خواجہ سرا سے ملاقات

0
24

ایک ایسی شام جو میرے ذہن میری روح سے منسلک ہو چکی ہے، ایک مرتبہ اپنے بہت ہی پیارے دوست سے ملنے راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا
دو دن بہت موج مستی میں گزرے، تیسری شام جب میں دوست کے گھر سویا ہوا تھا تو اسکی کال آئی کہ ایک جگہ دعوت پر جانا ہے، جلدی سے تیار ہو جاؤ ، جیسے ہی جاب سے واپس آؤں گا تو کھانا فلاں جگہ کھائیں گے

مگر جب جگہ کا نام سنا تو میں اس سے معذرت کرنے لگا کیونکہ مجھے بچپن سے ہی ان لوگوں سے عجیب الجھن رہی تھی
شادی یا کسی مہندی کے فنکشن میں اگر انہے دیکھ لیتا تو چاہے جتنے بھی قریبی ہوں میں وہ فنکشن چھوڑ آتا تھا

مگر وہ دوست بھی تھا اور کزن بھی، اور ایسا دوست جسکی بات رد کرنا ناممکن تھا اور پھر جب اس نے کہا کہ دعوت کا انتظام ہے آپ کے لیئے کیا گیا ہے
جب انہے پتہ لگا کہ میرا کزن آیا ہوا ہے تو انہوں نے دعوت کے لیئے اصرار کیا اور کھانے کی تیاری شروع کر دی، پھر مجھے بھی حامی بھرنی پڑی اور فریش ہو کر دوست کے ساتھ خواجہ سرا کے گھر پہنچ گیا۔

وہ چار لوگ تھے اور بڑے ادب احترام کے ساتھ ہمیں بٹھایا گیا اور سلام دعا کے بعد کھانا لگایا گیا،طرح طرح کے کھانے پیش کیئے گئے ، دعوت کا اہتمام اور خلوص دیکھ کر میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوا کہ اگر میں آج نہ آتا تو ان کے خلوص کو ٹھیس پہنچتی
خیر خواجہ سرا ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے اور کھانے کے بعد جب چائے آئی تو اس وقت تک میں کچھ کمفرٹ زون میں آ چکا تھا

پھر خواجہ سرا اپنی اپنی داستان سنانے لگے اور مجھے میرا خون جمتا ہوا محسوس ہونے لگا
کیسے ان کے ماں باپ نے انہے شرمندہ ہو کر گھر سے نکالا ؟؟؟

خاندان والوں کا رویہ اور گلی محلے کی لعنتیں بھائی بہن ماں باپ سب کا ان سے قطع تعلق کرنا
خواجہ سرا یہ باتیں پھیکی مسکراہٹوں کے ساتھ بتاتے رہے انکے قہقہوں اور ہنسی کا درد آنکھوں کی نمی مگر لبوں پر مسکراہٹیں جان لیوا تھی
میں حیرت کا مجسمہ بنے ان کے ضبط پر حیران تھا

جب ہنستے ہوئے ایک نے کہا کہ اب ہمارا کیا قصور ؟؟؟

کہ اللہ نے ہمیں خواجہ سرا بنا دیا مگر باہر تو باہر گھر میں بھی ہمیشہ زلیل و رسوا ہوئے ہیں ہمارے ماں باپ بہن بھائی ہم سے بات کرنا پسند نہی کرتے ہمیں گھر سے نکال دیا گیا کبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو جائیں تو اپنے شہر اپنی گلی جا کر چھپ چھپ کر گھر والوں کو دیکھ آتے ہیں

کس ازیت میں زندگی گزارتے ہیں ؟؟؟

لوگوں کو کیا معلوم ؟؟؟

ہمیں تو انسان ہی نہی سمجھا جاتا
دنیا کی غلاظت اور دھکے سب ہمارے نصیب میں لکھ دیئے گئے ہیں ہمارے دن رات کس ازیت میں گزرتے ہیں کوئی نہی جانتا ہم ہنستے ہوئے نظر آتے ہیں مگر دل اور روح اسقدر چھلنی ہے کہ خون رسنا بند نہی ہوتا

میرا سر درد سے پھٹنے لگا تھا میں صرف سن کر ہی اس ازیت میں مبتلا تھا تو جن پر بیت رہی ہے بچپن سے انکا سوچ کر میری آنکھیں برسنے لگی اٹھنے کی سکت باقی نا رہی انکے گھر سے نکلتے ہی زمین پر بیٹھ کر انکی سب باتوں کو دہرانے لگادوست بھی پریشان تھا خیر اگلی کئی راتیں عجیب کیفیت میں مبتلا رہا

آج بھی سوچتا ہوں تو کپکپی تاری ہو جاتی ہے اور آنکھیں درد کرنے لگتی ہے خدارا شفقت سے پیش آیا کریں اس ذات کے ساتھ
سوچتا ہوں ہمارے دکھ بھلا کیا دکھ ہیں ؟؟؟

ہماری پریشانیاں بھلا کیا پریشانیاں ہیں ؟؟؟

ہم تو جھوٹی محبتوں کے دکھ میں کئی سال رنجیدہ رہتے ہیں ؟؟؟

محبت، بے وفائی، لاپروائی، بے عزتییہ دکھ تو بہت چھوٹے ہیں شاید خواجہ سرا کے ایک دکھ کے برابر بھی نا ہوں جن پر ہم روتے نہی تھکتے

ہم نا شکرے لوگ ہیں ، جھوٹے رشتوں کے غموں کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں۔ دکھ درد ازیت بیزاریت ہم حقیقت میں ان سے واقف ہی نہی ہیں، ہم بناوٹی رشتوں کا رونا روتے ہیں

ماں باپ بہن بھائی کی طرف سے دھتکارے جانے کا غم
مگر میں آج بھی سوچتا ہوں کہ قصور وار کون ہے ؟؟؟

جب سے خواجہ سرا کی کہانی انہی کہ ہنستے لبوں سے سنی ہے تب سے یہی سوال پریشان کرتا رہتا ہے

قصور وار کون ہے ؟؟؟

خواجہ سرا کا اس جنس میں ہونا یہ قصور ان کا ہے ؟؟؟

ماں باپ بہن بھائی کا انہے چھوڑ دینا ؟؟؟

زمانے بھر کی لعنتیں اور غلاظت سب انکے لیئے ہی کیوں ہیں ؟؟؟

آخر قصور وار کون ہے ؟؟؟

یہ ازیت یہ تکلیف انکے نصیب میں کیوں ہے ؟؟؟

کون ہے قصور وار آخر ؟؟؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here