خیبر پختونخواہ شدید بیغرتی کی لپیٹ میں

0
59
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیبر پختونخواہ شدید بیغرتی کی لپیٹ میں

غیرت پر جان دینے اور لینے والے پختونوں کی سرزمین پشاور سے نہایت پاوثوق ذرائع نے خبر دی ہے کہ خیبر میڈیکل کالج کی میل ہاسٹل میں رات کے وقت فی میل سٹوڈنٹ آتے جاتے ہیں
میں نے خود میڈیکل کالج کی ایک گروپ میں پوسٹ کرکے اس حوالے سے سوال پوچھا تو نیچھے کمنٹ میں خیبر میڈیکل کالج کی اکثر طالبعلموں نے اس خبر کی تصدیق کر دی جسکے میرے ساتھ سکرین شاٹ بھی موجود ہے اور اسکے ساتھ ساتھ خیبر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے اس کالج کی اندرونی کہانیاں جو مجھے بیان کی ہے وہ میں یہاں بیان نہیں کر سکتا 
حکومت تو چھوڑو انکا تو وفاقی وزیر تعلیم کی بیوی ہی بیکن ہاوس کے نام سے ایک کنجر خانے کی پرنسپل ہے ان سے تو کوئی توقع نہیں ہیں

لیکن کیا پختون قوم اس بیغرتی پر خاموشی اختیار کریگی ؟؟؟

اگر ہمارے تعلیمی اداروں کا یہ حال ہوگا پھر کون بیقوف اپنی گھر کی اپنی بہن بیٹی کو اس کنجر خانے میں بھیجیگا ؟؟؟

پھر تو خواتین کے اعلی تعلیم کا خدا ہی حافظ ہے کیونکہ پہلے ہی سے کو ایجوکیشن کی برکت سے اکثریت خواتین اعلی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے
کو ایجوکیشن سسٹم فحاشی پھیلانے اور کلچر کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے تعلیم کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اکثر لوگ میں نے دیکھے ہیں جو صرف اس وجہ سے اپنی بہن بیٹی کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتی کہ وہاں کو ایجوکیشن ہوگا
تو پھر کیوں نہ ہم انگریز کی اس ذہنی غلامی سے نکل کر کو ایجوکیشن سسٹم کو ختم کر دیں تاکہ ہماری خواتین بھی عزت کیساتھ پڑھ لکھ کر آگے جائیں ؟؟؟

میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز میں کو ایجوکیشن سسٹم نہ ہوتا تو خواتین کی تعلیممردوں سے زیادہ ہوتی


ہم ایک بار پھر ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کو ایجوکیشن پر مکمل پابندی عائد کر دی جائیں تاکہ خواتین بھی بڑی تعداد میں اعلی تعلیم حاصل کرے جو کو ایجوکیشن کیوجہ سے نہیں کر پا رہیں
ہم چاہتے بھی یہی ہے کہ پاکستان کے خواتین تعلیم یافتہ ہو اور خواتین کو تعلیم دینے کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں لیکن جب تک تعلیمی اداروں سے رات کی ڈانس پارٹیاں کو ایجوکیشن ختم نہیں کیا جاتا تو ہم خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو سننا بھی گوارا نہیں کرینگے

تحریر : امداد خان
Ban co education


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here