خودساختہ دانشوری ۔۔۔۔۔۔

0
1225

خودساختہ دانشوری ۔۔۔۔۔۔ !

چند دن پہلے میرے سر پر پورے پچاس ٹانکے لگے۔ لیکن کھوپڑی محفوظ رہی اور کھوپڑی کے اندر موجود مغز بھی ۔۔۔( مجھ سے ہمدردی کیجیے ) ۔۔۔ 

چونکہ کھوپڑی ڈیمیج نہیں ہوئی اس لیے اوٹ پٹانگ خیالات کا سلسلہ نہیں تھما۔ سوچا آج آپ سے ان میں سے کچھ شیر کروں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً

اسلام کے حوالے سے ۔۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں صحابہ نے جو بے مثل معاشرہ قائم کیا تھا اسکی بنیاد ان کے دلوں میں موجود ” ایمان” تھا نہ کہ کوئی ریاستی جبر اور ایمان “نافذ” نہیں کیا جا سکتا۔

مجھے لگتا ہے کہ خلافت “فرض” نہیں بلکہ “تحفہ” ہے جو تب ہی ملے گا جب اسکی شرائط پوری کی جائنگی۔ ان شرائط کو پورا کیے بغیر اسکے قیام کی کوشش میں فتنے کے سوا کچھ نہیں۔

میرے خیال میں عقائد مکمل ہیں اور صحابہ کرام کے بعد اسلام کے کسی نئے عقیدے پر بات کرنا یا کوئی نیا عقیدہ اپنانا خطرناک ہے۔

مجھے لگتا ہے گمراہ علماء نے جہلا کی نسبت اسلام کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

میرے خیال میں پوری امت مسلمہ میں اگر کوئی ایک جماعت اس طریقے پر ہے یا اس سے قریب تر ہے جو حضورﷺ چھوڑ کر گئے تھے تو وہ تبلیغی جماعت ہے۔

میرے خیال میں دعوت کے کام کی دہشت گردوں اور موبائل فونز نے کمر توڑی ہے۔

اور بھی بہت کچھ محسوس ہوتا ہے لیکن فلحال اتنا ہی۔ 

چونکہ معاملہ اسلام کا ہے اس لیے صاحب علم حضرات سے اصلاح کی درخواست ہے کوشش کیجیے کہ گالیاں دے کر اصلاح نہ کریں ۔۔۔۔ !

ۤۤۤۤ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سیاست ۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں جمہوریت ایک شخص کو اکثریت کی رائے کا تابع کر دیتی ہے جو قطعاً غیر فطری ہے اور باعث انتشار ہے۔ بلکہ اکثریت کو ایک شخص کا تابع ہونا چاہئے۔

میری رائے میں قومی نوعیت کا کوئی بھی منصوبہ ایک اور صرف ایک ذہن کی پیدوار ہونا چاہئے۔ مختلف اذہان کی تیار کی گئی شقیں نہ صرف جامعیت سے محروم رہتی ہیں بلکہ منصوبے کے خفیہ پہلوؤں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

میرے خیال میں خواتین کو کبھی باقاعدہ مجلس شوری کا حصہ نہیں بنانا چاہئے۔

میرے خیال میں پاکستان صرف آمریت میں سنبھلا ہے اور جمہوریت نے سوائے تباہی اور انتشار کے کچھ نہیں دیا۔

میرے خیال میں پاک فوج کو صرف ایک چیز شکست دے سکتی ہے۔ سیکولرازم اور لبرازم۔ اس ایمان یا یقین سے ان کو محروم کر دینا جس کے بل پر وہ لڑتی ہے۔

سارا نہیں لکھ سکتا بھئی ۔۔۔۔۔۔ 

سائنس ۔۔۔۔

مجھے زمین کے گول ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن اس کے ساتھ دیگر اجرام فلکی کی حرکت پر شک ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ویسا نہیں جیسا ہمیں سائنس بتاتی ہے۔ یہ شک مجھے تب ہواجب میں میٹرک میں تھا اور سارا سال ایک جیسے ستارے دیکھا کرتا تھا۔ جبکہ اصولاً ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔۔ اب فلیٹ ارتھ والے سامنے آئے ہیں وہ اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں۔

