خون آشام چڑیل ۔۔۔۔۔۔

0
1361
خون آشام چڑیل ۔۔۔۔۔۔ !

اگر اندراگاندھی کو انسانوں کی پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ کی سب سے خون آشام خاتون کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس نے نہ صرف اپنے براہ راست حکم سے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا بلکہ ایک ایسا راستہ بھی چھوڑ گئی جو اس کے مر جانے کے بعد بھی انسانوں کی جانیں لے رہا ہے۔ 

بدنام زمانہ انڈین ایجنسی را 1968 میں اندرا گاندھی کے حکم پر تشکیل دی گئی جس نے آج دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ را کی پراکسی جنگ کی بدولت صرف پچھلے 10 سال کے دوران 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی اپنی جان سے گئے۔

را کے قیام کے فوراً بعد اندرا گاندھی کے حکم پر بنگالیون کو انڈیا بلوا کر انکو جنگی تربیت دی گئی اور 3 لاکھ جنگجو گوریلے تیار کیے گئے۔
ان “مکتی باہنی” گوریلوں کے ساتھ انڈین فورسز بھی بنگلہ دیشن میں گھس گئیں اور پاکستان کے حامیوں کا بے دریغ قتل عام شروع کر دیا۔
بنگلہ دیش کے ان آپریشنز کی نگرانی براہ راست اندراگاندھی خود کرتی تھیں۔

انہی آپریشنز میں اندراگاندھی نے ایک اور شیطانی چال چلی جسکا اعتراف بعد میں کئی انڈین جرنیلوں نے بڑے فخر سے کیا۔

انڈین فورسرز اور مکتی باہنی کے گوریلوں کو پاک فوج کی وردیاں پہنا کر مشرقی پاکستان میں داخل کیا جاتا۔ جہاں وہ عورتوں کی آبروزیزی کرتے اور مزاحمت کرنے والے بنگالیوں کو قتل کردیتے۔ میڈیا کے ذریعے اسکا سارا الزام پاک فوج پر لگا دیا جاتا۔

اس مکروہ کھیل کے نتیجے میں بلاآخر بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوگیا۔ اس پر انڈین دانشوروں نے اندرا گاندھی کا چانکیہ کی اصل جانشین قرار دیا۔

اس ساری خانہ جنگی میں 3 لاکھ سے 30 لاکھ کے درمیان لوگ مارے گئے۔

اپنی فتح پر اندرا گاندھی نے بڑے غرور سے کہا ” آج ہم نے مسلم قومیت ( دو قومی نظریہ ) کو خیلج بنگال میں غرق کر دیا” ۔۔۔ !

پوری دنیا کو اندرا گاندھی یہ بتانے میں مصروف رہیں کہ وہ مظلوم بنگالیوں کی مدد کر رہی ہیں جس پر امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اندرا گاندھی کو بوڑھی چڑیل قرار دیا۔

1974ء میں اندراگاندھی کی خصوصی کوششوں سے بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں شروع کر دیں۔ یوں اس خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہوگئی۔

1981ء میں اندرا گاندھی نے پاکستان پر ایٹمی حملے کا پروگرام بنایا جس وقت وہ انڈیا کی وزیر دفاع تھیں۔
اس بات کا انکشاف 2015ء میں سنٹرل انڈین انٹلیجنس کی جانب سے کیا گیا۔ اندرا گاندھی کو خوف تھا کہ جنرل ضیاء الحق نہ صرف امریکہ سے ایف 16 طیارے حاصل کر لے گا بلکہ وہ ایٹم بم کی تیاری کے بھی بہت قریب ہے۔
اندراگاندھی کے اس منصوبے کو اس وقت کی انڈین حکومت اور انڈین آرمی نے رد کر دیا اور اسکو پاگل پن قرار دیا۔

