رائونڈ محل کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔ !

0
1193

رائونڈ محل کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔ !

نواز شریف نے دوسری بار اقتدار حاصل کرنے کے فوراً بعد رائے ونڈ کی رہائش گاہ کو وزیر اعظم کیمپ آفس کا درجہ دیدیا اور یوں وفاقی ادارہ پی ڈبلیو ڈی کو اس رہائش گاہ کے تمام اخراجات اور ترقیاتی پروجیکٹس کے اخراجات ادا کرنے کا پابند قرار دے دیا گیا ۔ وہاں کام کرنے والے 1000 سے اوپر ملازمین کی تنخواہیں بھی قومی خزانے سے ادا کی جانے لگیں۔ وزیر اعظم کیمپ آفس کے علاوہ پی و ڈی کوپابند کیا گیا کہ وہ اس سے ملحقہ وزیر اعظم اور انکے عزیز و اقارب کی رہائش گاہوں پر بھی وسیع پیمانے پر ضروری اخراجات ادا کرے گا۔

اپنی وزارت عظمی کے تیسرے دور میں بھی اسی عمل کو دہرایا گیا ہے۔

اس حوالے سے برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز میں ایک تنقیدی مضمون بھی شائع ہوا۔

اس معاملے کا آغاز تقریباً دو عشرے پہلے ہوا۔

26 جولائی1992ء کو اسلام آباد سے ایک شاہی فرمان جاری ہوا۔ یہ فرمان کمشنر لاہور ڈیویژن کے نام تھا ۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے اس فرمان کے ساتھ کمشنر لاہورکو سرکاری خزانے سے 5 کروڑ روپے جاری کیے تاکہ وہ شریف خاندان کی رائونڈ میں واقع اس عالیشان رھائش گاہ کو لاہور سے جوڑنے والی سڑک کی حالت کو بہتر بنائیں ۔

شروع کے اقدام کے طور پر پی ڈیلیو ڈی کی طرف سے رہائش گاہوں اور وزیراعظم کیمپ آفس کی تزئین و آرائش کے لیے 8 کروڑ روپے کی سمری وزیر اعظم ہاؤس کو بھیجی گئی جو چند لمحوں میں منظور ہو کر وزارتِ خزانہ کے پاس پہنچ گئی اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں اس شاہی رہائش گاہ پر ترقیاتی کام شروع ہو چکا تھا یہ ایک طرح سے وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے کھلی جارحیت تھی کیونکہ ریاستی قوانین کے مطابق کسی کیمپ آفس پر مستقل نوعیت کی کوئی تعمیرات نہیں کی جاسکتی ہیں لیکن ان تمام قوانین اور ضابطوں کو روند دیا گیا۔

بعد ازاں ایک شاہی فرمان کے ذریعے سوئی ناردرن گیس کو شریف فارم سے احکامات موصول ہوئے ۔ پہلا حکم نامہ یہ تھا کہ مذکورہ محکمہ فوری طور پر مرکزی گیس پائپ لائین کو شریف فارم سے منسلک کردے اور اس کام میں کسی نوعیت کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے اس موقع پر خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا کہ گیس کی سپلائی کے ساتھ کسی دوسرے کو کنکشن نہ دیا جائے۔ مقامی لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن ان کی درخواستوں کو واپس کردیا گیا ایک محتاط اندازے کے مطابق گیس پائپ لائین کی اس تنصیب پر قومی خزانے سے 7 کروڑ روپے (جو کہ آجکل کے 70کروڑ روپوں کے برا برہیں ) خرچ کئے گئے۔