میرے پاس کبھی نہ ختم ہونے والی اور ری یوزیبل توانائی کا ایک ڈیزائن ہے جس کا بہت چھوٹا سا ماڈل آزما چکا ہوں جو محض زمین کی کشش ثقل کے سہارے ایک پہنے کو لامحدود وقت تک کے لیے گھما سکتی ہے۔ 

میرے پاس گوگل کے بہتر سرچ ریزلٹس کے لیے ایک ایسا ڈیزائن ہے جس کے نتائج ٹائپ کے گئے کی ورڈز کے عین مطابق ہونگے جو گوگل کی موجودہ لاگرتھم سے بدرجہا بہتر ہونگے اور لوگوں کے ریزلٹس دیکھنے کے لیے زیادہ سر نہیں کھپانا پڑے گا ۔۔۔ 

میرے خیال میں ” کراپ سرکلز ” کا پراسرار عمل پاکستان میں بھی فصلوں میں ہوتا ہے اور فصلیں گرنا اسی کا نتیجہ ہے گو کہ یہاں ان میں پیٹرنز نہیں بنتے۔

میرے خیال میں روح کے لیے زمان و مکان کے فاصلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ مثلاً محض کروٹ بدلنے کے لیے عارضی موت میں مبتلا جسم میں اچانک جان پڑ جاتی ہے اور روح کہیں دور سے اچانک آکر جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ کسی کے پکارنے پراچانک جاگنے میں بھی یہی عمل ہوتا ہے۔ 
جہاں تک زمانے یا وقت کی بات ہے اکثر یوں ہوا کہ جاگنے کے فوراً بعد واقع ہونے والی کسی چیز کے لیے خواب میں پہلے ہی نقشہ تیار تھا۔ مثلاً دشمن سے لڑائی اور اسکی گن کی فائرنگ پر جاگا تو کوئی دروازہ بجا رہا ہے ۔۔  
خواب نے یہ نقشہ کیسے پہلے سے تیار کیا ؟ ۔۔  ۔۔۔

میرے خیال میں جنات انسانوں سےکمزور ہوتے ہیں اور عقائد اور زبانوں کے لیے انسانوں کو فالو کرتےہیں۔ میرے خیال میں جنات تب تنگ کرتے ہیں جب انہیں لگے کہ کوئی شخص ان کو دیکھ رہا ہے یا ان کو محسوس کر رہا ہے۔ 
شائد ان کو ایسی فلینگز آتی ہوں جیسی ہمیں تب آتی ہیں جب کوئی ہماری پرائویسی میں مداخلت کرتا ہے یا جھانکے۔ 
مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جنات کسی جسم میں ایک بار سرائیت کر جائیں تو وہاں وہ راستہ بنا لیتے ہیں اور اگلی بار وہاں جانا آسان ہوتا ہے اور انسان پر جب بھی کوئی جذباتی کیفیت طاری ہو تو وہ اس کو جنات کےلیے کمزور کر دیتی ہے۔

میرے پاس فیس بک کا ایک ایسا متبادل ڈیزائن ہے جو فیس بک کے یوزرز کو بھی کھینچ سکتا ہے اور لوگ اس کو فیس بک سے زیادہ وقت دینے پر مجبور ہونگے۔

میں نے ایک ایسے موبائل ایپ کا نقشہ بھی بنایا ہوا ہے جو دنیا بھر کی انفارمیشن کو سمیٹنے میں دنیا کے تمام بڑے بڑے اداروں پر بازی لے جائیگا۔ اسکی مدد سے وہ انفارمیشن نہایت تیزی سے اکھٹی کی جا سکے گی جس کو پانے کے لیے لاکھوں روپے اور کئی مہینوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔۔۔۔ 

مجھے خوش فہمی ہے کہ میں نے میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کی ہوتی تو شائد کوئی چھوٹا موٹا سائنس دان بن جاتا ۔۔۔ 

یہاں بس کر دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس جس نے مذاق اڑانا ہے جی بھر کے اڑا سکتا ہے۔۔۔۔ 

نوٹ ۔۔ یہ سب قطعاً میرے ذاتی خیالات ہیں۔ کہیں بھی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here