تاہم جیسے ہی وہ دوبارہ وزیراعظم بنیں تو اس نے فوراً اسرائیل کے ساتھ ملکر پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اندرا گاندھی کو خبردار کیا گیا کہ نہ صرف پاکستان کے جوابی ردعمل میں ایک باقاعدہ جنگ شروع ہوجائیگی بلکہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ سے نکلنے والی تابکاری سے پنڈی اور اسلام اباد میں کم از کم 40 سے 50 لاکھ لوگ متاثر ہونگے یا شائد ہلاک ہوجائیں۔
اس حملے کی اطلاع بروقت پاکستان کو مل گئی اور جنرل ضیاء نے بھا بھا نیوکلئیر پلانٹ پر جوابی حملے کی تیاری کر لی جس پر انڈیا کو اپنا حملہ منسوخ کرنا پڑا۔

یہاں ناکامی ہوئی تو اس نے سیاچن کی کچھ اہم چوٹیوں پر قبضہ کر لیا اور طویل سیاچن جنگ کا آغاز کیا۔

اندرا گاندھی کے حکم پر انڈین فوج سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل پر چڑھ دوڑی اور سینکروں سکھ زائرین کو قتل کردیا اور گولڈن ٹیمپل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں جو فسادات پھوٹے میں ان میں 10 ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کیا گیا۔
اسی دوران اندراگاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کر دیا۔

اندرا گاندھی پر اس کے اپنے ہی بیٹے سنجیو گاندھی کے قتل کا بھی الزام ہے۔
دراصل سنجیو گاندھی کو شک ہوگیا تھا کہ وہ محمد یونس نامی مسلمان کا بیٹا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اسکو جب کوئی کام ہوتا تھا ہو فوراً اندرا گاندھی سے سوال کرتا تھا کہ اسکا اصل باپ کون ہے؟ ۔۔۔ جس کے بعد اندرا گاندھی اسکا کام کر دیتی تھیں۔
صورت حال یہ بن گئی تھی کہ سنجیو گاندھی درپردہ انڈیا پر حکومت کرنے لگا تھا۔ جس کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے مبینہ طور پر اندرا گاندھی نے اپنے بیٹے کو سازش کر کے طیارے کے ایک حادثے میں مروا دیا۔

نہرو کی بیٹی اندرا پریادرشنی (بعد میں اندرا گاندھی) کی جوانی بھی کافی شرمناک رہی۔
ذہین و فطین اندرا گاندھی کو تعلیم کےلئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخل کرایا گیا لیکن وہاں اپنی “غیر تعلیمی مصروفیات” کی وجہ سے اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی جس وجہ سے اسے وہاں سے نکال دیا گیا۔ بعد میں اس نے شنٹنکٹن یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن یہاں سے بھی اسے گرودیورا بندراناتھ ٹیگور نے اپنے غیراخلاقی رویہ پر بھگادیا۔
یونیورسٹی سے تو بدنام ہو کر نکل چکی تھی۔ والد نے سیاست میں مشغول کیا لیکن اس کے کرتوت جاری رہے جنکی تفصیل اس کے ڈرائیو نے ایک کتاب میں محفوظ کی۔

فیروز خان نامی مسلمان نوجوان سے جب اندرا کے تعلقات خطرناک حد تک بڑھ گئے تو
تو نوجوان اندرا بظاہر مسلمان ہوگئی اور لندن کی ایک مسجد میں دونوں نے شادی رچالی۔ شادی کے بعد اندرا پریادرشی نہرو نے اپنا نام تبدیل کرکے اسلامی نام میمونہ بیگم رکھا۔
اسی نوجوان فیروز نے بعد میں نہرو کے دباؤ پر مذہب تو تبدیل نہ کیا البتہ نام تبدیل کر لیا۔ وکیپیڈیا اس حوالے سے آپ کو کچھ اور قصے سنائیگا لیکن ظاہر ہے وہ ترمیم شدہ ہیں۔

یہ ہے وہ اندرا گاندھی جسکی کتاب شیر کرنے پر مولانا فضل الرحمن کے کچھ پیروکار بلبلا اٹھے تھے اور اس کو عورت کی توہین قرار دیا تھا۔

تحریر شاہدخان

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here