روس میں اسلامی تہذیب سو وابستہ جو قابل دید مقامات موجود ہیں ان میں رپبلک تاتارستان کے دارالحکومت کازان کا قدیم قلعہ یعنی کریملن شامل ہے-

0
1004

تاتارستان کے دارالحکومت کازان کا کریملن
روس میں اسلامی تہذیب سو وابستہ جو قابل دید مقامات موجود ہیں ان میں رپبلک تاتارستان کے دارالحکومت کازان کا قدیم قلعہ یعنی کریملن شامل ہے- وہ عالمی ثقافتی ورثے کی نمایاں ترین یادگاروں میں سے ایک ہے اور یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں بھی درج ہے-
کازان کے کریملن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تاتار اور روسی طرز معماری کا واحد نمونہ ہے- اس کی طویل تاریخ ہے- شروع شروع میں یعنی 10 ویں صدی تک اس جگہ ایک بستی تھی، پھر وہاں ایک قلعہ تعیمر کیا گیا اور 15 – 13 صدیوں میں وہ کازان سلطنت کا مرکز بن گیا تھا-
کازان کریملن کی اونچی اونچی دیواریں سفید اینٹوں کی بنی ہوئ ہیں- اس کے 13 برج ہیں جن میں سب سے خوبصورت سیومبیکی نامی برج ہے- اس برج سے بہت زيادہ قصّے کہانیاں وابستہ ہیں- برج کا نام کازان کی آخری رانی کے نام پر رکھا گیا ہے- قدیم داستان کے مطابق جب 16 ویں صدی میں ماسکو کے زار کی فوج نے شہر کازان پر قبضہ کیا تو رانی سیومبیکی نے برج سے کود کر خود کشی کرلی تھی-
بعد میں کازان کریملن کی دیواروں اور برجوں کی از سر نو تعمیر کی گئی- مسجد کل شریف اور دوسری عمارات کی جگہ روسی طرز کی عمارتیں اور گرجہ گھر بناۓ گئے- اس طرح قدیم روسی طرز معماری نے جو عیسائیت سے وابستہ ہے تاتار اسلامی تعمیری انداز کی حگہ لے لی تھی- لیکن جیسا کہ معلوم ہے تاریخی ارتقا کے دوران روسی طرز تعمیر یورپی اور مشرقی فن معماری کی روایات سے متاثر ہوا تھا- قدیم روسی گرجوں کی شکل و صورت میں اٹلی اور جرمنی کی معماری کی روایات کا امتزاج پایا جاتا ہے- اور ساتھ ہی ساتھ ان کی زیب و زينت کا حسن مشرقی طرز کا ہے-
کازان کریملن دو مذاہب یعنی اسلام اور عیسائیت کے اقدار سے متاثر ہے- وہ اسلامی اور سلاوک تہذیبوں کی ایک نمایاں یادگار ہے جو صدیوں سے ایک دوسرے کو اپنے اقدار اور روایات سے مالا مال کرتی ہیں- مثال کے طور پر کازان کریملن میں پانچ گنبدوں والا گرجہ ہے جو 16 ویں صدی میں تعمیر کیا گيا اور اس کے عین قریب پتھر کا بنا ہوا پانچ منزلہ بلند گھنٹہ گھر ہے جس پر کازان کا سب سے بڑا کوئ 25 ٹن وزنی گھڑیال لگایا گیا ہے-
وہیں کریملن میں کازان اور سارے تاتارستان کی جامع مسجد کل شریف بھی واقع ہے جو 2005 میں تعمیر نو کے بعد کھلی ہے- اس میں ڈیڑھ ہزار اہل دین کے لیے گنجائش ہے- اوراس کے سامنے مزید دس ہزار افراد کے لیے جگہ ہے- چار مناروں میں سے ہر ایک 57 میٹر بلند ہے- مسجد کا قبہ اس اس شکل سے ملتا ہے جو “کازان ٹوپی” کے طور پر مشہور ہے- مراد کازان کے خانوں کے تاج سے ہے جو کازان پر روسی ریاست کے قبضہ کے بعد ماسکو لایا گیا تھا- آج وہ ماسکو کریملن کے میوزیم میں رکھا ہوا ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here