ختم نبوت پر حملے کے بعد یہ بدمعاش خاندان مدینے میں رسول اللہ کو راضی کرنے نہیں بلکہ

چونکہ جدید طریقے سے شراب کی تیاری میں زہریلا پانی اور زہریلا دھواں پیدا ہوتا ہے اس لیے اہل علاقہ نے احتجاج کیا۔ جس پر انتظامیہ نے اہل علاقہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا اور پیسے دینے کے علاوہ وعدہ کیا کہ زہریلے پانی کو صاف کرنے کے لیے 65 لاکھ روپے کا پلانٹ لگایا جا رہا ہے جو پانی کو صاف کرنے کے بعد اسکی نکاسی کرے گا۔

0
875

اطلاع ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ 

شریف خاندان کی ملکیت رمضان شوگر مل چینیوٹ میں شراب بنانے والی فیکٹری کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ 

اس کی اجازت ڈی سی او آفس سے مل چکی ہے۔ 

چونکہ جدید طریقے سے شراب کی تیاری میں زہریلا پانی اور زہریلا دھواں پیدا ہوتا ہے اس لیے اہل علاقہ نے احتجاج کیا۔

جس پر انتظامیہ نے اہل علاقہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا اور پیسے دینے کے علاوہ وعدہ کیا کہ زہریلے پانی کو صاف کرنے کے لیے 65 لاکھ روپے کا پلانٹ لگایا جا رہا ہے جو پانی کو صاف کرنے کے بعد اسکی نکاسی کرے گا۔

ساتھ ہی گاؤں میں 50 نلکے مفت لگانے کا بھی وعدہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ رمضان شوگر مل سے زیر زمین زہریلے پانی کی نکاسی کی وجہ سے چاروں طرف 20 کلومیٹر تک کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا ہے۔

آپ کا یاد ہوگا کہ کچھ عرصے پہلے لندن میں بھی نواز شریف کی ملکیت ایک شراب خانے کا انکشاف ہوا تھا۔

فضل الرحمن اور ساجد میر کو اس لیے اعتراض نہیں کہ ان دونوں کو غالباً مفت پلانے کا وعدہ کیا گیا ہوگا۔

ختم نبوت پر حملے کے بعد یہ بدمعاش خاندان مدینے میں رسول اللہ کو راضی کرنے نہیں بلکہ شاہ سلمان اور راحیل شریف کو راضی کرنے گیا تھا اور ناکامی پر لندن واپس بھاگ گئے۔

گستاخان رسول کی پشت پناہی کرنے والے مسلمان کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here