زانی اور شرابی ملا ۔۔۔۔۔

0
1258

زانی اور شرابی ملا ۔۔۔۔۔ !

فضل الرحمن 2003ء میں المصطفی ٹاور ایف 10 مرکز اسلام آباد میں تیسرے فلور پر واقع اپارٹمنٹ نمبر 59-B میں رہائش پزیر ایک کم عمر خاتون سے ملنے آیا کرتے تھے۔

اس لڑکی کو مولانا نے اپنی بھانجی مشہور کروا رکھا تھا۔ یہ ملاقات ہفتے میں ایک بار ضرور ہوتی تھی اور مولانا اپنی بھانجی کے ساتھ ڈیڑھ دو گھنٹے گزار کر واپس تشریف لے جاتے تھے۔

مولانا کی آمد پر المصطفی ٹاور کے تیسرے فلور پر کرفیو کی سی کیفیت ہوتی تھی خاص کر قریبی فلیٹس والوں کی آمدورفت پر ٹاور کی انتظامیہ پابندی لگا دیتی تھی۔

تاہم لوگوں میں تجسس ضرور تھا کہ مولانا کی بھانجی اتنی ماڈرن کیوں ہے؟ موصوفہ ایرانیوں کی طرح لمبا چوغا پہنتی تھی جو گھٹنوں سے ذرا نیچے ہوتا تھا اور پنڈلیاں ننگی ہوتی تھیں۔ 
لوگ اس بات پر بھی حیران تھے کہ یہ بھانجی اکیلی کیوں رہتی ہے اور مولانا اس کو گھر کیوں لے کر نہیں جاتے؟ 
اور آخر اس ” بھانجی” کے اپنی فیملی کہاں ہے؟

سوشل میڈیا فضل الرحمن کی ایک آف شور بیوی کے حوالے سے خبریں گردش کرتی رہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق وہ موصوف کی داشتہ ہیں۔

فضل الرحمن کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ بات مشہوری ہے کہ موصوف اعلی درجے کے شرابی ہیں۔ اس حوالے سے فیض الحسن چوہان نے میڈیا پر آکر چیلنج کیا تھا کہ مولانا کے خون کا سیمپل لو اور اس میں الکوحل نہ نکلی تو میرا سر کاٹ دینا۔ اسکی ویڈیو اب بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔

فضل الرحمن کے والد مفتی محمود صاحب نے 52 سال کی عمر میں ایک 15 سال کی لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ موصوف 60 سال کی عمر میں فوت ہوئے تو 22 سال کی بیوہ چھوڑ گئے۔ جس کی فضل الرحمن نے کبھی دوبارہ شادی نہیں ہونے دی۔

مفتی محمود صاحب نے اپنی اس شادی کے بعد ایک بار ذولفقار علی بھٹو سے امریکہ جانے کی فرمائش کی تاکہ اپنے گھٹنوں کے درد کا علاج کر سکیں تو ذولفقار علی بھٹو نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا کہ ” مولانا صاحب میں خوب سمجھتا ہوں آپ کونسے گھٹنوں کا علاج کرنے جا رہے ہیں” ۔۔۔۔

یہاں جو جو فضل الرحمن کے پیروکار ہیں وہ مجھے فوری طور پر انفرینڈ یا بلاک کر سکتے ہیں ۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here