ریاست مدینہ کے ترجمان فواد چوہدری کے شراب پر پابندی کے خلاف دلائل

0
492

شراب نوش “ریاست مدینہ”…..شیم شیم شیم

نجس اسمبلی کا نجس فیصلہ

ہندو ممبر اسمبلی رمیش کمار نے شراب کی ممانعت کا بل کیا پیش کیا “مدینہ مدینہ” کرتی اسمبلی کو لمحہ بھر میں ننگا کرکے رکھ دیا

یہ اسمبلی تھی کہ شرابیوں کبابیوں کا مجمعہ؟ جن شرفاء کا کھانا شراب کے بغیر ھضم نہیں ہوتا شراب کا نام آتے ہی دائیں بائیں جھانکنے لگے کہ کون مسیحا ہماری روٹی پانی بچائے. آخر بیک زبان سبھی چِلّا اٹھے “نو, نو, بل منظور نہیں”

خاتون ممبر بولی: اسمبلی ممبران کیلئے شراب کا کوٹہ ہے اس بل کو بند کمروں میں طے کرو.. مرد تو مرد رہے عورت بولی تو کفن پھاڑ کے بولی

احکامِ قران کی ایسی کھلم کھلا توہین و مخالفت افسوس صد افسوس

اعلانیہ فاسق اور نجاست پسند تو حاکم ہو ہی نہیں سکتا یہی تو جنگ تھی حسین علیہ السلام اور یزید میں…. “نجاست کی پیداوار” جمعہ کے خطبے کیا کنڑول کرینگے..

نجاست پسندوں کی اسمبلی ختم نبوت اور ناموس رسالت کا خاک دفاع کرے گی؟

شیم شیم شیم….. تم سب ممبران اسمبلی پر

افسوس تمہیں اسمبلی پہنچانے والوں پر

دیکھا عجب تماشا پارلیمنٹ میں چشم فلک نے

کافر تھا شراب کا منکر, مسلم تھا اسکےحق میں

آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ  کہ شراب ام الخبائث اور ام الفواحش ہے ‘ اس کو پی کر انسان برے سے برے گناہ کا مرتکب ہوسکتا ہے … ایک حدیث مبارکہ میں پیغمبر مصطفی ﷺؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’شراب اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے‘‘ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ‘ -1 شراب بنانے والا -2 نچوڑے والا -3 پینے والا-4 پلانے والا-5 اس کو لاد کر لانے والا ‘-6 جس کیلئے لائی جائے -7 اس کا بیچنے والا-8 خریدنے والا-9 اس کو پیدا کرنے والا-10 اس کی آمدنی کھانے والا (جامع ترمذی)

جب تک شراب کی حرمت نہیں آئی تھی … تو شراب مدینہ میں بھی پی جاتی تھی … حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب شراب کو حرام قرار دیا گیا … تو حضورﷺ  کے منادی نے مدینہ کی گلیوں میں یہ آواز لگائی کہ مسلمانو! شراب حرام کر دی گئی ہے‘ تو جس کے ہاتھ میں جو برتن شراب کا تھا اس نے اس کو وہیں پھینک دیا جس کے پاس کوئی سبو یا خم شراب کا تھا اس کو گھر سے باہر لاکر توڑ دیا ‘ بعض روایات میں آتا ہے کہ اعلان حرمت کے وقت جس کے ہاتھ میں جام شراب لبوں تک پہنچا ہوا تھا اس نے وہیں سے اس کو پھینک دیا ‘ مدینہ میں اس روز شراب اس طرح بہہ رہی تھی … جیسے بارش کا پانی بہہ رہا ہو۔

صحابہ کرامؓ نے فرمانبرداری کرتے ہوئے … اللہ کے نبی ﷺ کے حکم پر آنا ً فاناً نہ صرف یہ کہ شراب کو ترک کر دیا … بلکہ اس کاروبار سے منسلک حضرات نے حکم رسولؐ کی بجاآوری میں اس کے کاروبار پر بھی لعنت بھیج دی … حکم الٰہی اور فرمان نبویؐ نے ان کی عادات میں ایسا عظیم الشان انقلاب پیدا کیا کہ انہیں شراب اور جوئے سے شدید نفرت ہوگئی۔

پاکستان بننے سے قبل متحدہ ہندوستان میں ہندوں ‘ سکھوں اور دیگر اقوام میں شراب بھی عام تھی اور جوا بھی عام تھا …  متحدہ ہندوستان میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی تھی … مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد …14 اگست 1947 ء کو لاکھوں بچے ‘ بوڑھے ‘ جوان‘ عورتیں اور مرد شہید کروانے کے بعدبالآخر پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کرلیا … پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا… اور لاکھوں جانیں پیش کرنے والوں نے انگریز سے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہوگا ‘ یہاں شراب‘ جوئے اور دیگر حرام کاموں پر مکمل پابند ی ہوگی۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی … اور مسلم لیگ ن کی حکومت … اس شراب کے ہر قسم کے کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر دیتی ‘ لیکن قومی اسمبلی اور حکمرانوں کی منافقت ملاحظہ کیجئے ‘ جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی محترمہ آسیہ ناصر نے 6 مئی2014 ء کو دیگر15 ارکان کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ‘ جن میں مسلم لیگ (ن) کی مسیحی رکن قومی اسمبلی نیلس عظیم ‘ مسلم لیگ (فنکشنل) کی ہندو رکن ریتا ایشور اور مسلم لیگ (ن) کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار بھی شامل تھے ‘ اس بل میں آئین کے آرٹیکل37 کی ذیلی شقH میں ترمیم پیش کی گئی ‘ جس کے تحت آئین کی اس شق سے غیر مسلم اور مذہبی مقاصد کا لفظ حذف کرنے کیلئے کہا  گیا تھا ‘ اس بل کا مقصد پاکستان میں شراب کے استعمال پر پابندی کا دائرہ غیر مسلموں تک وسیع کرنا تھا ‘ جمعیت علماء اسلا م کی اقلیتی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر  کا استدلال یہ تھا کہ  عیسائیت سمیت پاکستان میں کسی بھی اقلیتی مذہب کی رسومات میں شراب پینے کی اجازت نہیں ہے بلکہ شراب نوشی سے ملک میں سماجی برائیاں بڑھتی ہیں … اقلیتوں کی آڑ میں شراب کی فروخت درست نہیں ‘ شراب کوئی اور استعمال کرتا ہے … جبکہ بدنامی اقلیتوں کے حصے میں آتی ہے … شراب پر مکمل پابندی لگوانے کے حوالے سے پیش کیا جانے والا اقلیتی رکن اسمبلی کا بل وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور آفتاب شیخ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا… مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کہ جس کی عمارت کی پیشانی پر کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ درج ہے ‘ اس قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وہ بل یہ کہہ کر مسترد کر دیا … کہ ’’اس ترمیم کی منظوری سے دنیا بھرمیں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔‘‘

