سپاہی مقبول حسین جیسے غازی سے لے کے وہاڑی کے کرنل سہیل شہید تک

0
1041

شوقِِ منزل نے رکنے دیا نہ جنھیں (القول الصوارم) وطن سے محبت ایسی بلا ہے کہ جو انسان کو بے بس اور بے کس کردیتی ہے کہ وہ کچھ بھی کرنے سے پہلے وطن کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرتا ہے. بڑی بڑی قومیں محب وطنی کا دعویٰ کرتی آئی ہیں لیکن شاید انھوں نے پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کو نہیں دیکھا.

سپاہی مقبول حسین جیسے غازی سے لے کے وہاڑی کے کرنل سہیل شہید تک ایک صف ایسے لوگوں کی بچھی کھڑی ہے جنھوں نے اپنا کل متاع جو انسان کے پاس ہوتا ہے یعنی جان اس کے جانے کی پرواہ کیے بنا اپنے وطن سے محبت میں نزرانے پیش کیے ہیں. ملک کو امن کی خوبصورت وادی تک پہنچانے کے لیے راستے میں میرے فوجیوں نے ایسے ایسے خار چنے ہیں کہ عقل ہے محو تماشائے لب بام بھی.

ضرب عزب کے میدان میں سیکڑوں جانبازوں نے اس ملک کی خاطر گھر بار قربان کردیا. ایک انسان کا یہی سپنا ہوتا ہے کہ وہ اپنا گھر بنائے اور اسے خوبصورت بیوی بچوں سے سجائے اور بہترین روزگار کمائے. میرے شہدا بھی انسان تھے, انھوں نے بھی خواب سجائے ہوئے تھے. ہم اگر کوئی خواب سجا لیں تو اس کی تعبیر کے لیے لاکھوں مسائل سے گزر جاتے ہیں. لیکن میرے فوجی جوانوں اور شہدا نے اپنے ان سارے خوابوں کی تکمیل کو پس پردہ ڈالتے ہوئے اس ملک کو پھولوں کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ہے.

وہ بہار جو ہم سے چھن گئی تھی اسے دوبارہ واپس لانے کے لیے ہم نے تو سوائے موبائل سے سٹیٹس اپلوڈ کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن میرے شہدا کے خون ان گلوں میں شامل ہے. شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے بہت زرخیز ہوتی ہے بڑی شاداب ہوتی ہے میرے شہدا نے ملک کو اس موسم میں پہنچانے کی کوشش کی ہے جس میں خوشی کا پھول کھلتا ہے, امن کا تختہ لہلہاتا ہے. مسرت مدام کی کیفیت کا عالم ہوتا ہے اور بلبل کی خوبصورت آواز کانوں میں قدرتی رس گھولتی ہے. جہاں عزم و ہمت کے چناروں تلے نوجوان پلتے بڑھتے ہیں اور صبر و استقامت کے خوبصورت باغیچے غنچوں سے بھرے بھرے ہوتے ہیں. ان شاءاللہ جلد میرے شہدا کا یہ خواب تعبیر پائے گا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here