سوشل میڈیا ٹیم کے زیادہ تر معاملات کو عطاء الحق قاسمی ہی کنٹرول کرتے ہیں اور فی رکن 70 ہزار روپے تنخواہ بھی اسی کے ہاتھ ہمیں ملتی ہے

یہ خبر سن کر قاسمی صاحب کے کچھ کالمز پڑھنے کو دل کیا۔ ان کے مزاح سے بھرپور جملے پڑھ کر طبعیت شاداب ہوگئی۔ سوچا کچھ آپ سے بھی شیر کر لوں۔ اپنے 3 نومبر کے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ " مریم نواز کے انٹرویو کو بہت ناقدانہ نظروں سے دیکھا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس نے انتہائی مشکل سوالات کے جوابات منجھے ہوئے سیاستدانوں کی طرح دئیے۔" " مجھے یوں لگا جیسے اسکی زبان نہیں دل بول رہا ہو"

0
867

بڑا منہ چھوٹی بات ۔۔۔۔۔ !
عطاءالحق قاسمی صاحب کے بارے میں کچھ دن پہلے مریم نواز کی گرفتار ہونے والی سوشل میڈیا ٹیم نے انکشاف کیا کہ ” سوشل میڈیا ٹیم کے زیادہ تر معاملات کو عطاء الحق قاسمی ہی کنٹرول کرتے ہیں اور فی رکن 70 ہزار روپے تنخواہ بھی اسی کے ہاتھ ہمیں ملتی ہے ” ۔۔۔۔۔ 

یہ خبر سن کر قاسمی صاحب کے کچھ کالمز پڑھنے کو دل کیا۔ ان کے مزاح سے بھرپور جملے پڑھ کر طبعیت شاداب ہوگئی۔ سوچا کچھ آپ سے بھی شیر کر لوں۔

اپنے 3 نومبر کے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ ” مریم نواز کے انٹرویو کو بہت ناقدانہ نظروں سے دیکھا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس نے انتہائی مشکل سوالات کے جوابات منجھے ہوئے سیاستدانوں کی طرح دئیے۔”

” مجھے یوں لگا جیسے اسکی زبان نہیں دل بول رہا ہو”
” اسکی آواز کے والیوم میں اضافہ تک نہیں ہوا۔ ایک وقار، ایک ٹہراؤ جو اتنی کم عمری میں کسی کو ودیعت نہیں ہوتا”
یہ کچھ دن پہلے 44 سال کی کم عمر بچی مریم نواز کے ایک انتہائی متنازع انٹرویو کا تذکرہ ہے۔ جس کے کچھ حصوں کو بقول منیب فاروقی سنسر کرنا پڑا تھا۔۔۔ 

آگے لکھتے ہیں۔۔۔۔ ” حکومت بہ امر مجبوری 2018ء تک اپنے میگا پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے مسلسل کمپرومائزز کر رہی ہے۔ لیکن اب حد ہوچکی۔ اس لیے اب اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ ناگزیر ہے”

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کن میگا پراجیکٹس کا تذکرہ ہے ؟؟؟

30 اکتوبر کے کالم میں احمد نورانی پر ہونے والے حملے کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔۔۔ ” میں جب اخبار میں اس خوبصورت اور صاحب کردار نوجوان کی زخمی حالت میں تصویر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے ایک پاکستانی نہیں بلکہ میرے سامنے پاکستان زخمی حالت میں پڑا ہے” ۔۔ اس کے بعد قاسمی صاحب نے بقیہ کالم میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ کام بھی پاک فوج نے کیا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ اگلے ہی دن ” خوبصورت اور صاحب کردار ” نوجوان کے کسی لڑکی کے چکر میں مار کھانے کی خبریں آگئیں۔ ساتھ ہی ” خوبصورت اور صاحب کردار” نواجوان کا انٹرویو بھی جس میں اس نے کھل کر کہا کہ ” کچھ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے میرے معاملے کو فوج سے جوڑ رہے ہیں”۔۔۔

صرف یہ دو کالمز ہی پڑھ کر میں انکی مزاح نگاری کا قائل ہوگیا اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ اس لیے مزید کالمز پڑھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ۔۔ 

نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔ بڑے منہ سے مراد قاسمی صاحب کا علمی قد کاٹ ہے۔ وضاحت ضروری تھی کچھ لوگوں کو اس معاملے میں مغالطہ ہو جاتا ہے۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here