جمعیت علماء اسلام کی مسیحی رکن اسمبلی آسیہ ناصر نے بڑے دکھی لہجے میں بتایا کہ ’’قائمہ کمیٹی کی اس بات سے مجھے بہت صدمہ ہوا ہے کہ شراب پر پابندی سے ملک کی بدنامی ہوگی … آئین کی اس شق سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے عیسائی مذہب نے ہمیں شراب پینے کی اجازت دے رکھی ہے … حالانکہ ہمارے مذہب میں شراب نوشی کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور بائبل مقدس میں اس کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے ‘ لیکن آئین کے آرٹیکل37 کی ذیلی شقH میں لکھا ہے کہ نشہ اور مشروبات کے استعمال کی اجازت صرف طبی مقاصد کیلئے ہوگی یا غیر مسلم اپنی مذہبی رسومات میں استعمال کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسیحی مذہب سمیت ہندو سکھ اور بدو مت میں بھی ایسی مذہبی رسم نہیں جس میں شراب کے استعمال کا حکم دیا گیا ہو … اس لئے ہماری گزارش ہے کہ اس شق میں سے ’’غیر مسلموں کی مذہبی رسومات‘‘ کے جملے کو حذف کیا جائے … یہ جملہ امتیازی ہے اور اس  سے یہ سمجھا جاتاہے کہ پاکستان میں اقلیتیں شراب پیتی ہیں۔

انہوںنے سوال اٹھایا کہ ہر سال حکومت پاکستان 12 ارب روپے سے زائد کا ریونیو محض شراب کی فروخت سے حاصل کرتی ہے ‘ کیا یہ قیمتی اور مہنگی شرابیں صرف ’’اقلیتی برادری‘‘ ہی استعمال کرتی ہے؟ ہمارے مذہب نے جس شراب کو حرام قرار دیا ہے اس کی فروخت کو ہماری آڑ لیکر قانونی قرار دیا جائے یہ درست نہیں ہے اگر ایک غلطی برسوں سے چلتی چلی آرہی ہے تو کیا اسے ہم کبھی درست نہیںکریں گے؟ یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی ‘کہ جو شراب ‘ صرف مذہب اسلام ہی نہیں بلکہ عیسائیت میں بھی حرام ہے … اس قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے یہ کہتے ہوئے میڈیم آسیہ ناصر  کے پیش کردہ بل کو مسترد کر دیا کہ ’’اگر اس طرح کی کوئی پابندی عائد کی گئی تو پاکستان کو تنگ نظر ملک قرار دے دیا جائے گا۔‘‘

یعنی نہ اللہ کا خوف اور نہ ہی رسول اللہﷺ ؐکے حکم کا پاس ‘ ہاں البتہ اس بات کا ڈر ضرور کہ کہیں دنیا ہمیں تنگ  نظر قرار نہ دے دے … جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین جان بوجھ کر دنیا کے ڈر سے احکامات خداوندی کا کھلا مذاق اڑائیں گے تو پھر… یہ ملک کیا خاک ترقی کرسکے گا؟

شراب سے حاصل ہونے والا 12 ارب روپے ریونیو … اس قوم کے کس کام کا؟ کہ جس قوم کی اکثریت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے … چودہ سو پینتیس سالوں سے کوئی بھی مسلمان ملک ‘ مسلمان حکومت یا مسلمان عوام اس وقت تک ترقی کی معراج نہیں پاسکے کہ جب تک انہوں نے اپنے قوانین ‘ ثقافت ‘ علم و ادب ‘ معیشت اور معاشرت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے قوانین کو مقدم نہیں جانا … قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو کوئی بتائے کہ شراب سے سال کے 12 ارب  کی بجائے … اگر سینکڑوں کھرب بھی ریونیو میں وصول ہوں … تب بھی نہ یہ ملک ترقی کرسکے گا اور نہ ہی اس ملک کے عوام کی تقدیر سنور سکے گی ‘ تنگ نظر وہ قومیں ‘ وہ افراد اور وہ حکمران ہیں کہ … جنہیں اسلام جیسے روشن خیال مذہب کے احکامات پر یقین نہیں ہے … 1947 ء سے لے کر 1977 ء تک یہاں شراب نوشی جرم نہ تھی … تب پاکستان نے ترقی کیوں نہ کی؟1977 ء میں جب مسلمانان پاکستان نے ایک زبردست تحریک چلائی تو پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس شراب خانہ خراب پر پابندی عائد کر دی گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here