دھوکہ ،فریب، منافقت، عیاری و مکاری اور بے شرمی ہمارے ان بادشاہوں کی نمایاں صفات ہیں۔ انکا مطلوب و مقصود صرف اقتدار کا حصول اور انکا خدا صرف زر ہوتا ہے اور زر ہی ان کے اقتدار کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ 

0
1648
سنا ہے پرانے زمانے میں لوگ صبح شہر کا دروازہ کھولتے اور شہر میں داخل ہونے والے پہلے شخص کے سر پر بادشاہی کا تاج رکھ دیتے۔ پھر انکا نصیب۔ چاہے وہ اچھا ثابت ہو یا برا۔ 

عجیب احمق لوگ تھے ۔۔ کم از کم ہم ویسا رسک ہرگز نہیں لیتے۔ 

ہم نے “جمہوریت” کے نام سے ایک ایسا نظام وضع کر لیا ہے جس میں سوائے چند مخصوص صفات رکھنے والے لوگوں کے کوئی بادشاہ بن ہی نہیں سکتا۔ 

دھوکہ ،فریب، منافقت، عیاری و مکاری اور بے شرمی ہمارے ان بادشاہوں کی نمایاں صفات ہیں۔ انکا مطلوب و مقصود صرف اقتدار کا حصول اور انکا خدا صرف زر ہوتا ہے اور زر ہی ان کے اقتدار کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔

یہ کبھی کسی ایک بات یا نظریے پر قائم نہیں رہتے!

سیاست اور سیاسی چالوں کے نام پر یہ ہر نفرت انگیز کام کر گزرتے ہیں۔

حیران کن طور پر عوام انکے جھوٹ، منافقت اور فریب کی داد دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ آپ اکثر ان کی زبان سے اس قسم کے تحسین آمیز جملے سنتے ہیں۔

“اہو یہ تو بڑی شیطنت ہے” ۔۔۔۔۔ “آپ اسکو بدمعاشی کہیں لیکن اس میں ذہانت پائی جاتی ہے” ۔۔۔۔ “یہ چال کتنی صفائی سے کی گئی ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔ “اس فریب میں کتنی خوبصورتی ہے ، کتنی دیدہ دلیری ہے کیسی زبردست جسارت ہے”۔۔

جھوٹ اور منافقت سے عاری شخص کو یہ لوگ فوری طور پر کہتے ہوئے مسترد کر دیتے ہیں کہ ” اسکو تو سیاست ہی نہیں آتی” ۔۔۔۔۔۔۔ ” یہ کیسے حکمران بن سکتا ہے جو اس کے دل میں ہوتا ہے یہ بول دیتا ہے” ۔۔
اس بے مثل نظام کے ذریعے ہم زرداری، نواز شریف، فضل الرحمن اور الطاف حسین جیسے لوگوں کے سروں پر تاج رکھ چکے ہیں۔ اب انکی جگہ صرف وہی لے سکتا ہے جو اوپر بیان کی گئی صفات میں ان سے بڑھ کر ہو۔۔۔

یا پھر نظام لپیٹ دیا جائے!

تحریر شاہدخان

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here