دیکھ رکھا ہے تمہیں اور تمہاری سپر پاور کو بھی

0
493

دیکھ رکھا ہے تمہیں اور تمہاری سپر پاور کو بھی. مت سمجھو کہ خس و خاشاک کی طرح ہمیں بہا کے لے جا سکو گے. ہم بگولوں سے شہ پا کے اڑنے والے زرے ہیں جو آنکھ میں پڑ کر اندھا کر دیتے ہیں.
افغانستان میں ہمارے جلائے دیے پچھلے تیس سال سے ہر طوفان کے دھارے پہ مسکرا رہے ہیں اور تم ان شعلوں کو بجھانے کی فکر میں ہو جنہوں نے ان دیوں کو بس آنچ دی تھی. کس دنیا میں ہو سائیں؟ سر پھری ہواؤں کا مزاج درست کرنا ہمیں آتا ہے تم زرا کھیل کی ابتدا کر کے تو دیکھو.
پینسٹھ کی جنگ میں ہمارے شہیدوں اور زخمیوں نے اس پاک مٹی کے ایک ایک زرے پہ اپنے لہو سے جو دیے روشن کیے تھے، مت سمجھو وہ مدھم ہو گئے ہیں. ہم آج بھی انہی کی روشنی میں اپنی منزل کی طرف چلتے ہیں. ناک بھر کے فاصلے پہ بیٹھا ایشیا کا کمینہ ترین دشمن چھ سو ٹینک لے کر ہمیں فتح کرنے نکلا تھا آج تک زخم سہلا رہا ہے. اور تم سمجھتے ہو کہ سات سمندر پار سے اٹھ کر آج ہمیں فتح کر لو گے؟ بھول ہے تمہاری. یہ دوہزار ایک نہیں دوہزار اٹھارہ کا پاکستان ہے. پاکستان یہ بازو پچھلے سترہ سال میں ہر طرح سے آزما چکا ہے جن سے تم رعب دکھانے کی فکر میں پڑے ہو.
سنگین علی زادہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here