ذرا کوئی مجھے بتائے کہ یہ جمہوریت کیا چیز ہے ؟ یہ شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کس بلا کا نام ہے ؟ لبرم ازم ، استحقاق اور عوام کی فلاح سے کیا مراد ہے ؟

0
518

( پاکستان میں جمہورت اور آزدی نے جو تہلکہ مچا رکھا ہے اس کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے ۔ یہ میرا پہلا اور شائد آخری مضمون ہے جو میں نے کسی اخبار کے لیے لکھا تھا لیکن انہوں نے چھاپنے سے انکار کر دیا تھا کہ ہماری پالیسیوں کے خلاف ہے 🙂 )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں ان بے معنی تصورات اور نظریات سے تنگ آچکا ہوں جنہوں نے لوگوں کو ایسا بدمست کر دیا ہے کہ اب ان کو کہیں اور دیکھنے کا ہوش نہیں رہا ہے ! جبکہ حقیقی زندگی میں یہ قطعاً بے معنی ثابت ہوتے ہیں ۔ ان احمقانہ تصورات اور نظریات کو زندہ رکھنے والے یہ نام نہاد دانشور اور ماہرین جنکو ایک خاص راہ پر لگا دیا گیا ہے اور اب انکی اوٹ پٹانگ باتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ! ان کو اس راہ پر لگانے والے انکی حالت سے محظوظ ہو رہے ہیں !!!

ذرا کوئی مجھے بتائے کہ یہ جمہوریت کیا چیز ہے ؟ یہ شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کس بلا کا نام ہے ؟ لبرم ازم ، استحقاق اور عوام کی فلاح سے کیا مراد ہے ؟ یہ سارے کیا گورکھ دھندے ہیں ؟

جمہوریت جس کے سارے فلسفے کی بنیاد میں یہ خوف رکھا جاتا ہے کہ اگر ریاست کا سارا اختیار ایک شخص کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو وہ ملک اور قوم کو بیچ کر کھا جائیگا ۔ پھر یہ نام نہاد قسم کے دانشور اسی فلسفے پر آگے ہی آگے بڑھتے رہتے ہیں اور اسکی نت نئی تعریفیں کر کے عوام سے داد وصول کرتے ہیں ۔ ان ابو جہل نما دانشوروں کو کبھی اتنی فرصت نہیں ملتی کہ ان فلسفوں کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ لیں ۔ نتیجے میں بادشاہی جس کے لیے قدرت کا قانون ہے کہ وہ ایک شخص کے ہاتھ میں رہنی چاہئے کروڑوں لوگوں پر تقسیم ہو جاتی ہے ۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان جمہوری پارلیمنانی اداروں سے کبھی کوئی معقول فیصلہ سرزرد ہو سکے جبکہ یہاں فیصلہ گنتی کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ان میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں شدید اختلافات رکھنے کے علاوہ محدود عرصہ حکومت ہونے کی وجہ سے بے شمار مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں اور ہر معاملے کے بارے میں انتہائی متضاد رائے رکھتے ہیں ۔!!!

ان کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ وہ واحد شخص جس کو ملک کے لوٹ کسوٹ میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی وہ اس ملک کا کوئی مطلق العنان حکمران ہی ہو سکتا ہے ۔ ذرا انسان کی قدیم تاریخ سے لے کر آج تک کا جائزہ لیجیے ۔ ہزاروں بادشاہوں میں سے کتنوں نے اپنے ملکوں کو بیچ دیا تھا ؟؟؟
جدید دور کو ہی ایک نظر دیکھتے ہیں ۔ صدام حسین کے کردار پر ہزار اعتراض کریں لیکن اس سے انکار نہیں کہ اس نے عراق کو متحد رکھا اور اس کے دور میں عراق نے ترقی کی ۔ معمر قضافی نے لیبیا جیسے میں ملک میں عوام کو وہ کچھ دیا جسکا تصور صرف یورپ اور امریکہ میں کیا جا سکتا ہے ۔ چین میں کونسی جمہوریت ہے ؟ وہاں جب مسلسل تیس سال ماوزے تنگ نے حکومت کی تب کہیں جا کر چین مستحکم ہوا ۔ عرب ممالک میں کونسی جمہوریت ہے ؟ ملائشیا کو اسلامی ملکوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسکی ترقی کا راز ایک شخص کی مسلسل چالیس سال تک حکمرانی ہے ۔ حتی کہ مصر اور اردن تک جہاں کے بادشاہ کسی اور کے تابع تھے وہاں بھی عوام کی حالت اچھی تھی ۔پاکستان میں آج بھی لوگ جرنیلوں کے دور میں یاد کرتے ہیں ۔

اب ان میں سے کئی ممالک میں جمہوریت آچکی ہے ۔ اب انکی حالت دیکھیے اور لطف اٹھائے ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک دلچسپ بات یہ کہ برطانیہ جسکو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اور جہاں سے ڈیڑھ سو سال پہلے یہ فتنہ پھوٹا تھا انہوں نے خود آج تک آمریت کی نشانی کو اپنے سینے سے لگا رکھا ہے ۔ اس نشانی کو ہم ” برطانوی شاہی خاندان ” کے نام سے جانتے ہیں ۔

ایک شہر پر تجربہ کیجیے ۔ انکو اختیار دیں کہ وہ اپنی حکومت خود بنائیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی عرصے میں حکومت کرنے کے خواہشمند ایک یا ایک سے زیادہ غیر منظیم گروہ وجود میں آجائینگے اور فوری طور پر آپس میں برسرپیکار ہو جائینگے ۔ ہر طرف جھڑپیں ،اختلافات ، انتشار اور بد نظمی دکھائی دے گی بلکہ ایک خانہ جنگی کی سی کیفیت ہوگی ۔ بالاآخر سب کچھ مٹی کا ڈھیر ہو جائیگا ۔ یہی عوام کی فطرت ہے !!!