وفاقی محکموں سے بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ پنجاب حکومت کی طرف سے شروع ہوا وزیر اعظم کے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ضلع کونسل لاہور کو ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ضلع کونسل فوری طور پر 20 فٹ کارپٹڈ سڑک تیار کرائے جو شریف فارم کے درمیان سے گزرے ۔ فوری طور پر بھاری اخراجات کے بعد وزیر اعلیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ضلع کونسل نے ایک شاندار سڑک تعمیر کرادی۔ اس کے بعد ایک اور حکم نامہ جاری ہوا جس کے مطابق ضلع کونسل لاہور نے اڈہ پلاٹ رائے ونڈ سے شریف فارم تک نہر کے دونوں کناروں پر سڑک کو شریف فارم تک پہنچا دیا ۔رائے ونڈ فارم پر قومی خزانے کے بے تحاشا اصراف سے صرف فارم کے لئے ترقیاتی کام تو جاری رہا لیکن قریبی دیہات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا صرف شریف فارم کو مختلف بڑی سڑکوں سے جوڑنے کے لیے جو سڑکیں بنائی گئیں اس پر 32 کروڑ روپے خرچ ہوئے لیکن ساتھ ملحقہ دیہات میں اینٹوں سے بنی ہوئی سڑکیں بھی نہ تھیں اورغریب کسان کچے راستوں سے اپنی زرعی مصنوعات منڈی تک پہنچانے پر مجبور تھے۔

شریف فارم کے ساتھ ہزاروں ایکڑ پر جوبلی ٹاؤن نامی اسکیم کا اعلان کیا گیا ۔ حالانکہ حکومتِ پنجاب کی اعلان کردہ جوہر ٹاؤن اسکیم اور سبزہ زار اسکیم ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی تھیں ‘ لیکن جوبلی ٹاؤن کا منصوبہ صرف اس لئے بنایا گیا کہ شریف خاندان نے جو زمین بہت کم نرخوں پر خرید کر سرکاری خزانے سے ترقیاتی کام کروا کر قیمتی زمین میں تبدیل کرلی تھی اس کو جوبلی ٹاؤن میں شامل کرکے اربوں روپے کمائے جائیں۔

اس عظیم الشان منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 80 دیہات کا پانی بند کردیا گیا۔ میاں شریف کے حکم پر بچہ کہنہ نہر کا وہ حصہ جو شریف فارم سے گزرتا ہے اس کو پختہ کیا گیا نہر کے دونوں کناروں کو بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ پختہ کیا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کام پر قومی خزانے سے80 ملین روپے خرچ ہوئے دوسرا محکمہ انہار کے مقامی عملے کے لئے تھا جنہیں وزیر اعلیٰ نے سختی کے ساتھ کہہ دیا کہ اب اس خوبصورت اوتر پختہ نہر سے مقامی زمین دار پانی حاصل نہیں کر سکیں گے ۔

کسانوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا۔جس کے باعث ان کی تیار فصلیں سوکھ گئیں اور ان کے مویشی پانی کو ترس گئے ۔ مقامی کسانوں نے اس ظلم کے خلاف جب احتجاج کرنا چاہا تو ان پر چڑھائی کے لئے پنجاب پولیس کے جوانوں کو حکم دیا گیا جنہوں نے غریب نہتے کسانوں کی خوب مرمت کی۔ واضح رہے کہ اس شاہی حکم نامے سے پہلے 80 مقامی دیہات کو اس نہر سے پانی حاصل ہوتا تھا اور اس سے لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہوتی تھی۔

نواز شریف نے تیسری بار وزیراعظم بننے کے فوراً بعد اس رہائش گاہ کو وزیراعظم ھاؤس کا درجہ دے دیا۔ چنانچہ اب اس کے گیس اور بجلی کے بل سے لے کر اس کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی حفاظتی دیوار تک لیے قومی خزانے سے رقم ادا کی جاتی ہے۔

25000 کنال کے وسیع و عریض احاطے والے اس عظیم الشان محل کی مارکیٹ ویلیو شریف خاندان نے 40 لاکھ روپے ڈکلیر کر رکھی ہے ۔۔۔۔ 

تحریر شاہد خان ( اقتباس کتاب شریف خاندان نے پاکستان کس طرح لوٹا ؟ ۔۔۔ مصنف سید عبید مجتبی )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here