرمی کے سابق کمانڈر انچیف جنرل محمد موسی خان ھزارہ 20 اکتوبر 1908ء کو کوئیٹہ میں پیدا ہوئے۔ انکا والد سردار یزدان بخش خان المعروف یزدان خان 1890ء میں امیر جابر عبدالرحمان خان کی ھزارہ نسل کشی کی پالیسی سے بچنے کیلئے اس وقت کی برٹش بلوچستان میں مہاجرت اختیار کی تھی۔ وہ ھزارہ پائینر میں نائب صوبیدار کے عہدہ پر تھے، جہاں سے وہ ایک داخلی چپقلیش کی بنا پر قبل از وقت ریٹائر ہوئے تھے۔ موسی خان ھزارہ نے میٹرک تک تعلیم سنڈیمن ہائی سکول میں حاصل کی۔ سردار یزدان خان کے تعلقات ھزارہ پائینر کے بانی جنرل جیکب سے بہت اچھے تھے، انہی کی سفارش پر نوجوان موسی خان نےسپاہی کی حیثیت 18 روپے ماہوار تنخواہ پر 1926ء میں ھزارہ پائنر میں شمولیت اختیارکی۔ ھزارہ پائنر بنیادی طور پر انجئیرنگ کور کا حصہ تھا جسکے ذمے مواصلات یعنی روڈ، ریلوے ٹریکس کی تعمیر و دیکھ بھال تھا۔ اس وقت ھزارہ پائنر ژوب میں تعینات تھا۔ نوجوان موسی خان کیلئے یہ سخت امتحان کا دور تھا کیونکہ اسے سخت ترین جسمانی مشقت جیسے بیلچہ،کدال، جبل کا کام کرکے پہاڑ کاٹنا پڑ رہا تھا۔ بقول انکے اسوقت انکے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے اور کام کے دوران خون رس رہے تھے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔
۔1927ء میں اسکی شادی اسکی کزن گل شاہ سے ہوئی۔ بلاخیر 6 سال کی طویل محنت، مشقت اور انتظار کے بعد 1932ء میں موسی خان ھزارہ پہلے 40 مقامی انڈیئنز کے ساتھ برٹش آرمی آفیسرز رینک میں شامل ہوگئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مقامی لوگ صرف صوبیدار میجر کے عہدہ (نان کمیشنڈ آفیسر) تک ترقی کے حقدار تھے۔ ڈیرہ دھون ملٹری ایکیڈمی میں انکی تربیت ہوئی جہاں سے وہ 1935ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ 1941ء – 1938ء میں وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران برما اور شمالی افریقی محاذ پر تعینات رہے۔ شمالی افریقہ کے محاذ پر اعلی عسکری صلاحیتوں کا مظاھرہ کرنے پر اسے “آرڈر آف دی برٹش ایمپائر” سے بھی نوازے گئے جو بہت کم انڈییئن کے حصے میں آئے ہیں۔ محمد موسی خان ھزارہ کی ترقی کے مدارج:
۔ 1937ء لیفٹینینٹ۔
۔ 1941ء کیپٹن
۔ 1942ء میجر
۔ 1947ء لیفٹینینٹ کرنل
 ۔1948ء برگیڈیئر
۔ 1951ء میجر جنرل اور کمانڈر مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)۔
۔1957 لیفٹینینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی اور چیف آف اسٹاف مقرر
۔27 اکتوبر 1958ء کو فُل جرنل کے عہدے پر ترقی اور، پاکستان مسلح افواج کے کمانڈرانچیف مقرر ہوئے۔ اس طرح 1926ء میں ایک عام سپاہی کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز ھزارہ پائینر سے کرنے والے محمد موسی خان ھزارہ اپنی انتھک محنت، لگن اور استقامت سے 32 سال بعد دنیا کی پانچویں بڑی آرمی کے سپہہ سالار کے اعلی ترین عہدے پر فائز ھوگئے۔
ایمپریل ڈیفنس کالج لندن سیمت دنیا کی بہترین عسکری درسگاھوں سے فارغ التحصیل جنرل محمد موسی خان ھزارہ ایک خالص پیشہ ور آرمی سربراہ کی حیثیت سے اپنی فوج کی پیشہ ورانہ تربیت اور جنگی صلاحیتوں کے بڑھاوے کے ساتھ ساتھ جدید آلات حرب و ضرب کی خریداری پر خاصی توجہ دی جسکا ذکر انھوں نے تفصیل سے اپنی کتابوں “جوان ٹو جنرل اور مائی ورژن” میں کیا ھے۔ وہ خاص طور لیڈرشپ کوالٹی پر زیادہ زور دیتے تھے بقول خود انکے چاہے کوئی 10 سپاہیوں کی کمانڈ کررہے ہو یا پوری فوج کی ان میں قایدانہ صلاحیت ضروری ہیں اسکے بغیر چارہ نہیں”۔ انکی یہ کاوشیں 1965ء کی پاک – بھارت جنگ کے دوران کام آئی جب پاکستانی افواج نے پانچ گنا بڑی حملہ آور بھارتی افواج کا مشرقی و مغربی پاکستان کی بری، بحری اور فضا میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لاہور، سیالکوٹ اور چونڈہ میں دونوں ملکوں کی تاریخ کی بڑی لڑائیاں لڑی گئیں۔ خاص طور پراسمیں چونڈہ کا محاذ اس وجہ زیادہ مشہور ہوا جہاں دونوں ملکوں کی طرف دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی جسمیں بھارت کی طرف سے 225 ٹینک اور ڈیڑھ لاکھ آرمی کا مقابلہ پاکستان کے 150 ٹینک اور پچاس ہزار آرمی کررہی تھی۔ اس مشہور جنگ کے بارے میں خود جنرل موسی خان نے ایک محفل کے دوران بتایا کہ “وہ قیامت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس دن چونڈہ کا محاذ ایک قیامت کا منظر پیش کررہا تھا۔ زمین میں سینکڑوں ٹینکیں گولے داغ رہے تھے جبکہ فضا سے جنگی جہاز آگ برسا رہے تھے۔ بقول انکے اس وقت وہ ایک ہیلی کاپٹر سے اس ہولناک مناظر کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی فوج کا کمان بھی کررہے تھے”۔ یہ بات مشہورھے کہ بھارتی جنرل نے 6 ستمبر کی رات حملہ کرتے ہوئے دعوا کیا تھا کہ وہ ناشتہ لاھور جیم خانہ میں کرینگے جو ہمیشہ کیلئے شرمندہ تعبیر رہا۔ اسی لیے جنرل محمد موسی خان ھزارہ کو 1965ء کی جنگ کا ہیرو کہتے ہیں۔ وہ 8 سال اس منصب جلیلہ پر فائز رہنے کے بعد 17 ستمبر 1966ء کو ریٹائر ہونے کے بعد گورنر مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) مقرر ہوئے اور مارچ 1969ء تک وہ اس عہدے پر رہے۔ اسکے بعد مرحوم کو کئی دفعہ سفارت کی پیشکش بھی ہوئیں لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا۔
۔6 جولائی 1985ء کے المناک سانحے کے دوران انھوں نے ھزارہ قوم اور جنرل ضیاء کی مارشل لائی حکومت کے درمیان تاریخی کردار ادا کیا جسکے بناء پر دسمبر 1985ء میں گورنر بلوچستان مقرر ہوئے۔ وہ 12 مارچ 1992ء یعنی اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے جسکے دوران انھوں نے گڈ گورننس کی بہترین مثال قایم کی۔
جنرل محمد موسی خان ھزارہ کو کئی اعزازات سے بھی نوازے گئے جسمیں ھلال امتیاز ملیٹری، ھلال جرات ملیٹری، ھلال قائداعظم سولئین، ھلال پاکستان سولئین شامل ہیں۔ وہ ھاکی کے بھی بہترین کھلاڑی تھے۔ انکے نام سے آل پاکستان جنرل موسی خان ٹورنامینٹ کافی سالوں تک منعقید ہوتی رہی۔ خانم گل شاہ سے اسکے 6 بچے ھوئے، اسماعیل موسی (بچپن میں انتقال ہوا) ابرھیم موسی گالف کے اچھے کھلاڑی تھے (جوانی میں انتقال ھوا) حسن موسی اسکواش کے اچھے کھلاڑی اور ورلڈ سکواش فیڈریشن کے نائب صدر تھے ( کراچی میں مذہبی دہشتگردی کا نشانہ بنے)، عذرا موسی جنکی شادی ائرمارشل شربت علی چنگیزی سے ہوئی، مریم موسی جنکی شادی ڈاکٹر آغا انصار حسین سے ہوئی، اور زینب موسی جنکی شادی ونگ کمانڈر سکندرعلی سے ہوئی۔
جنرل محمد موسی خان ھزارہ اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک سادہ مزاج، پاکیزہ سیرت، اورکرپشن سے پاک انسان تھے۔ بلوچستان گورنرشپ کے دوران اکثر بغیر باڈی گارڈ کوہٹہ شہر اور مضافات خاص طور ھزارہ قبرستان، اپنی مرحومہ بیگم کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آیا کرتے تھے۔ لوگوں سے بڑی محبت سے ملتے۔ یقیناً وہ اپنے طرز کے ان گنے چنے حکمرانوں میں تھے جنکو پاکستان اور پاکستانی عوام سے محبت تھی۔ اقدار و روایات کے امین تھے۔ مرحوم برگیڈئر خادم حسین خان چنگیزی نے ایک دفعہ بتایا کہ “آرمی چیف بننے کے بعد جب جنرل موسی خان ھزارہ پہلی بار کوئٹہ آئے تو دیگر ہزاروں لوگوں کے علاوہ انکے والد سردار یزدان خان (مرحوم) بھی ویلر چیئر پر آئے ھوئے تھے حالانکہ جنرل موسی خان نے انکی پیرینہ سالی کے باعث انکو نہ لانے کی تاکید کی تھی۔ لیکن جب اسے اپنے والد کے آنے کا پتہ چلا تو تمام پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے فوراً انکے پاس پہنچے ادب سے جھک کر انکے ہاتھ کا بوسہ لیا، خیریت دریافت کی اور پھر استقبالیہ کی طرف چلے گئے۔ انکے اس عمل حاضرین عش عش کر اٹھے اور سبھی کہہ رہے تھے کہ موسی خان ھزارہ واقعی میں اس منصب جلیلہ کے لائق ہیں”۔۔ انکا ایک اور واقعہ بھی مشہور ھے گورنرشپ کے دوران ایک دن وہ ہدہ کی طرف نکل گئے۔ وہاں ایک بزرگ بلوچ کو دیکھا جو اکیلا گارے سے اپنے گھر کی چھت کی لیپائی کچھ اسطرح کررہا تھا کہ پہلے نیچے اتر کر بالٹی میں گھارا ڈالتا اور پھرچھت پر چڑھکر بذریعہ رسی اوپر کھینچ لیتا اور لیپائی کرتا۔ جنرل موسی خان ھزارہ نے اپنے ڈرائیور حاجی نصراللہ کو گاڑی ایک کونے میں لگانے کو کہا اور خود اس بزرگ کی طرف چلے گئے استسفار پر اس نے بتایا کہ اسکا کوئی بیٹا نہیں اسلئے اسے اکیلا یہ کام کرنا پڑ رہا ھے۔ جس پر گورنر موسی خان نے کہا “گھارا میں ڈالتا ھوں آپ اوپر اپنی لیپائی کریں اور آخر میں اپنا کارڈ بھی دیئے”۔ کہتے ہیں کئی دنوں بعد اس بزرگ نے وہ کارڈ کسی پڑھے لکھے کو دکھایا تو یہ سنکر یقین ہی نہیں ھوا کہ وہ مدد کرنے والا شخص کوئی اور نہیں خود گورنر بلوچستان جنرل محمد موسی خان ھزارہ تھے۔ بعد میں وہ کارڈ لیکر گورنر ہاوس گیا اور حسب ضرورت امداد بھی ملی۔ اتفاق جنرل اسٹور کے سجاد علی بتاتے تھے کہ موسی خان ھزارہ کے دور میں گورنر ھاوس کے بندے ایک پیکیٹ مصالہ کی بھی رسید ضرور لیکر جاتے۔ مرحوم ہرسال کروڑوں روپے قومی خزانے میں واپس کراتے۔ یہ روایت عرصے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے ریجن سے مفقود ھے
مزید طوالت سے بچنے کیلئے ایک آخری نکتے کا ذکر کرکے مضمون کا اختتام کرتے ہیں اور وہ انکی جسد خاکی کی ایران منتقیلی ھے۔ میرے خیال میں برصغیر پاک و ھند کے شیعہ و سنی دونوں کے ایک طبقے میں یہ ایک طرح رواج سا پڑگیا تھا کہ وہ عقیدتی بنیادوں پر مذہبی شہروں جیسے بقیع، نجف، کربلا، بغداد وغیرہ میں مدفون ہونا چاہتے تھے۔ چونکہ صدر صدام حسین کے دور کے عراق میں ایسا ممکن نہ تھا سو جنرل موسی خان ھزارہ نے مشہد میں روضہ امام رضا سے متصیل قبرستان میں مدفون ہونے کو ایک متبادل آپشن کے طورپر چنا ورنہ قرائین بتا رہے ہیں کہ انکی پہلی ترجیح نجف اشرف ہی تھی جوکہ انکا ذاتی اور عقیدتی فیصلہ تھا، حب الوطنی یا غیر حب الوطنی سے اسکا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جنرل مرحوم اپنے عمل سے ثابت کرچکے تھے کہ اس پایہ کے محب وطن پاکستان میں اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور رہے ہیں۔ انکی حب الوطنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ھے کہ انھوں نے نہ صرف بھارتی جارحیت کے مقابل اسکے دونوں بازووں کا کامیاب دفاع کیا بلکہ کئی عشرے ایوان اقتدار کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہنے کے باوجود ھر قسم کے کرپشن اور سکینڈلز سے پاک صاف اور مبرا بھی رہے، جبکہ دوسری طرف سب کے علم میں ہیں کہ عرصے سے نام نہاد محبان وطن، ملک و قوم کی لوٹ مار تو اپنا پیدائیشی حق گردانتے آئے ہیں بلکہ کچھ مزید اصلی قسم کے محبان نے مشرقی پاکستان اور سیاچن کو بھارت کے حوالے کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کیں۔
اس عظیم انسان کی روح کو سلام
نوٹ:۔
مرحوم جنرل محمد موسی خان ھزارہ کی کوئی جامع بائیوگرافی اردو اور فارسی میں دستیاب نہیں۔ اسلئے اس تحریر کی ضرورت عرصے سے محسوس کیجارہی تھی۔ امید ھے کوئی دوست اسکا فارسی ترجمہ بھی جلد کرینگے جسکا حلقہ، اردو سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ زیادہ ترمعلومات انکی خود نوشت سوانح حیات “جوان ٹو جنرل” سے لی گئی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here