دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔

0
678

دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔

جب سے انسان نے اس زمین پر قدم رکھا ہے حق اور باطل کی جنگ شروع ہو چکی ہے ۔ آپ نوٹ کیجیے باطل کا واحد اور سب سے بڑا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو اپنے حقیقی معبود کی راہ سے ہٹا لے اور اللہ کے غیر کی طرف لگا دے !

باطل نے ہمیشہ اس کے لیے مختلف بہروپ بھرے ہیں ۔ کبھی پتھروں کو وسیلہ بنایا ۔ کبھی لوگوں کی امیدوں کا مرکز سورج ،چاند، ستاروں اور درختوں کو بنایا اور کبھی انسانوں کو فرعون کی شکل میں خدا بنایا ۔ کہ ” یہ وہ صفات رکھتا ہے جو تم خدا میں ڈھونڈتے ہو ۔ یہی تمھاری امیدیں پوری کر سکتا ہے ۔ اسکے سامنے جھک جاؤ ” ۔۔۔

لیکن ان سب میں خامیاں ہوتی تھیں اور صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگ ہمیشہ انکے سامنے کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔ لیکن اب یہ جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے اور اسکے لیے باطل کی طرف سے سب سے بڑا اور سب سے خطرناک مہرہ میدان میں آنے والا ہے ۔ اس مہرے کو ایک آخری بار لوگوں کے سامنے خدا بنا کر پیش کیا جائیگا ۔

لیکن یہ آخری مہرہ یا فتنہ بظاہر خدائی صفات سے اس قدر لیس ہوگا کہ لوگوں کی اکثریت اس پر ایمان لے آئیگی ۔ حتی کہ حضور (ص) نے بھی اسکو پہچان لینے کے باوجود اس کے سامنے سے بھاگ جانے اور بچنے کا حکم دیا ہے ۔

اللہ فرماتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں ۔
یہ ظالم بھی جدید ترین سپر کمپیوٹرز کی مدد سے آپکی فیس بک ، کرڈٹ کارڈز اور موبائل فونز کے ذریعے آپ کی ہر حرکت پر اپنی اکلوتی آنکھ جمائے نظر رکھنے کے قابل ہو چکا ہے ۔

اللہ فرماتے ہیں میں رزق دیتا ہوں ۔
دنیا کی خوراک کو کنٹرول کرنے والے سب سے بڑے اداروں کی تعداد گیارہ ہے اور یہ گیارہ کی گیارہ کمپنیاں ان یہودیوں کی ہیں جو دجال کی عبادت کرتے ہیں ۔ ایسی فصلیں پوری دنیا میں پھیلائی جا رہیں ہیں جن کا بیج اور ادویات صرف یہ کمپنیاں ہی فراہم کر سکتی ہیں ۔ دجال رزق پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

اللہ فرماتے ہیں کہ میں بارشیں برساتا ہوں ۔
مصنوعی بارشیں برسانا اور روکنا آج عام سی بات ہے ۔ دنیا بھر میں اسکے بے شمار کامیاب تجربات ہو چکے ہیں ۔

اللہ فرماتے ہیں کہ میں ہدائت دیتا ہوں اور اللہ فرماتے ہیں (مفہوم) میں جانتا ہوں تم کیا سوچتے ہو ۔
دنیا کا چھیانوے فیصد میڈیا صرف چھ کمپنیوں کی ملکیت ہے اور یہ چھ کی چھ یہودیوں کی ہیں ۔ فیس بک ، گوگل حتی کہ ویکیپیڈیا بھی یہودیوں کا ہے ۔ ( ورنہ وکیپیڈیا پر کوئی متنازعہ معاملہ ایڈٹ کر کے دکھائیے جو انکے مفاد کے خلاف ہو) ۔۔ اس میڈیا کے ذریعے دجال نہ صرف لوگوں کو نئے نئے افکار اور نظریات دینے کے قابل ہو چکا ہے بلکہ انکی رائے بھی تبدیل کرنے پر قادر ہو چکا ہے ۔

اللہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار کرتا ہوں ۔۔۔ میں شفا دیتا ہوں ۔
ایڈز اور کانگو سمیت ایسی بیماریاں ایجاد کی جا رہی ہیں جن کا علاج وہ وائرس ایجاد کرنے والے کمپنیوں ہی کے پاس ہے ۔

اللہ فرماتے ہیں کہ میں سورج کو نکالتا اور غروب کرتا ہوں ۔
سورج کی حرکت کا تعلق دراصل زمین کی گردش سے ہے ۔ اور یہ تجربات جاری ہیں کہ اگر زمین کے کسی ایک قطب کی فضا کو الیکٹرانز کی بہتات کے ذریعے ڈی آئونائزڈ کر دیا جائے ۔ تو زمین کا مقناطیسی میدان تبدیل ہو جائیگا ۔ جس سے زمین کی گردش کو روکا جا سکے گا ۔ دوسرے لفضوں میں دجال لوگوں کو کہے گا کہ اگر تم کہو تو میں سورج کی حرکت کو روک دوں ؟

ان سب ہتھیاروں کے بعد جب وہ اپنی جادوئی اور شیطانی طاقتوں کے ساتھ میدان میں آئے گا تو قیامت برپا کر دے گا اور کوئی اسکا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

دجال کے بارے میں مختلف اور انتہائی متضاد اراء پائی جاتی ہیں ۔ لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ دجال ہوگا ۔۔۔۔۔۔ !

ہمارے کچھ نہایت قابل احترام علمائے کرام برمودہ ٹرائی ااینگل کے عجیب واقعات کی وجہ سے اس کو دجال کا ٹھکانہ خیال کرتے ہیں ۔ اس معاملے میں وہ بعض اوقات حد سے آگے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر حضور (ص) نے مشرق فرمایا تھا تو زمین کے گرد گھومتے ہوئے وہ مغرب ہی بن جاتا ہے ۔ اللہ معاف فرمائے ۔

درحقیقت دجال ایران میں ہے ۔ ایران میں ہی دجال سے کچھ نیک لوگوں کی ملاقات ہو چکی ہے بلکل حضرت تمیم داری (ر) کی طرح ۔ وہاں بالوں بھرے کسی مخلوق کی جگہ ایک نہایت موٹی بھنووں والی عورت نے انکی راہنمائی کی تھی ۔ دجال کا ایک ہاتھ اور پاؤں آزاد ہو چکا ہے ۔ وہ عنقریب خروج کرے گا ۔ وہ غضبناک ہوکر خروج کرے گا غالباً اپنی کسی ناکامی کی وجہ سے اور میرا دل کہتا ہے کہ اس ناکامی کا تعلق پاکستان سے ہوگا ۔

اس سے وہی لوگ بچ سکیں گے جنہوں نے حضور (ص) کی ہدایات پر من و عن عمل کیا ۔ ان لوگوں کے لیے ہر طرح کی خیر اور فلاح ہے جنہوں نے اپنے دلوں میں کلمے کو تازہ کیا زمین پر اپنی آمد کا مقصد یاد رکھا اور نماز کو قائم کیا ۔

اللہ ہم سب کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھے ۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here