اب آپ کو بظاہر جہاں جہاں جمہوریتیں کامیاب نظر آتی ہیں وہاں ایک ذرا تحقیق کیجیے ۔ آپ جلد ہی ان ہاتھوں کو ڈھونڈ نکالیں گے جو وہاں کی چمکتی دمکتی جمہوریتوں کو کنٹرول کر رہے ہیں ۔ طاقت کی اصل لگام وہاں بھی عوام کے ہاتھوں میں نہیں ہے !!!

اس بات سے انکار کرنا ممکن نہیں کہ دنیا میں اچھے لوگوں کی نسبت برے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اسلئے ان پر طاقت کے ذریعے ہی حکومت کی جا سکتی ہے نہ کہ جمہوری طریقوں سے !!!

آپ اپنے نہایت معقول اور دانشمندانہ اقدامات پر عوام کے ایک ہجوم کو محض اپنے دلائل سے کبھی قائل نہیں کر سکتے کیونکہ آپکے ان معقول اور دانشمندانہ اقدمات پر نہایت احمقانہ اور متضاد قسم کے اعتراضات پیش کیے جا سکتے ہیں اور اکثر سطحی سوچ رکھنی والی ” عوام ” ان اعتراضات کو قبول بھی کر لیتی ہے !!!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمہوریت کے ساتھ ہی ایک اور خطرناک فتنہ ہم پر مسلط کیا جا چکا ہے اور وہ ہے مختلف طرح کی آزادیوں کا تصور !!!!

یہ شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی انکی مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی ۔ یہ ایک خوفناک اور سمجھ میں نہ آنے والا تصور ہے جو عوام کو بدمست کر دیتا ہے ۔ انکے ذہین اتنے پراگندہ ہو جاتے ہیں کہ اپنی اس آزادی کے زعم میں بالاآخر وہ اللہ کی ذات اور اسکے احکامات پر بھی انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں !! 🙁

ایک جاوید غامدی صاحب ہیں جو اللہ کی ذات اور اسکے احکامات کو عقلی بنیادوں پر پرکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ۔ انکے ایک پروگرام میں پروگرام کے میزبان سے غامدی صاحب سے یہ سوال کر کے مجھے حیران کر دیا کہ ۔۔۔ ” کیا مذہب انسان کو روبوٹ سمجھتا ہے جو انسان پر اتنی پابندیاں عائید کرتا ہے ” ۔۔۔ تب مجھے اسکی خوفناکی کا اندازہ ہوا کہ یہ سمجھ میں نہ آنے والی آزادیاں کیا گل کھلا رہی ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آزادیوں کا راگ الاپنے والے یہ دانشور آج تک آزادی کی کوئی واضح تعریف ہی نہیں کر سکے ہیں ۔!!!

میرے خیال میں آزادی کی ایک سادہ سی تعریف یہ کی جا سکتی ہے کہ انسان کو ہر وہ کام کرنے کی آزادی ہو جسکی قانون اور اخلاق اجازت دیتے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اخلاقی پیمانے کوئی مذہب ہی بنا سکتا ہے ۔ یہ ایک لطیف سا احساس ہے ۔ صرف اللہ کی ذات پر غیر متزلزل یقین ہی انسان میں وہ خوبیاں پیدا کر سکتا ہے جنکو ہم اخلاق کہتے ہیں ۔ یہ یقین نہ ہو تو صرف قانون رہ جاتا ہے جس کے ساتھ کھیلا جا سکتا ہے کیونکہ یہ انسانوں کے معین کردہ ضابطے ہیں !!

اظہار رائے کی آزادی جو ” آزادی ” ہی کی ایک شاخ ہے کی بھی کوئی حدود متعین نہیں کی جا سکیں ۔ اس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ ۔۔۔

“فکر ہو اگر خام تو ازادی افکار
قوموں کی تباہی کا ہے ایک بہانہ” !!!

مطلب یہ کہ کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو انکو یہ اختیار دے دو کہ جسکی جو مرضی ہو کہتا رہے ۔ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائینگے کہ ایک نہایت مختصر سے عرصے میں پوری قوم ایک زبردست قسم کی بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہو جائیگی اور فوری طور پر ہر چیز پر سے انکا اعتبار اٹھ جائیگا ۔ !!!

ذرا اپنے ٹی وی کے پر ہونے والے ٹاک شوز اور ایوان کی مجالس کو دیکھیے اور انکا مزہ لیجیے ۔ یہ چیختے چلاتے لوگ اور انکی کبھی ختم نہ ہونے والی فضول گوئیوں کے مقابلے انہی عجیب و غریب آزادیوں کا پھل ہیں ۔!!!

جمہوریت اور آزدیوں کے ان پھندوں میں پھنس کر عام محنت کش عوام اپنی اس کمائی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو اسے ملنی ہوتی ہے ۔ لیکن یہ باز نہیں آتے کیونکہ ان تصورات کے پیچھے انکو سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں جن میں یہ ہر بار کھو جاتے ہیں ۔!!! 🙁

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here