سات سالہ زینب کو اغوا کیا جاتا ہے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، قتل کیا جاتا ہے اور

0
509

معاشرے میں اگر زینب غیر محفوظ ہے تو آپ کی اور ہم سب کی بہن بیٹیاں بھی غیر محفوظ ہیں.

سات سالہ زینب کو اغوا کیا جاتا ہے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، قتل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد لاش کو بس اڈے کے پیچھے کچرے کے ڈھیر پہ پھینک دیا جاتا ہے

زینب کے حق میں آواز اٹھانے کےلیے کسی چیز کی ضرورت نہیں سوائے انسانیت کے. اور جس میں یہ بھی نہیں پائی جاتی وہ زینب کےلیے نہیں تو اپنی بچیوں کےلیے ہی آواز اٹھا دے.

کیونکہ یہ صرف ایک زینب کا مسئلہ نہیں سارے معاشرے اور پورے ملک کا مسئلہ ہے. بطور پاکستانی یہ ہمارے منہ پہ ایک طمانچہ ہے اور ہماری سماجی حالت پہ بدترین دھبہ بھی. زینب سے جنسی درندگی کے بعد قتل میں صرف وہ درندہ ہی شریک نہیں ہے بلکہ اس معاشرے کا ہر فرد شریک ہے جو خاموش ہے.

اگر ہم سات سال کی اس مظلوم بچی کو بھی انصاف نہیں دلوا سکتے تو بہ طورِ معاشرہ ہم پہ لعنت اور ان سب پہ بھی لعنت جو انصاف کے علمبردار بنے پھرتے ہیں.
سنگین علی زادہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here