روس میں 2 کروڑ تک اہل دین ہیں

0
485

روس کے مسلمان

پچھلی مردم شماری کے مطابق روس میں 2 کروڑ تک اہل دین ہیں جو ملک کی آبادی کے تقریبا ً 13 – 10 فی صد کے برابر ہے- یہ حتمی اعداد و شمار نہیں ہیں کیونکہ روسی قوانین کے تحت مردم شماری کے دوران مذہب کے بارے میں سوال نہیں کئے جاتے- اس کی وجہ یہ ہے کہ روس میں مذہب ریاست سے الگ کر دیا گيا ہے- اس لیے اہل دین کی تعداد کا حساب کرتے ہوۓ ماہرین عمرانیات عموما ً ان قومیتوں کے نمائندوں کی تعداد پر توجہ دیتے ہیں جو روایت کے مطابق اسلام مانتی ہیں-

جہاں تک عیسائیت کے پیروکاروں کا تعلق ہے تو روس میں ان کی تعداد دس کروڑ سے زائد ہے جو تقریبا ً 80 فی صد آبادی کے برابر ہے-

روسی مسلمانوں کی اکثریت شمالی قفقاز میں، دریاۓ والگا کے کناروں پر، سلسلۂ کوۂ یورال سے ملحقہ علاقوں میں رہتی ہے- اس کے علاوہ مسلمان سائبریا کے جنوب میں اور روسی مشرق بعید میں، روس کے یورپی حصے میں یعنی اس کے مرکزی اور مغربی صوبوں میں بھی آباد ہیں- ماسکو کی آبادی ایک کروڑ سے زيادہ ہے اور اس میں کوئ بیس لاکھ اہل دین ہیں-

عیسائیوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو روس کا سب سے پرانا اور بنیادی مذہب سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دو مذاہب دراصل بیک وقت روس کے ان علاقوں میں رائج ہوۓ تھے جو بعد از اں ایک ہی ریاست میں متحد ہوگئے- 16 ویں صدی کے شروع سے روسی ریاست کی سرحدیں وسیع ہونے لگی تھیں اور مسلمان آبادی والے علاقے اور ریاستیں بھی روس میں شامل ہوتی رہی تھیں- ان میں سے ایک مسلمان ریاست خاص طور پر قابل ذکر ہے جن کا مرکزی شہر کاسیموو تھا جسے آج ریازان کہا جاتا ہے- 1467 میں اس ریاست میں سرزمین روس پر پہلی مسجد تعمیر کی گئی تھی- اور آج روس میں کل 6 ہزار مساجد ہیں-

ہم دعویٰ نہیں کر سکتے کہ روس میں اسلام کے بارے میں رویہ ہمیشہ اچھا تھا- شروع شروع میں ان علاقوں میں جو روسی ریاست میں شامل ہوۓ تھے مساجد کو تباہ کیا جاتا تھا لیکن 18 ویں صدی میں روسی ملکہ یکاتیرینا دویم نے ایک خصوصی فرمان جاری کیا تھا جس کا عنوان تھا “تمام مذاہب کے ساتھ رواداری سے پیش آنا”- اس فرمان کے تحت روسی عیسائ کلیسا کو دیگر مذاہب کے امور میں مداخلت کرنے سے منع کیا گیا تھا اور مسلم تنظیموں کو اپنی ترقی کے لیے سازگار حالات فراہم کئے گئے تھے-

اہل دین کی سب سے بڑی تعداد روسی رپبلک تاتارستان میں ہے جو دریاۓ والگا کے کناروں پر واقع ہے- وہاں کوئ 50 لاکھ افراد رہتے ہیں جن کا تقریبا ً آدھا حصہ تاتار، 40 فی صد سے کچھ زیادہ روسی اور باقی لوگ چوُواش، باشکیر، موردوا اور درجنوں دوسری قوموں کے ہیں- تاتارستان میں دو ریاستی زبانیں یعنی روسی اور تاتار ہیں-

تاتارستان کی آبادی دو مذاہب مانتی ہے- اس کا آدھا حصہ سنی اسلام کے پیروکار اور باقی 50 فی صد اورتھوڈکس عیسائ ہیں- اور یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ وہاں کے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کبھی جھڑپیں نہیں ہوئ تھیں- وہ اتنی مدت سے ساتھ ساتھ رہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے رواداری سے پیش آتے ہيں-

روس میں آباد مسلمان قران مجید کے عین مطابق سمجھتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعاون ان کی زندگی کا کلیدی اصول ہے کیونکہ عوام اپنے وطن اور پڑوسیوں کو اپنی مرضی سے منتخب نہیں کرتے بلکہ یہ خداوند کریم کے حکم سے ہوتا ہے-

تاتارستان معیشت کے لحاظ سے روس کے سب سے ترقی یافتہ علاقوں میں سے ایک ہے- مشین سازی تاتارستان کی معیشت کی سب سے بڑی اور اہمترین صنعت ہے- شہر نابیریژنی چیلنی میں ایک بڑا کارخانہ ہے جو اپنی موٹر کاروں اور ٹرکوں کے لیے مشہور ہے- اور تاتارستان کے دارالحکومت کازان میں شہری اور جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں، طبی سازوسامان کی پیداوار کی جاتی ہے- تیل کی صنعت اور کیمیائ صنعت کو بھی تاتارستان کی معیشت میں ایک خاص مقام حاصل ہے- تاتارستان غیرممالک سے سرگرم تعاون کرتا ہے- اس رپبلک میں درجنوں کارخانے واقع ہیں جن کے سرمایہ میں غیرملکی کمپنیوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے- تاتارستان کے شرکائے کار میں بھارت بھی شامل ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here